بکرامنڈیوں میں مضر صحت اشیاءخوردنوش ،بیوپاری بیماریوں کاشکار

بکرامنڈیوں میں مضر صحت اشیاءخوردنوش ،بیوپاری بیماریوں کاشکار

لاہور(ج الف/جنرل رپورٹر) بکرا منڈیوں میں ملاوٹ شدہ اور جعلی اشیاءکی فروخت سے 50 فیصد بیوپاریوں پرگیسٹرو کا حملہ درجنوں ہسپتالوں میں داخل۔ صوبائی دارالحکومت میں ضلعی حکومت کی قائم کردا قربانی کے جانوروں کی منڈیوں میں قائم کنٹینوں اور ہوٹلوں میں جعلی مشروبات سگریٹ اور باسی کھانوں ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت عروج پر۔ لاہور کی سب سے بڑی منڈی مویشیاں شاہ پور کانجراں میں ملاوٹ اور دونمبری کے ریکارڈ قائم ہوگئے ہیں جبکہ ملاوٹ شدہ اشیاءکی صورت میں میٹھا زہر پردیسیوں اور خریداروں کے معدوں میں اتارا جارہا ہے، گھٹیا کوالٹی کے منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں بند کرکے آلودہ پانی فروخت کیا جارہا ہے 12روپے والی چھوٹی بوتل 30روپے، جبکہ 30روپے والی 1½لیٹر کی بوتل60 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔ چائے کا کپ 25روپے دودھ پتی 30 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔ کولڈ ڈرنکس کی ایک بوتل 30 روپے جس کی اصلی قیمت مارکیٹ میں15 روپے ہے میں فروخت ہورہی ہے۔ ڈبے کا آدھ پاﺅ کا جوس کا پیکٹ گھٹیا کوالٹی 30روپے، روٹی ایک عدد8روپے، دال کی پلیٹ 50روپے، سبزی 60روپے چکن پلیٹ ایک بوٹی150سے 200 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔جن کا معیار انتہائی گھٹیا ہونے کے باعث 50فیصد سے زائد جانور لے کر آنے والے پردیسی بیو پاری پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ زیادہ تر کو گیسٹرو کا مرض لاحق ہوچکا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں قائم کی گئی بکرا منڈیوں میں مصنوعی مہنگائی عروج پر ہے جہاں کے سٹال ہولڈرز کے لئے بکرا منڈیا دبئی بن چکی ہیں ٹاﺅنوں کی سرپرستی میں سٹال ہولڈرز نے دونوں ہاتھوں سے بیوپاریوں اور خریداروں کو لوٹ رہے ہیں۔ عام مارکیٹ سے 100سے150 سو فیصد زائد قیمتوں پر کھانے پینے کی اشیاءفروخت کی جارہی ہیں۔ ان منڈیوں میں کولڈ ڈرنکس مشروبات تک اور جہاں سے سگریٹ تک ہر چیز جعلی فروخت کی جارہی ہے۔مختلف کمپنیوں کے نام سے جعلی بوتلیں اور سگریٹ کھلے عام فروخت ہورہے ہیں سب سے زیادہ لوٹ مار شاہ پور کانجراں اور ایل ڈی اے ایونیوون سکیم میں قائم منڈیوں میں ہورہی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1