اسلام آباد کا دھرنا کیوں ختم ہوا؟

اسلام آباد کا دھرنا کیوں ختم ہوا؟
اسلام آباد کا دھرنا کیوں ختم ہوا؟

  

دنیا میں آنے کے بعد جب انسان ہوش سنبھالتا ہے تو دنیا کی چمک دمک دیکھ کر اس کے دل میں ہزاروں خواہشیں جنم لیتی ہیں۔ زر، زمین اور حاکمیت کی خواہشات نمایاں ہوتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں ہزاروں سال سے مالک اور غلام کا تصور چلا آرہا ہے جو کہ مختلف ادوار میں سرداری نظام، نوابی نظام، پیری مریدی نظام ، شاہی نظام جمہوری نظام، صدارتی نظام کی شکل میں نسل سے قائم ہے حاکم بننے کے لئے انسان جائز ناجائز حربے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا طاہر القادری جنہوں نے ایک عالم دین کی حیثیت سے محنت کر کے اپنا نام کمایا اور ہزاروں لوگوں کو دین کی دولت سے فیض یاب کیا لیکن بندہ بشر ہونے کی وجہ سے ان میں ایک بڑا حاکم بننے کی جستجو، لاشعوری طور پر موجود تھی جب انہیں پاکستان کے بجائے غیر ممالک میں دولت اور پذیرائی زیادہ ملی تو وہ آباو اجداد کی شہریت چھوڑ کر ددریار غیر میں منتقل ہو گئے اور اپنے ایک ملک کے حاکم بننے کے خواب کو عملی جامعہ پہنانے میں مصروف ہو گئے ۔

15 سال پہلے اپنے مریدوں کے ساتھ ملکی سیاست میں وارد ہوئے لیکن پذیرائی نہ ملنے پر ملک سے ناطہ توڑ لیا اس کے بعد پلان بدل کر مریدوں کے ذریعے دولت اکٹھی کرنا شروع کی ان کے مریدوں کی تعداد یورپ میں زیادہ تھی اس لئے ان کے پاس ”یورو“ کی ریل پیل ہو گئی مشرف دور میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بنے پھر استعفا دے کر بیرون ملک چلے گئے، زرداری دور میں حاکم بننے کی ایک کوشش کی لیکن زرداری نے چالاکی سے ان کا وار ناکام بنا دیا اس کے بعد میاں صاحب ایک کمزور شکار نظر آئے میاں صاحب کے کچھ مہربانوں نے قادری صاحب کو سبز باغ دکھائے اور انہوں نے حاکم بننے کے لئے ایک بار پھر بھرپور وار کیا لیکن میاں صاحب کی کوئی نیکی کام آ گئی اور وہ بال بال بچ گئے اسلام آباد میں دھرنے کے اخراجات کے لئے اپنے یورپ کے مریدوں سے دو لاکھ پچاس ہزار یومیہ کا وعدہ لے کر آئے اور تین ہفتوں میں حکومت حاصل کرنے کی گارنٹی دی لیکن تین کروڑ روزانہ کے اخراجات کے باوجود مریدوں کے علاوہ عوام کا ایک فرد بھی اپنی تحریک میں نہ شامل کر سکے اور یورپین پیسوں سے ایک پکھی واس (خانہ بدوشوں) کی بستی آباد کرلی۔

 یورپ کے مریدوں نے حوصلہ افزاءنتائج نہ ملنے پر امداد سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا اسی اثناءمیں عمران خان کی تقلید میں دوسرے شہروں میں جلسہ کرنے کا پروگرام بنایا تو معلوم ہوا کہ عوام جلسوں میں آنے کے لئے تیار نہیں عزت بچانے کے لئے اپنے خانہ بدوش بستی کو اسلام آباد سے اٹھا کر فیصل آبادلے آئے اور اس کے بعد فنڈز کی کمی کے پیش نظر لوگوں سے اپیل کی کہ ان کی مالی امداد کی جائے ۔ امداد نہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہو گئے اورخیمہ بستی کو دیگر شہروں میں منتقل کر کے عزت بچاتے رہے ۔ قادری صاحب کے پاس قارون کا خزانہ تو تھا نہیں کہ خانہ بدوش بستی کو منتقل کرنے پر بے تحاشا اخراجات اٹھاتے۔ لاہور کے جلسے کے اخراجات کے بعد قادری صاحب کو مشکلات پیش آئیں کیونکہ اتحادیوں نے بھی مدد سے بالکل ہاتھ کھینچ لیا۔ لاہور جلسے میں قادری صاحب نے رب العزت کی قسم کھا کر کہا کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ اسلام آباد کا دھرنا کسی صورت میں ختم نہیں ہوگا۔ چوبیس گھنٹے میں دھرنا دھڑام ہو گیا اور خواب چکنا چور ہو گئے اور خانہ بدوش در بدر ہو گئے۔ قادری صاحب کا دھرنا نیک نیتی پر نہیں تھا بلکہ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے تھا جو دھڑام ہوا میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک موقع دیا ہے کہ نمائشی اقدامات سے نکل کر عوام کے اصل مسائل پر توجہ دیں۔ بھوک، افلاس کم کرنے کے منصوبے شروع کریں اور حقیقی معنوں میں حکومت کا حق ادا کریں ورنہ میاں صاحب کا بھی تختہ کسی وقت دھڑام کرنے میں بیرونی شیطان نازل ہو جائیں گے اور خیمہ بستی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔

مزید :

کالم -