ہسپتالوں کے سیکیورٹی کارڈ سرکاری غنڈے بن گئے:مریضوں لواحقین پرتشدد

ہسپتالوں کے سیکیورٹی کارڈ سرکاری غنڈے بن گئے:مریضوں لواحقین پرتشدد

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں قائم ہسپتالوں میں رکھے گئے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈوں نے مریضوں سے حق رائے اور آزادی چھین لی مریضوں کا ہسپتالوں میں سانس لینا بھی محال کر دیا یہ لوگ سرکاری غنڈے کا کردار اداکررہے ہیں آئے روز مریضوں اور ان کے لواحقین کو تشدد کا نشانہ بنانا اور تھانے بند کرانا معمول بنا چکے ہیں جہاں تک کہ ڈاکٹروں کی غفلت سے زندگی کی بازی ہار جانے والے کی موت پر ان کے پیاروں کو رونے کی اجازت نہیں دیتے احتجاج کرنے والوں کو بدترین تشدد کانشانہ بنانے کے بعد حوالہ پولیس کردیتے ہیں اور ان گارڈوں کا ہسپتالوں میں کردار ایک سرکاری غنڈے کا بن گیا ہے گزشتہ8دنوں میں شہر کے ہسپتالوں میں گارڈوں کے ہاتھوں 100لوگ تشدد کا نشانہ بنے جناح ہسپتال کے گارڈوں نے دھرمپورہ کی حاملہ سمیرا اور اس کے بھائی پر اس وقت بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جب اس نے ڈاکٹرز کے سامنے اپنا پیٹ دکھاتے ہوئے احتجاج کیا کہ ان کے غلط آپریشن سے انکے پیٹ میں پیپ پڑگئی ہے اور ٹانکے کھل گئے جس پر ڈاکٹر نے سیکیورٹی گارڈوں کو بلا لیا سیکیورٹی گارڈوں نے سمیرا اور اس کے بھائی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اس کے بھائی کو پولیس چوکی میں بند کرادیا انتظامیہ کی ملی بھگت پر سمیرا کا بھائی کئی گھنٹے بعد رہا ہوا سب سے زیادہ برے حالات جناح، جنرل ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال میںہیں جہاں کے سیکورٹی گارڈوں کو انتظامیہ نے کرایہ کے غنڈے بنا لیا ہے جہاں روزانہ درجنوں مریض اور ان کے لواحقین گارڈوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ ایک طرف غریب مریضوں کو ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتالوں ان کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسری طرف ہسپتالوں کے سیکورٹی گارڈوں نے بھی پیٹنا معمول بنا لیاہے۔ روزنامہ پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں نے سیکورٹی کے لئے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ رکھے ہوئے ہیں جن کا کام ہسپتالوں کی نگرانی امن و امان کا خیال رکھنا ہے مگر ہسپتالوں کی انتظامیہ سے مکمل چھٹی ملنے پر ہر سکیورٹی گارڈ مریضوں کا تیہ پنچا کررہے ہیں بتایا گیا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال ، چلڈرن ہسپتال ، جناح ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں میں رکھے گئے سیکورٹی گارڈ جن کے قد6سے ساڑھے7 فٹ کے درمیان ہیں جو کم تنخواہوں کا بدلہ مریضوں اور ان کے لواحقین سے لیتے ہیں۔ ایک ہفتہ کے دوران مذکورہ تین ہسپتالوں میں100سے زائد مریضوں اور ان کے لواحقین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ایک ہسپتال میں گزشتہ روز بھی میڈیکل وارڈ لوئرمال بستی سیدن شاہ کے رہائشی غلام قادر اچانک ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئے ان کے لواحقین بیٹوں غلام مرتضیٰ وغیرہ نے احتجاج کیا تو ایک درجن سے زائد سرکاری غنڈے ان پر ٹوٹ پڑے ان کو بد ترین تشدد کانشانہ بنایا بعد ازاں پکڑ کر حوالہ پولیس کر دیا گیا قریب پڑی غلام قادر کی میت اپنے بیٹوں پر سیکورٹی گارڈوں کے بدترین تشدد کو دیکھتی رہی ایڈیشنل ایم ایس ڈاکٹر قذافی کی مداخلت پر مرے ہوئے کو مزید مارنے کا سلسلہ بند ہوا اسی طرح3روز قبل جنرل ہپتال میں جواں سالہ صدف کی وفات پر احتجاج کرنے والوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کرحوالات میں بند کرادیا گیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1