ہم بہت دور نہیں،اب بھی وقت ہے!

ہم بہت دور نہیں،اب بھی وقت ہے!

  

اپنے گردو پیش کو آئینے میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ ایک بدترین معاشرے کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ ہمارے معاشرے میںبہت سے گناہ عام ہو چکے ہیں یا پھر شاید سارے ہی۔ ہماری غفلت کا تو یہ عالم ہے کہ اب تو ہم صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو پرکھنے کا تکلف بھی نہیںکرتے۔ جھوٹ ہمارا شیوہ بن چکا ہے ۔بد اخلاقی ہم میں رچ بس گئی ہے ۔ ہم سیاہ کاریوں کی بہتات میں اپنا آپ تلاش کر رہے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ اس پر نادم ہونے کی بجائے ان کو بھی ہم تقدیر کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔اب وہ تمام ارشاد ات و نشانیاں ہمیں بھلی محسوس ہوتی ہیں، جن کا ذکر اللہ کے رسولﷺ نے اپنی تعلیمات میں فرمایا۔ ہم کس گمراہی کی طرف جا رہے ہیں؟شاید اقبالؒ نے ایسی ہی سوئی ہوئی قوم کے لئے لکھاتھا:خبر نہیں کیا ہے نام اس کا ، خدا فریبی کہ خود فریبی عمل سے فارغ ہوا مسلماں، بنا کر تقدیر کا بہانہہمارا روشن ماضی بد قسمتی سے ہمارے لئے محض قصے کہانیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اقبال ؒ نے جس ٹوٹے ہوئے تارے سے ہمیں تشبیہ دی تھی، شاید وہ اب کسی طرح بھی ہم میں نہیں جھلکتی۔ ہم دو دھاروں کی طرح ایک دوسرے سے جدا ہوتے نظر آ رہے ہیں.... غالب نے کہا تھا کہ، بے خودی ، بے سبب نہیں غالب“!.... تو اس کا سبب یہ ہے کہ آج ہمارے گھروں میں مغربی کلچر فروغ پا رہا ہے، جس کے باعث عریانی و فحاشی عام ہو رہی ہے۔ ہماری آنکھوںمیںحیاءنام کی کوئی چیز نہیںرہی۔ ہمارے خون سفید ہو چکے ہیں۔ ہم اپنے گھروں میں گناہوں کے مجرم پال رہے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا یا کبھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھا ؟ کہ ہم کس قسم کے معاشرے کی تعمیر کر رہے ہیں؟ کیا یہ معاشرہ اسلامی اقدار کا حامل معاشرہ کہلا سکے گا؟ایک معاشرے کی تربیت ایک گھر سے ہی ممکن ہے، اگر ایک گھر اچھی تہذیب و اقدار کا حامل ہو گا تو معاشرہ فروغ پائے گا۔ مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔”ایک محترمہ ٹی وی پر بیٹھے بے دریغ و برملا فرما رہی تھیں کہ پردہ دل میں ہوتا ہے اور حیاءانسان کی آنکھ میں ہوتی ہے ۔ جب اس قسم کی تعلیم دی جائے گی تو معاشرے میں عریانی و فحاشی ہی جنم لے گی ۔ جو پھر بہت سے گناہوں کا باعث بنے گی۔اللہ ہمیں ہدایت دے!جب ہمارا معاشرہ اس عدم تربیت سے سرفراز ہوگا، جب ہمارے گھروں ہی سے تربیت رخصت ہو جائے گی، تو ایک ایسا معاشرہ جنم لے گا، جس میں لوگ حلال اور حرام میں فرق کرنے سے قاصر ہوں گے ،جس میں ناحق خون عام بہنے لگے گا ، انصاف بکنے لگے گا، جس میںفرقہ وارانہ فسادات جنگ کی مانند ہوں گے، لوگوں کے اخلاقی معیارآخری حدیں چھو نے لگیں گے، سر عام خود کشیاں ہونے لگیں گی، جب درندے معصوم جانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے لگیں گے، تو زلزلے نہیں آئیں گے تو اور کیا ہو گا؟دراصل ہم اپنا راستہ بھول چکے ہیں۔ہم نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو بھلا کر شیطان کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔فطرت جو احکامات الٰہی کی پابند ہے، ملت کے ان گناہوں پرکیسے خاموش رہے، جو اب اجتماعیت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ہمارے ان گناہوں کے سبب زمین کانپ رہی ہے ، فطرت ہمیں جھنجوڑ رہی ہے ،زلزلے آ رہے ہیں۔انصاف ایک بار پھر آج عمر بن خطاب ؓ کی تلاش میں ہے ، آج پھر اسلا م سطان ٹیپو ؒ اور محمود غزنوی ؒ کا تقاضا کر رہا ہے ۔ بہت سی ناہید ابن یوسفؒ کی منتظر ہیں۔امت مسلمہ پر دِگرگوں کیفیت طاری ہے۔ بیرونی سازشیں عروج پر ہیں۔آج دنیا ہمیں دہشت گرد قرار دیتی ہے۔اب بھی وقت ہے۔ ہمیں واپسی اختیار کرنا ہو گی ان راستوں سے، جن پرہم سالہا سال سے چل رہے ہیں، ان فرسودہ رویوں سے جو ہماری عاقبت تباہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک بار پھر اپنی خودی کو بلند کرنا ہو گا، صنم کدہ¿ جہاں میں اپنے خالق کو تلاش کرنا ہو گا، پھر اس کے حضور اپنی تمام ترسیاہ کاری کی معافی مانگنا ہو گی۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور امت مسلمہ کو ان عذابوں سے خلاصی دے جو ہم پر ہمارے گناہوں کے باعث مسلط ہو چکے ہیں ۔آمین۔ اقبال ہمیں اسی معاملے میں تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اٹھو و گرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی دوڑو ! زمانہ چال قیامت کی چل گیا

مزید :

کالم -