واہگہ بارڈر پر پرجوش نعرے لگانے والے مہردین عرف بابا پاکستانی سپرد خاک

واہگہ بارڈر پر پرجوش نعرے لگانے والے مہردین عرف بابا پاکستانی سپرد خاک

لاہور (جنرل رپورٹر) ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھامے برسوں سے واہگہ بارڈر پر قوم کا لہو گرمانے والے بابا مہر دین کو لاہور کے نواحی گاﺅں چندرائے میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ساری زندگی قومی پرچم زیب تن کئے رہنے والے بابامہر دین کو سبز ہلالی پرچم کا ہی کفن دیا گیا اور انہیں پاکستانی جھنڈے کے سائے تلے لحد میں اتارا گیا۔ نماز جنازہ میں عزیز و اقارب کے علاوہ رینجرز حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مہر دین المعروف بابا پاکستانی کی عمر 90 برس تھی۔ وہ 1922ءمیں پیدا ہوئے اور ساری عمر شادی نہیں کی۔ گزشتہ چالیس سال سے روزانہ شام تیس کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرکے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم لئے واہگہ بارڈر پر آنا ان کا معمول تھا۔ بابا مہر دین کو ان کی حب الوطنی کے بے مثال جذبے پر ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ سابقہ صدر پرویز مشرف نے ان کو سرکاری خرچے پر حج کے لئے بھی بھیجا۔ ان کے پاس رہنے کے لئے نہ کوئی ذاتی گھر تھا اور نہ کوئی ذریعہ آمدن۔ بابا پاکستانی کے بھانجے کا کہنا ہے کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے ہم انہیں روزانہ واہگہ بارڈر پر جاتا دیکھتے تھے۔ جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کے گھر والوں کے پاس ان کو ہسپتال لے جانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ حالانکہ وہ کچھ دن سے بخار میں مبتلا تھے۔ ساری زندگی وطن کی محبت میں گزارنے والے بابا پاکستانی کو حکومت اور رینجرز حکام کی جانب سے کئی ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس سے بھی نوازا گیا۔ جنازے میں شریک مرحوم کے عزیز و اقارب نے اس امر پراظہار افسوس کیا کہ عمر بھر پاکستانیت کا پرچار کرنے والے کو پاکستانی حکمرانوں نے فراموش کردیا اور بابا مہر دین کی زندگی کے آخری لمحات جس کسمپرسی میں گزرے، وہ اہل پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ اور شرمناک ہے۔

مزید : صفحہ اول