اصغر خان کیس، عدالتی فیصلے سے پیپلزپارٹی فائدے میں رہی ہے

اصغر خان کیس، عدالتی فیصلے سے پیپلزپارٹی فائدے میں رہی ہے
اصغر خان کیس، عدالتی فیصلے سے پیپلزپارٹی فائدے میں رہی ہے

  

 پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان الفاظ کی جنگ میں جو شدت آئی وہ غیر متوقع نہیں، عدالت عظمیٰ کی طرف سے ایئرمارشل (ر) اصغر خان کی درخواست کے فیصلے اور مختصر حکم نامے نے نیا میدان مہیا کردیا ہے ۔ اب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ چور اور دھوکے باز بے نقاب ہوگئے اور حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق تحقیقات کرا کے وہ رقوم بھی وصول کرے گی جو خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے تقسیم کیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق ایف آئی اے کے اہل ترین افسروں سے تحقیقات کرائی جائے گی۔ لیکن دوسری طرف قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے ایف آئی اے سے تحقیقات کو مسترد کردیا اور ایک خود مختار کمیشن بنانے کامطالبہ کیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک کے ماتحت محکمے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ پیپلزپارٹی والے اسے توہین عدالت قرار دے رہے ہیں، کہ یہ حکم تو عدالت عظمیٰ نے دیا ہے چنانچہ ان کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم بنائی جانے والی ہے ۔ ادھر عمران خان کو بھی مسلم لیگ (ن) پر نیا حملہ کرنے کا جواز مل گیا اور انہوں نے صدر زرداری کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرا کے ثابت کریں کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اصل میں دونوں ایک نہیں ہیں۔ اب تو یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ قائد حزب اختلاف کیسا کمیشن چاہتے ہیں اور اس کی تشکیل کیسے ممکن ہوگی کہ وہ تو خود ہر نامزدگی مسترد کردیتے ہیں۔ یہ صورت حال سیاست اور سیاسی ماحول کے لئے قطعی خوشگوار نہیں، آنے والے انتخابات اور نگران حکومت کے قیام میں بھی مشکلات پیش آئیں گی، اس لئے تحقیقات تو بہرصورت ہونی چاہئیں تاکہ بات واضح ہوجائے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ تحقیقات کے بعد بھی ثبوت ممکن نہیں ہوگا کہ رقوم کی تقسیم والی تفصیل اسد درانی کی مہیا کردہ ہے ، اس پرمسلم لیگ (ن) کو اعتراض اور تحفظات تھے جبکہ حکومت اور پیپلزپارٹی اسے درست سمجھتی ہے ، ایسی صورت میں رقم دینے اور اس کی وصولی کے ثبوت در کار ہوں گے جو موجود نہیں ہیں کیونکہ رقوم دیتے ہوئے کسی سے باقاعدہ رسید تو نہیں لی گئی، اس لئے زیادہ تر یہ معاملہ بیان بازی تک ہی محدود رہے گا۔ یہ تو اُن سیاست دانوں کا معاملہ ہے جن کو رقوم دینے کا دعویٰ کیاگیا یا بیان حلفی میں ذکر ہوا اور عدالت عظمیٰ کے فل بنچ نے اسی حوالے سے فیصلہ بھی سنایا لیکن واضح ہدایت یا حکم تو مرحوم صدر اسحق خان ، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) اسد درانی کے بارے میں ہے۔ اب یہ امر بھی زیر بحث ہے کہ سابق فوجی حضرات کے لئے کارروائی کس انداز سے ہوگی۔ حکومت نے تو عندیہ دیا ہے کہ اس سلسلے میں عسکری قیادت سے مشورہ کیاجائے گا جس نے حال ہی میں ریٹائرڈ افسروں کو واپس بلاکر ان کے خلاف کورٹ مارشل کی انکوائری کی۔ بہرحال یہ بھی ایک رکاوٹ ہی ہے ورنہ تو واضح حکم کے مطابق حکومت کو خود فوری کارروائی کرنا چاہیے۔ اس بارے میں مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سارے فسانے میں اہم ترین کردار کا ذکر نہیں۔ جنرل (ر) حمید گل نے ایک سے زیادہ مرتبہ فخر سے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے آئی جے آئی بنوائی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی تمام تر بنیاد ہی آئی جے آئی کا قیام ہے کہ رقوم بھی تو پیپلزپارٹی یا بقول علی اصغر پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کو ہرانے کے لئے تقسیم کی گئیں اور اس مقصد ہی کے لئے آئی جے آئی بنایاگیا جس کا اعتراف جنرل (ر) حمید گل خود کرتے ہیں لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ سیاستدان خود کو کلیئر کرالیں گے۔ وہ ان کو سزا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اپنے کردار اور عمل کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہتے، مختصر عدالتی حکم بھی خاموش ہے ۔ تفصیلی فیصلے میں اگر آئی جے آئی کے حوالے سے یہ ذکر آگیا تو الگ بات ہوگی، بہرحال اس فیصلے سے پیپلزپارٹی فائدے میں رہی ہے ۔ 

مزید : تجزیہ