ملالہ حملہ کیس: طالبان دہشت گردی کے لئے افغان سموں کا استعمال کر رہے ہیں

ملالہ حملہ کیس: طالبان دہشت گردی کے لئے افغان سموں کا استعمال کر رہے ہیں
ملالہ حملہ کیس: طالبان دہشت گردی کے لئے افغان سموں کا استعمال کر رہے ہیں

  

اسلام آباد: ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ابتدائی انٹیلی جینس رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ ایسے مسائل ہیں جو پاکستان نہ صرف امریکہ کے ساتھ بلکہ امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سہ فریقی اجلاس میں بھی اٹھاتا رہا ہے لیکن پاکستان کی ان باتوں کو نہ کبھی حل کیا گیا اور نہ ہی ان کو کوئی احترام دیا گیا۔ ابھی اتوارکو امریکہ کے خصوصی نمائندے مارک گراسمین کے ساتھ میٹنگ کے دوران پاکستانی حکام نے انہیں آگاہ کیا کہ تحریک طالبان کے رہنما بشمول ملا فضل اللہ جس نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، افغانستان سے کام کر رہے ہیں اور ان کے افغان صوبوں جن میں کنڑ، لوگر، گردیز، اور افغان نورستان شامل ہیں میں ٹھکانے ہیں اور کچھ افغان سیل فون کمپنیاں غیر معمولی مضبوط سگنل فراہم کر رہی ہیں جن سے دہشت گردوں کو یہ مواقع ملتے ہیں کہ وہ افغان فون سمزکو سوات میں اور پشاور تک رومنگ پوزیشن پر استعمال کر سکیں۔ ذرائع نے دعوئ کیا ہے کہ یہ صورت حال حتی کہ پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن کے ماہرین جو کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر سخت کا م کررہے تھے ان پر بھی واضح نہیں تھی لیکن ان کو شبہات تھے اور یہی وجہ تھی کہ پاکستان کی حکومت نے پشاور، کراچی، لاہور، جھنگ اور فیصل آباد میں گزشہ عید کی رات کو تمام فون سروسز معطل کر دی تھیں جس کا مقصد ان سگنلز کو پکڑنا تھاجو کہ کسی پاکستان سروس فراہم کرنے والے کی طرف سے نہیں تھے لیکن پھر بھی وہ سگنلز ہوا میں تھے۔ ااس صورت حال نے شبہات کو تقویت دی اور پھر انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان سگنلز کی نوعیت اور انکی بنیادوں کو تلاش کرتا شروع کر دیا۔ اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ٹیلی کام کے ماہرین نے دعوی کیا کہ سگنلز افغانستان سے سروس فراہم کر نے والوں کی طرف سے آرہے تھ جس سے ہمارے شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔ ایک افغان موبائیل فون کمیونیکیشن نیٹ ورک انتہائی تیز ہے جس کی رسائی پاکستان کے ساحلی علاقوں اور بلوچستان تک ہے اور اس موبائل سروس کے پاکستان میں استعمال پر آپ کو سم بھی تبدیل نہیں کرنا پڑتی۔ اسی طرح افغانستان کی ایک اور موبائیل فون سروس کی رسائی تاجکستان کے بدخشاں صوبے تک ہے جہاں دہشت گردوں نے جولائی 2012 میں اپنی پناہ گاہیں بنانے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن تاجک حکومت نے بھرپور کاروائی کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گراسمین کے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی حکام نے یہ بات بھرپور انداز میں واضح کر دی ہے کہ افغانستان کے تعاون کے بغیر دہشتگردی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موبائل فون ڈیٹا سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا کہ سوات میں استعمال ہونے والے بیشتر موبائل فونز میں بھی افغان موبائیل کمپنیوں کی سمز استعمال ہو رہی ہیں اور یہی غیرقانونی سمز ملالہ پر حملہ کرنے والے دہشت گروں نے بھی استعمال کیں۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں بشمول پارا چنار، لنڈی کوتل، اور چمن کے کچھ علاقوں میں بھی افغان سمیں استعمال ہو رہی ہیں اور چونکہ یہ کمپنیاں اصل میں ہندوستان سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے ان کا موبائیل کمیونیکیشن نیٹ ورک انتہائی جدید ہے جس کی وجہ سے اب پشاور اور کراچی جیسے علاقوں میں بھی ان سمز کے سگنلز بہت بہتر ہوتے ہیں ، کراچی پولیس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اغوا برائے تاوان کی کئی وارداتوں میں افغان سموں کا استعمال کیا گیا تھا۔ سفارتی زرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام صورتحال گراسمین کے حالیہ دورہ پاکستان میں زیربحث آئی اور پاکستان نے اس معاملے میں امریکہ سے اپنا کردار ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، پاکستان امریکہ کیساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے تاہم یہ تعلقات خودمختاری کے باہمی احترام پر مبنی ہونے چاہیے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششوں کا جاری رکھنے کا بھی یقین دلایا اور یہ بات واضح کی کہ دہشت گردوں کے خلاف فتح پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ دی کوزہ نیوز ڈیسک

مزید : قومی