اصغرخان کیس،الیکشن کمیشن پیسے لینے والے کسی سیاستدان کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتا:فخرالدین جی ابراہیم

اصغرخان کیس،الیکشن کمیشن پیسے لینے والے کسی سیاستدان کے خلاف کاروائی نہیں ...

اسلام آباد(ایجنسیاں+مانٹیرنگ ڈیسک) چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ دوہری شہریت کے حوالے سے ابھی چیئرمین سینیٹ کاریفرنس نہیں ملا، ریفرنس ملنے پر ہی رحمن ملک کی اہلیت کا فیصلہ کیا جائیگا، اصغر خان کیس میں پیسے لینے والے کسی سیاستدان کے خلاف کارروائی کی آئینی گجنجائش نہیں ، پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی، ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں سیاستدانوں کے کاغذات نامزدگی جب جمع ہونگے تو سب سے پہلے دیکھا جائیگا کہ وہ آئین کے مطابق صادق اور امین ہیں کہ نہیں ، دریں اثناءبرطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عشروں پہلے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک میں سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا ¾ماضی میں سب سے غلطیاں ہوئیں سپریم کورٹ نے فوجی حکمرانوں کے اقتدار کو جائز قرار دیا ¾ ججز نے پی سی او کے تحت حلف اٹھائے ¾ پرانی باتیں بھول کر نیا دور شروع کیا جائے ¾ ماضی میں رہنے کے بجائے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ،چیف الیکشن کمشنر نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ عدالت نے مقدمہ16 سال تک التوا ءمیں رکھنے کے بعد انتخابات کے قریب اس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں اس فیصلے سے ملک میں سیاسی انتشار بڑھے گا اور اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں گا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا اب وقت ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہر کسی سے غلطیاں ہوئیں اور ان سب سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں گی۔فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے فوجی حکمرانوں کے اقتدار کو جائز قرار دیا اور ججوں نے بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھائے۔فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایوب خان آئے تو کیا ہوا ہمیں نہیں معلوم کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کیسے پھانسی پر لٹکایا گیا، ہمیں نہیں معلوم کہ ضیاءالحق صاحب کے دور میں کیا ہوا۔ یہ وقت ہے پرانی باتوں کو بھول کر نیا دور شروع کرنے کا۔انہوں نے کہا کہ اب ماضی میں رہنے کی بجائے ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا الیکشن کمیشن کسی ایسے سیاستدان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا جس پر رقم لینے کا الزام ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت کسی سیاستدان کے خلاف کارروائی کی گنجائش نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے خود اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ رقوم کی تقسیم کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کیا جائے جو تحقیق کرے گا کہ کس نے کس سے رقم لی۔فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود کو بھی متنازعہ بنا لیا ہے اور الیکشن سے پہلے ملک میں ایک اور تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔اس سے قبل فخر الدین جی ابراہیم نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی نااہلی سے متعلق ابھی تک سینیٹ کے چیئرمین کی طرف سے الیکشن کمشن کو ریفرنس نہیں بھیجا گیا۔ایک سوال کے جواب میں فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات میں ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں سیشن ججز کو بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر تعینات کرنے کی استدعا کی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس کو بتایا کہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں شفافیت کو برقرار رکھنے کےلئے سیشن ججز کو بطور ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر تعینات کیا جائے۔سپریم کورٹ کی طرف سے اس ملاقات سے متعلق جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر کو بتایا ہے کہ 2009 ء میں بنائی جانے والی نیشنل جوڈیشل پالیسی کے تحت ججز کو انتظامی امور انجام دینے سے روکا گیا ہے جس کا مقصد عدلیہ کو بدعنوانی کے الزامات سے بچانا ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر حکام کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ اس درخواست کو تین نومبر کو نیشنل جوڈیشل پالیسی کی کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول