دہشت گردی اور قومی اتفاق رائے

دہشت گردی اور قومی اتفاق رائے

صدر زرداری نے پہلی باردہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف کھل کر اظہار خیال کیا ہے- ایوان صدر میں ساﺅتھ ایشیا ءفری میڈیا ایسوسی ایشن کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ممکن نہیں - ان کے خلاف سیاستدانوں میں اتفاق رائے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو آپریشن کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہئے ملک میں کتنے مدرسے ہیں اور انہیں متحد ہوتے ہوئے کتنی دیر لگتی ہے۔ ملالہ سمیت دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہر بچے کا دکھ میرا اپنا ہے لیکن اس موقع پر آپریشن کے لئے اتفاق رائے ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف چین کے سوا کوئی مدد دینے کو تیار نہیں۔ سلمان تاثیر کو شدت پسندوں نے قتل کیا تو کوئی وکیل سامنے نہیں آیا بلکہ ملزم کے لئے ایک سابق چیف جسٹس رضاکارانہ طور پر تیار تھے۔اتفاق رائے کے بغیر آپریشن شروع کرنا ´خطرات سے خالی نہیں اور موجودہ صورت میں اپوزیشن سے اتفاق رائے کی بات کرنا بے سود ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عسکریت پسندوں کو اپنی سرحدوں سے باہر کارروائی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات مل بیٹھیں اور انتہاپسندی کی سوچ کو شکست دینے کے لئے حکمت عملی کی تیاری میں مدد دیں۔صدر آصف علی زرداری کے ان خیالات سے یہ واضح ہوا کہ دہشت گرد ملک میں موجود ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کیلئے سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود نہیں۔ ہم ابھی ان کے خلاف کسی فیصلہ کن کارروائی کے لئے اس لئے حوصلہ نہیں کرسکتے کہ ہماری اندرونی سیاست اور گروہی مفادات کی بنا پر اس معا ملے میں قوم یک سو نہیں ہے۔ انہوں نے آپریشن کرنے کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر مدرسوں کا ذکر کیا اور یہ تاثر دیا کہ آپریشن کی صورت میں وہ فور اًاس کے خلاف متحد ہوجائیں گے۔ صدر زرداری کی اس بات میں اس لحاظ سے تو صداقت موجود ہے کہ مذہبی تعلیم کے مراکز اور مذہب کو سیاست میں گھسیٹنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی صورت میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہوجائیں گے اور ملکی سالمیت اور عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانے سے بڑھ کر انتخابات کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی سیاست کو عزیز جانیں گے۔ لیکن ان کی اس بات سے جو یہ تاثر ملتا ہے کہ مذہبی تعلیم کے ادارے (مدرسے) فورا ً دہشت گردوں کی حمایت میں متحد ہوجائیں گے بظاہر درست نہیں لگتا ۔ جن لوگوں نے مذہب اور مذہبی اداروں کو اپنی سیاست کی بنیاد بنانا ہے وہ اپنی سطح پر ایسی کوشش کرسکتے ہیں لیکن یہ بات بھی نہیں کہ وہ جن عوام میں آ کر اپنی سیاست کرتے ہیں ان کے جان ومال کو خطرات کے سپرد کرکے دہشت گردوں کا ساتھ دیں۔ جن رہنماﺅں اور بالخصوص مذہبی رہنماﺅں کے بیانات سے دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے کا تاثر ملتا ہے ۔ وہ بھی خود کش حملوں، افواج پاکستان پر حملہ کرنے والوں اور بے گناہ شہریوں کے جان ومال سے کھیلنے والوں کو پاکستان کے دشمن ہی سمجھتے ہیں، لیکن یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان سے اکثر محب وطن پاکستانی تھے، جن کے بچے ڈرون حملوں میں مارے گئے یا جنہیں افغانستان سے متعلق پاکستان کی غلط پالیسیوں سے نقصان پہنچا اور وہ پاکستان کے دشمن بن گئے۔ اب آئندہ بھی ہمیں کسی آپریشن وغیرہ کے وقت غلطیوں سے بچنا چاہئیے تاکہ مزید محب وطن قبائلی بے گناہی میں نقصان اٹھا کر پاکستان اور پاکستانی عوام کے دشمن نہ بنیں ۔ اس لیڈر شپ کا یہ موقف بھی ہے کہ تمام عسکریت پسند پاکستان کے مخالف نہیں ان میں سے بہت سے پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے سے اہل پاکستان سے ہمدردی رکھتے ہیں اور صرف ، امریکہ اور اتحادی طاقتوں کے دشمن ہیں یا خود پر حملہ کرنے والوں کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو دولت کمانے اور اپنی طاقت بڑھانے کے لئے اغوا برائے تاوان کی کارروائیوں میں مصروف اور دشمن سے امداد لے کر پاکستان کی سلامتی کے لئے سرگرم ہیں۔ یہ ہمارے لئے اصل مسئلہ ہیں۔ ان کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں بلکہ خفیہ ایجنسیوں کے درست کام اور پولیس یا پیرا ملٹری فورسز کی مستعد کارروائیوں سے ہی ان کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ ہمیں امریکہ کی خواہش پر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ شمالی وزیرستان میں امریکہ مخالف لوگ تو ہو سکتے ہیں، جس طرح سارے پاکستان میں امریکہ مخالف لوگ موجود ہیں لیکن شمالی وزیرستان میں پاکستان دشمنوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو گی جن کو وہاں کے پاکستان دوست عوام کی مدد ہی سے قابو کیا جاسکتا ہے۔ اس مذہبی قیادت کا یہ موقف بھی ہے کہ امریکہ اب افغانستان سے واپس جانے والا ہے لیکن ہم سے غلط کام کراکے اپنی مصیبت ہمارے گلے ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کی قیادت کے علاوہ اس کے حامیوں کی ایک بڑی تعدا د کا خیال یہ ہے کہ ہمارے شہروں پر خود کش حملوں اور دوسری کارروائیوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے اور انہیں لوٹنے اور اغوا کرنے والوں سے ہر صورت نمٹنا چاہئے یہ لوگ سوات پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے عقائد روشن خیال لوگوں پر ٹھونسنے ، تعلیم بالخصوص بچیوں کی تعلیم دشمنی اور اپنی دوسری کارروائیوں سے اپنا اصل روپ ہمیں دکھا چکے ہیں۔ یہ جمہوریت اور جدید تہذیب کے دشمن ہیں اور اپنے عقائد بندوق کے زور پر پورے پاکستان پر ٹھو نسنا چاہتے ہیں۔ ملا لہ یوسف زئی پر حملے کے بعد طالبان کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے واقعہ نے ایسے نقطہ نظر کے حامیوں کے خیالات کو اور بھی زیادہ تقویت پہنچائی اور دنیا بھر کے لبرل اور جمہوریت پسندوں، انسانی حقوق کے حامیوں کی طرف سے اس واقعے کی سخت مذمت اور ملالہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ لبرل حلقوں کی طرف سے اس واقعہ کے بعد طالبان یا دوسرے انتہا پسندوں کے خلاف جس طرح کارروائی کے مطالبات ہوئے اس سے مذہبی حلقوں کی طرف سے یہ محسوس کیا گیا کہ یہ لوگ اس آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ان دونوں طرح کے نقطہ ہائے نگاہ کے باوجود صدر زرداری کی طرف سے ظاہر کی گئی مشکلات حقیقی ہیں۔ ان کی طرف سے سابق گورنر پنجاب کے ایک پولیس اہل کار کے ہاتھوں قتل اور اس کے بعد قاتل کے حق میں پیدا کی گئی جذباتی فضا کا ذکر بہت صحیح ہے ، اسے اندھی جذباتیت ہی کہا جاسکتا ہے۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر بھڑکانے کے امکانات اور عوامی سوچ میں مذہب کے نام پر پیدا کی جانے والی انتہا پسندی کی وجہ سے ہے کہ آج ہم فرقہ واریت کے علاوہ خود کش حملوں جیسی آفات کا سامنا کررہے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری صدر مملکت ہیں ۔ تمام تر سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر قومی سلامتی اور یک جہتی کے لئے سوچنا سب سے پہلے ان کی ذمہ داری ہے۔ افہام وتفہیم کے ذریعے اس معاملے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جامع پروگرام یا کوشش سامنے نہیں آئی ۔ انہیں چاہئیے کہ یہ معاملہ انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کے بجائے اپنا فرض ادا کرنے کے لئے آگے آئیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا کنونشن بلائیں اور مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کریں۔ ایسا نہ کیا گیا تو ان کی اس تقریر میں ظاہر کئے گئے مایوسی پر مبنی خیالات سے عسکریت اور انتہاء پسندوں کے سوا کسی اور کو فائدہ نہیں پہنچے گا ۔ انہوں نے تقریر میں یہ کہہ کر اپنی اسی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ تمام طبقات کو مل بیٹھ کر انتہا پسندی کو شکست دینے کے لئے متفقہ لائحہ عمل کی تیاری کےلئے تجاویز دینی چاہئیں۔

 

مزید : اداریہ