ایک سیاسی دعوت ولیمہ.... صفدر عباسی، ناہید خان کا موقف!

ایک سیاسی دعوت ولیمہ.... صفدر عباسی، ناہید خان کا موقف!
ایک سیاسی دعوت ولیمہ.... صفدر عباسی، ناہید خان کا موقف!

  

پیپلزلائیرز فورم کے سابق صدر میاں حنیف طاہر دوست نواز اور مہربان ہیں، ان کے ساتھ تعلقات سالوں پر محیط ہیں، ان کے صاحبزادے وقار کی شادی خانہ آبادی ہوئی تو دعوت ولیمہ کے لئے ہمیں بھی مدعو کیا گیا، بہت سی مصروفیات اور کئی ایک شادیوں کے باوجود اس تقریب کو اولیت دی کہ اس طرح کچھ اور دوستوں سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ چند حضرات سے شرف ملاقات حاصل ضرور ہوا لیکن دعوت دوپہر 18 کتوبر کی شب کو تھی اور اسی روز کراچی میں بلاول بھٹو زرداری کی بھی سیاسی تقریب رونمائی تھی اور جیالے اس طرف کا رخ کئے ہوئے تھے اس لئے اکثر راہنما اس تقریب میں نہ آ سکے۔ میاں حنیف طاہر پرانے جیالے اور پیپلزپارٹی کے بنیادی چاروں اصولوں والے ہیں اس لئے ان کو ناراض کارکنوں کے زمرے میں شمار کر لیں تو وہ بُرا نہیں منائیں گے اگرچہ وہ کہتے ہیں، میں بھٹو کا سپاہی اور بے نظیر کا بھائی ہوں، تاہم سر میں عقل بھی ہے۔ بہر حال یہ تقریب بہر ملاقات تھی اور متعدد پرانے حضرات سے شرف نیازہوا ان میں چوہدری غلام عباس بھی ہیں، اور شاید ان کو بھی ناراض کارکنوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے، ان کو لاہور میں دیکھ کر حیرت ہوئی تھی کہ وہ ان راہنماﺅں میں ہیں جو اپنے ساتھ کارکنوں کو بھی لے کر چلتے ہیں اور کراچی جاتے تو ساتھ چند اور جیالے بھی ہوتے، ہم نے اس مسئلہ پر بات کرنا مناسب نہ جانا کہ یہ ان کی اپنی جماعت کا مسئلہ ہے۔

عباسی خاندان لاڑکانہ (سندھ) کا معزز اور پرانا خاندان ہے جس کے لوگ پڑھے لکھے ہیں ڈاکٹر مسز اشرف عباسی بھی اسی خاندان کی رکن تھیں جو بھٹو دور میں قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر رہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ پر ان کے صاحبزادے ڈاکٹر صفدر عباسی جانشین بنے اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے علاوہ سینٹ میں بھی نمائندگی کے اہل ٹھہرے۔ ڈاکٹر صفدر عباسی نے محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کا ساتھ نبھایا حتیٰ کہ وہ اور ان کی اہلیہ مسز ناہید عباسی اسی گاڑی میں تھیں جس میں 27 دسمبر 2007ءکو محترمہ تھیں اور شہید ہوئیں کہ مسز ناہید خان محترمہ کی پولٹیکل سیکریٹری تھیں، یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی شہید بی بی کے معتمد تھے تاہم ان کا نکاح ذرا تاخیر سے ہوا۔

ذکر خیر یوں کہ دونوں میاں بیوی سے اس دعوت ولیمہ میں ملنے کا شرف حاصل ہو گیا، فیلڈ ڈیوٹی نہ ہونے کی وجہ سے تقریبات میں جانے کا اتفاق نہیں ہوتا تو بہر ملاقات ایسے ہی مواقع ہوتے ہیں یوں ڈاکٹر صفدر عباسی اور مسز ناہید خان سے بھی ٹاکرا بہت دیر بعد ہوا۔ ہم نے اور بعض دوسرے حضرات نے ڈاکٹر صفدر عباسی سے اظہار تعزیت کیا کہ پچھلے دنوں ان کی والدہ محترمہ ڈاکٹر مسز اشرف عباسی کا انتقال ہو گیا تھا۔ بہت مخلص ملنسار، مہربان اور دیانت دار خاتون تھیں اور بھٹو کے ساتھ وفادار بھی رہیں، کبھی کبھار ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش اور لاڑکانہ جانے کا موقع ملتا تو ان سے بھی سلام دعا ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹر صفدر عباسی اور ناہید خان سے کچھ بے تکلفانہ اور کچھ حالات حاضرہ، پر بات ہوئی۔ ہم نے ڈاکٹر صفدر عباسی سے استفسار کیا کہ بلاول بھٹو زرداری پچھلے دنوں لاڑکانہ گئے تو انہوں نے ڈاکٹر مسز اشرف عباسی کی قبر پر بھی حاضری دی پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی، کیا ان کا غصہ کچھ کم ہوا۔ وہ اور بھی بھڑکے اور کہنے لگے، چودھری صاحب والدہ کی قبر پر جانے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن معروضی حالات میں یہ سیاسی ہو جاتا ہے کہ وہ قبر پر تو گئے ہم سے تعزیت کرنے نہیں آئے اگر ان کو اتنا ہی احترام ملحوظ تھا تو وہ ہمارے ساتھ تعزیت کے لئے غریب خانے (عباسی ہاﺅس لاڑکانہ) تشریف لے آتے۔ تو سارا خاندان ان کا خیر مقدم کرتا، ان کی یہ دلیل سن کر ہم خود بھی دم بخود سے ہو گئے کہ ان کا شکوہ واقعی درست تھا کہ عباسی خاندان کا اختلاف تو اب ہوا مراسم تو دیرینہ ہیں، پھر ہم بات کو ٹلا گئے اور کراچی کے جلسے کی بات شروع کی۔ دونوں میاں بیوی نے بتایا کہ وہ لاہور میں ہیں اور یہاں کارکنوں سے میل ملاقات میں ٹیلیویژن تک دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ شاید وہ اس پہلو پر گفتگو سے گریز چاہتے تھے۔ بہر حال بات سیاست پر تو ہوئی اور اہل محفل نے بھی حصہ لیا ۔

ڈاکٹر صفدر عباسی اور مسز ناہید خان کا کہنا تھا کہ وہ بلاول کی سیاست میں آمد کا خیر مقدم ضرور کرتے ہیں لیکن سیاست میں حالیہ سات سال ہی تو سب کچھ نہیں، اگر پہلے چالیس سال نکال دیئے جائیں تو پیپلزپارٹی کہاں رہ جاتی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ بلاول کو بہر حال یہ فیصلہ تو کرنا ہے کہ وہ حالیہ سات سال والی سیاست کریں گے۔ یا پھر اس سے پہلے چالیس سال کی روشنی میں پارٹی کے اصولوں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکمت عملی اپنائیں گے اور یہ فیصلہ بہر حال ان کو کرنا ہے، دونوں راہنماﺅں نے بتایا کہ وہ لاہور میں ہیں اور 22 اکتوبر (بدھ) کو ایوان اقبال میں ایک ورکرز کنونشن بھی کر رہے ہیںان کے مطابق بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو کی فلاسفی اور نظریئے کے بغیرپارٹی، پارٹی نہیں اور ہم تو اس فلسفے اور محترمہ کی وراثت کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہیں، پیپلزپارٹی کا فلسفہ ایک اعتدال والی ترقی پسند جماعت کا ہے جس کی بنیادیں چاروں صوبوں آزاد کشمیرا ور گلگت بلتستان میں ہیں۔ یہ کنونشن گزشتہ روز ہو گیا اور اس میں کارکنوں کی معقول تعداد نے شرکت کی۔ تقریروں میں وفا اور بے وفائی، جاگیرداری اور کارکنوں کے تحفظ کی باتیں ہوئیں اور کہا گیا کہ پارٹی اپنے سیاسی نظریئے اور اصولوں پر رہ کر ہی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

دعوت ولیمہ میں خلاف معمول چوہدری غلام عباس تو چپ چپ تھے، بہر حال وکلاءحضرات دھرنوں اور عمران خان کی تحریک انصاف کے حوالے سے بات کر رہے تھے ہم نے گزارش کی کہ دھرنے تو اپنی اہمیت کھو چکے اور جلد ہی عوامی تحریک دھرنا ختم کر دے گی البتہ تحریک انصاف کا سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا کہ عمران خان کو جلسوں میں بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ میاں بیوی کا خیال تھا کہ جب بات عوامی مسائل اور عوام کی ہو گی اور حکومتیں کچھ دے نہ سکیں گی تو پھر پذیرائی کیوں نہ ملے۔ وکلاءکے دلائل کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان اور کچھ کر سکے یا نہ کر سکے لیکن ان کی محنت سے ملک کا وہ طبقہ میدان عمل میں ہے جو کل تک پولنگ سٹیشن تک جانا فضول جانتا تھا۔ وہ متوسط نچلے متوسط طبقے اور نوجوانوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں، یہ دلیل اور موقف وزنی ہے اس لئے تمام سیاسی عناصر جماعتوں اور خصوصاً پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کو اس حوالے سے تجزیہ ضرور کرنا ہوگا بلاول کے ”سپیج رائٹرز گلڈ“ کو یہ بات بھی بتانا ہو گی۔

مزید :

کالم -