مسلم لیگ ن یا کوئی دوسری جماعت ایف آئی اے کی تحقیقات سے انکار نہیں کرسکتی

مسلم لیگ ن یا کوئی دوسری جماعت ایف آئی اے کی تحقیقات سے انکار نہیں کرسکتی
مسلم لیگ ن یا کوئی دوسری جماعت ایف آئی اے کی تحقیقات سے انکار نہیں کرسکتی

  

سپریم کورٹ کی طرف سے 19 اکتوبر 2012ءکو”اصغر خان کیس“ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان لفظوں کی جنگ بہت تیز ہوگئی ہے۔ پیپلزپارٹی شریف برادران کو نااہل قرار دینے کامطالبہ کررہی ہے تو مسلم لیگ (ن) اس کیس میں ایف آئی اے کی ممکنہ تحقیقات قبول کرنے سے انکاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے راہنما اور قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان 1990 میں ایوان صدر کے انتخابی سیل ، فوج اور آئی ایس آئی کے گٹھ جوڑ سے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم اور آئی جے آئی کے قیام کے حوالے سے تحقیقات کے لئے غیر جانبدارانہ کمیشن کی تشکیل کامطالبہ کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کی کارروائی قبول کرنے سے انکار نہیں کرسکتی، جب تک کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نافذ العمل ہے۔ اصغر خان کیس کے عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 14 میں عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ رقوم وصول کرنے کے الزام کی زد میں آنے والے سیاستدانوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے جبکہ فوجداری کارروائی کے لئے ایف آئی اے اقدام کرے اور اگر متعلقہ سیاستدانوں کے خلاف مناسب شہادتیں مل جائیں تو ان کی بنیاد پر ان سیاستدانوں کا ٹرائل کیاجائے۔ ایف آئی اے کو اس معاملے کی تحقیقات کا واضح حکم دیاگیا ہے۔ اب ایف آئی اے تحقیقات سے انکار نہیں کرسکتی۔ کسی سیاست دان کو ایف آئی اے کی تحقیقات پر اعتراض ہے تو اسے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اس کی ایک صورت تو نظرثانی کی درخواست ہے جو شائد کوئی سیاستدان اس لئے دائر نہ کرے کہ ایساکرنا خود کوملزم نامزد کرنے کے مترادف ہوگا، دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیاجائے۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ ایف آئی اے کی کارروائی کو جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی ثابت کیا جائے۔ تاہم یہ مرحلہ اس وقت آئے گا جب ایف آئی اے متعلقہ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی شروع کرے گی اور ان کی پکڑ دھکڑ کا معاملہ سامنے آئے گا۔ دوسری طرف ”اصغر خان کیس“ کے فیصلے کی روشنی میں شریف برادران کو نااہل قرار دینے کامطالبہ بھی آئینی وقانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا تاہم اسے سیاسی شعبدہ بازی اور سیاسی گرما گرمی کے لئے استعمال کرنے میں کوئی قانونی امر مانع بھی نہیں ہے۔ قانونی طور متعلقہ سیاستدان اس وقت نااہلی کے آئینی آرٹیکلز کی زدمیں آئیں گے جب ان کا جرم عدالت میں ثابت ہوگا جس کے لئے ابھی بہت سے مراحل طے ہونا باقی ہیں۔ جس طرح شریف برادران کی نااہلی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح صدر آصف علی زرداری کی نااہلی کے لئے بھی نعرہ بلند کیاجاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ”اصغر خان کیس“ کے علاوہ ”نوازشریف کیس“ کا بھی حوالہ دیاجاسکتا ہے جن کے تحت صدر مملکت کے لئے سیاستی طور پر غیرجانبدار ہونا ضروری ہے۔ صدر کے لئے آئینی طور پر وفاق کی علامت اور مملکت کے اتحاد کا مظہر ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک فل بینچ کے فیصلے کا بھی ذکر کیاجاسکتا ہے جس کے تحت صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا جاچکا ہے۔ اس فیصلے کو ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صدر آصف علی زرداری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ عدالت عظمیٰ اور لاہور ہائیکورٹ کے یہ فیصلے آئین کے آرٹیکل 41 کے تناظر میں جاری کئے گئے ہیں جس کے مطابق صدر مملکت اتحاد کی علامت نظر آنے کا پابند ہے۔ وہ سب کا صدر ہے اور کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرسکتا۔ یوں صدر مملکت آصف علی زرداری کا پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کے عہدے پر براجمان رہنا نہ صرف عدالتی فیصلوں اور آئین کے آرٹیکل 41 کی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ وہ ان کے آئینی حلف کے بھی منافی ہے۔ سردست تو انہیں آئین کے آرٹیکل 248 کا تحفظ حاصل ہے۔ ان کے خلاف کسی عدالت میں فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے اور نہ ہی انہیں توہین عدالت پر سزا دی جاسکتی ہے۔ لیکن مستقبل میں یہ معاملہ ان کے لئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ مذکورہ آئینی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزیوں پر آئندہ صدارتی انتخاب میں ان کی نااہلی کا نکتہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں وہ پارلیمینٹ کی رکنیت کے لئے بھی الیکشن لڑنا چاہیں تو نااہلی کا سوال ضرور کھڑا کیاجائے گا ، حلف کی خلاف ورزی کی بنا پر صادق اور امین کی اہلیت سے متعلق آرٹیکل 62 (1) ایف کا ان پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ اس لئے پیپلزپارٹی والوں کو اصغر خان کیس کے تمام پہلوﺅں پر گہری اور دانشمندانہ نظر ڈالنی چاہیے۔ صدر آصف علی زرداری آئندہ صدارتی الیکشن لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں آئین اور عدالتی فیصلوں کے احترام میں اپنی جماعت کا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ اگر قانون پر حکمرانی کی روایت زور پکڑ گئی تو وہ اپنی سیاسی جماعت کے کسی عہدے کے حق سے بھی محروم ہوسکتے ہیں کیونکہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار بھی نہیں ہوسکتا۔ 

مزید :

تجزیہ -