امامِ ربانی حضر ت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ شیخ ِ طریقت و مردِ مجاہد

امامِ ربانی حضر ت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ شیخ ِ طریقت و مردِ مجاہد

تصوف و سلوک و طریقت کیا ہے؟ایک طبقہ تصوف کا معنیٰ یہ لیتا ہے کہ ساری دنیا سے کٹ کر دور کسی صحرامیں کٹیا نما خانقاہ بنا کر حقوق اللہ ادا کرنے کی محنت میں لگے رہنا۔معاشرہ ، سماج ، سیاست ، مملکت ، نظام ، صوفی کا موضوع نہیں ، جبکہ دوسرا طبقہ اس پر سخت تنقید کر کے اسے رہبانیت پسندی قرار دیتا ہے۔اگر ہم ماضی قریب میں جائیں تو امامِ ربانی شیخ احمد سرہندی مجدّد الف ثانی ؒ نے تصوف کا یہ تصور دیا کہ ذکرواذکار مشائخ کے بتائے ہوئے اسباق و لطائف کے ذریعے قلوب کو صاف کرنا ، نیتوں میں اخلاص پیدا کرنا اور توجہ میں یکسوئی پیدا کر کے اللہ کی رضا کے لئے اللہ کے دین کو زندگی کے ہر انفرادی اور اجتماعی شعبے میں نافذ کرنے کے لئے جہدِ مسلسل کرنا ۔ اس طرز پر کوئی سنجیدہ دانشور رہبانیت کا طعنہ نہیں دے سکتا۔چنانچہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے سلوک و طریقت میں امامت کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے دینِ اکبر کوبھی للکارا ، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے ہندوستان کے بادشاہوں کی ایک نسل کو صحیح سمت پر چلا دیا ۔

حضرت مجددؒ کی طرز پر سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے خانقاہی مواعظ کے ذریعے ایک ایسی صالح جماعت تیار کی جو اپنے دور کے اعلیٰ ترین مجاہدین کا قافلہ بھی ثابت ہوئی۔اِسی قافلے کا ایک صالح مجاہد شاہ عبدالرحیم ولایتیؒبھی ہے جو فرماتے ہیں کہ '©'میں نیم شب کے ذکرواذکار کے بعد جب سید احمد شہیدؒ کے گھوڑے کو چارہ ڈالتا اور اس کی لید اٹھاتا تو اللہ پاک مجھے لمحوں میں تصوف کی کئی منازل طے کروا دیتے اسی شاہ عبدالرحیم ولایتیؒ کے مرید خاص اور خلیفہ مجاز میاں جی نور محمد جھنجھانویؒہیں۔ جن کے دستِ حق پر سیدالطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒنے بیعت کی ۔حضرت حاجی ؒصاحب خانقاہ تھانہ بھون میں اپنے رفقاءحضرت مولانا شیخ محمد تھانویؒ ، حضرت حافظ ضامن شہیدؒ کے ساتھ رونق افروز تھے ۔ حضرت حاجیؒ صاحب کا فیض عام و خا ص کو پہنچ رہا تھا کہ شیخ محمد تھانویؒ نے روضہ رسول ﷺمیں خالی جگہ پر سیدنا عیسٰی ؑ کی قبر مبارک کے حوالہ سے فتویٰ دیا کہ جو شخص اس کا انکار کرے وہ ایسا ہے ویسا ہے۔اس پر حضرت گنگوہی ؒ نے جواب لکھا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر تو یقینا وہیں بنے گی، لیکن قبر کا منکر ایسا ویسا نہیں ہے۔اس پر دونوں طرف سے تحریریں سامنے آئیں ۔حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ایک شادی کے سفر میں تھانہ بھون پہنچے تو خانقاہ پر شیخ محمد تھانویؒ سے مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں حاجی امداد اللہ مکیؒ سے ملاقات ہو گئی۔

حضرت حاجی ؒصاحب نے فرمایاکہ بزرگوں سے مناظرہ نہیں کرتے ۔مناظرہ تو دھرا ہی رہ گیا۔آپ اِ سی سفر میں حضرت حاجی ؒصاحب کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔بیعت کے وقت حضرت گنگوہی ؒ نے عرض کیا کہ حضرت مجھ سے ذکرِ شغل ، محنت اور مجاہدہ کچھ نہیں ہو سکتا ۔ نہ رات کو اٹھا جائے گاحضرت حاجیؒ صاحب نے منظور فرما لیا۔ رات کے وقت حضرت گنگوہی ؒ کی چارپائی اپنے پاس لگوا لی ۔ آخر شب میں جب حاجی امداد اللہؒ بیدار ہو کر عبادت میں مشغول ہوئے تو حضرت گنگوہیؒ کی آنکھ کھل گئی آپؒ کچھ دیر کروٹیں بدلتے رہے مگر آنکھ نہ لگی آخر خود ہی اٹھے وضو کیا اور مسجد کے ایک گوشے میں تہجد اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو گئے۔اس سفر میں حضرت گنگوہیؒ کے پاس کپڑوں کا صرف ایک ہی جوڑا تھا اُسی کو دھوتے اور دوبارہ پہن لیتے ۔ بیالیس دن خانقاہ میں اپنے شیخ کے پاس رہے جب وہاں سے روانہ ہوئے تو حضرت حاجیؒ صاحب نے خلافت عطاءکی اور فرمایا میاں مولوی رشیدؒ جو نعمت اللہ نے مجھے دی تھی وہ آپ کو دے دی۔گنگوہ وہ عظیم بستی ہے جوتین سو سال پہلے حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کی وجہ سے اہل اللہ کا مرکز رہی۔

 تیرہویں صدی کے اواخر اور چودہویں صدی کے اوائل میں مولانا رشید احمد گنگوہی ؒکی مسندارشاد سے آراستہ ہوئی اس نے نہ صرف پورے علاقے کو، بلکہ پورے برصغیر کو انوارِ علوم نبوت سے جگمگا دیا۔ گنگوہ پہنچ کر کافی عرصہ حضرت گنگوہیؒ پر استغراق کا عالم طاری رہا کسی نے حضرت حاجیؒ صاحب سے شکایت کی تو حضرت حاجی ؒصاحب نے فرمایا:میاں غنیمت جانو کہ وہ آبادی میں ہیں۔ ان پر جو عالم گزرا ہے اگر اللہ تعالیٰ کو ان سے اصلاح خلق کا کام نہ لینا ہوتا تو خدا جانے یہ جنگلوں میں نکل جاتے۔ انہوں نے چند دنوں میں معرفت کے سمندر اپنے اندر انڈیلے ہیں۔

ایک مرتبہ خود ان کے مرشد حضر ت حاجیؒ صاحب نے خط لکھ کر حال دریافت کیا تو امامِ ربانی مولانا گنگوہیؒ نے جو جواب دیا اس کے لکھنے کے لئے آبِ زر کی اصطلاح بھی شایانِ شان نہیں ۔ حضر ت گنگوہیؒ نے تین چیزیں فرمائیں۔ فرمایا:الحمد اللہ شریعت طبیعت بن گئی ہے۔مدح و ذم یکساں معلوم ہوتی ہے۔ اور کسی مسئلہ شرعی میں کوئی اشکال باقی نہیں رہا۔

جب یہ خط حضرت حاجیؒ صاحب کے پاس پہنچا تو اسے سر پر رکھ لیا اور فرمایا اللہ اکبر ہمیں تو اب تک یہ حالات حاصل نہیں ہو سکے ۔حضرت گنگوہی ؒ نے جب گنگوہ شریف میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع کیا توشیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کی خانقاہ بالکل ویران ہو چکی تھی اس میں گھوڑوں کا اصطبل بنا لیا گیا تھا ۔ سجادہ نشینوں کو صرف سالانہ میلوں سے دلچسپی تھی ۔ حضرت گنگوہیؒ نے اپنے ہاتھوں سے اسے صاف کر کے از سرنو آباد فرمایا پھر یہیں اپنے خرچ سے ایک عمارت تعمیر فرمائی ۔ دورہ حدیث کا درس شروع فرمایا۔علم اور روح کی پیاس بجھانے کے لئے عشاق پروانوں کی طرح جمع ہونے لگے ۔ خانقاہ گنگوہ ایک مرتبہ پھر علم و عرفان کا مرکز ٹھہری۔دورہ حدیث کی باقاعدہ پوری جماعت آگئی۔ حضرت گنگوہیؒ نے صحاح ستہ کا درس جاری کر دیا اور تقریباََ اڑھائی صدیوں بعد یہ خانقاہ دوبارہ آباد ہو گئی۔

کچھ حاسدین نے سجادہ نشینوں کے کان بھرے کہ مولوی رشید اس خانقاہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے یہ حضرت کے پاس ایک وفد بنا کر آئے اور عرض کیا کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں۔حضرت ؒ نے ایک لمحہ توقف کئے بغیر فرمایا اس کام کے لئے کسی جماعت کو زحمت کر نے کی ضرورت نہ تھی آپ کسی ایک شخص کو بھی بھیج دیتے تو میں یہ جگہ خالی کر دیتا۔عصر ِ حاضر کے بہت بڑے محقق مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو سجادہ نشینوں کے اس مطالبے پر جنگ و جدل یا کم از کم مقدمہ بازی تک تو نوبت پہنچ سکتی تھی ۔ خانقاہ پر قبضہ باقی رکھنے کے لئے دین ہی کے نام پر نہ جانے کتنی تاویلات ذہن میں آتیں۔خدمتِ دین اور تحفظ ِ مسلک کی نہ جانے کتنی دہائیاں دی جاتیں اور لڑائی جھگڑے کے کتنے ہی جواز فراہم ہو جاتے، لیکن وہاں تو شریعت طبیعت بن چکی تھی اور سرکارِ دوعالمﷺ کا ارشادِ گرامی سامنے تھا جو شخص حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ترک کر دے میں اس کے لئے جنت کے درمیاں گھر دلوانے کے لئے تیار ہوں۔

حضرت نے یہ سوال بھی نہ کیا کہ جب یہ حجرہ گھوڑوں کا اصطبل بنا ہو ا تھا اس وقت آپ کہاں تھے؟ حضرت کے اس فیصلے پر طلبہ اور عقیدت مندوں کا ایک ہجوم سخت اشتعال میں تھا ۔ حضرت گنگوہی نے انہیں سختی سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اس فیصلے کے خلاف ایک لفظ زبان سے نکالے گا وہ میرا دوست نہیں دشمن ہو گا۔چنانچہ تھوڑی دیر میں آپ اپنا سامان وہاں سے اٹھا کر قریبی مسجد میں منتقل ہو گئے۔اس بے مثال ایثار ، اخلاص اور صبر کا اللہ پاک نے یہ صلہ دیا کہ چند ہی روز گزرے تھے کہ سجادہ نشین حضرات اپنے عمل پر پشیماں ہوئے اور دوبارہ آکر درخواست کی کہ آپ دوبارہ وہیں تشریف لے جائیں اور خانقاہ کو دوبارہ آباد فرمائیں۔

 حضرت نے ابتداََ انکار فرمایا، لیکن جب ان کا اصرار دیکھا تو دوبارہ وہیں تشریف لے گئے۔ پھر آخر وقت تک اِسی خانقاہ میں رونق افروز رہے۔علمِ حدیث کی اعلیٰ ترین مہارت اور سلوک و طریقت کی بے شمار منازل طے کر نے کے باوجود جب برطانوی سامراج کے مقابلے میں 1857ءکی جنگِ آزادی کا مرحلہ آیا تو مولانا گنگوہیؒخانقاہ اور درس گاہ چھوڑ کر شاملی کے محاذ پر اپنے دور کی سب سے بڑی طاقت ظالم و جابر برطانوی سامراج کے خلاف مسلح جہاد میں شریک ہوئے۔یہ تصوف کا وہ تصور تھا جو مجدد الف ثانی ؒ نے دیااور سلوک و طریقت کی منازل طے کرنے والے اپنے دور کے سب سے بڑے اللہ کے ولی سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنایا اور بالا کوٹ میں اپنی جانیں حق و باطل کی لڑائی میں اللہ کے سپرد کر دیں۔شاملی کی عارضی فتح کے بعد اس محدود وقت کی جغرافیہ کے اعتبار سے بہت چھوٹی اسلامی ریاست کے قاضی القضاة طے ہوئے یہ محکوم برصغیر کی شاید آخری اسلامی ریاست تھی۔جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد مولانا گنگوہیؒ نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں تیس سال کی بھرپور جوانی میں حضرت گنگوہی ؒ محدث دوراں، فقیہ ملت اور شیخ طریقت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد چھ ماہ کے لئے شعبِ ابی طالب والی اسیری کی سنت بھی بجا لائے۔

 تاریخ شاہد ہے کہ طریقت کے اس امام نے برطانوی سامراج سے معافی کی بھیک نہیں مانگی۔رہائی کے بعد اپنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے جہاں مولانا یحییٰ کاندھلویؒ، مولانا الیاس دہلویؒ، مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ جیسے مدرس اور داعی پیدا کیئے وہاں تحریک ریشمی رومال کے بانی مولانا محمود الحسن ؒ ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور شاہ عبدالرحیم رائےپوری ؒ جیسے مجاہد اور سلوک و طریقت میں ایک زمانے کی پیشوائی کرنے والے رہبر پیدا کئے۔مولانا رشید احمد گنگوہیؒ مسلک دیوبند کے فکر و نظر کے بانی تھے۔ یہ حضرت ہی کی تعلیمات کا خلاصہ ہے کہ دیوبند کسی متعصب فرقے کا نام نہیں نہ یہ کوئی بحث و مناظرہ کی کوئی ٹیم ہے، بلکہ در حقیقت دارالعلوم دیوبند قرآن و سنت کی اس تعبیر کا نام ہے جو صحابہ کرامؓ ، تابعین عظام ؒ اور اسلاف ِ امت کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے یہ اس علمِ صحیح کا نام ہے جو بزرگانِ دین نے پیٹ پر پتھر باندھ کر ہم تک پہنچایا ہے یہ سیرت و کردار کی اس خوشبو کا نام ہے جو صحابہ ؓ و تابعینؒ کی سیرتوں سے پھوٹی ہے یہ عزیمتوں کے اس سفر کا نام ہے جس کی تاریخ بدر و احد تک پہنچتی ہے ۔ مولانا گنگوہی ؒآخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے ڈاکٹروں نے کوشش کی کہ آنکھوں کا آپریشن کر دیا جائے تو آنکھیں ٹھیک ہو سکتی ہیں ۔

 حضرت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کچھ دن تک نماز کے سجدے سے محروم ہو جاﺅں گا ۔ متوسلین کے اصرار پر فرمایا اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ دنیا میں اللہ جس سے آنکھوں والی نعمت لے لیں گے آخر ت میں اس کے بدلے جنت دیں گے۔ویسے تو پتہ نہیں میرے اعمال اس قابل ہیں کہ نہیں چلو میں اس حدیث ہی کا مصدا ق بن جاﺅں۔کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت نابینے ہونے کے بعد ایک دن اپنی خانقاہ میں تشریف لائے تو پوچھا میری بات سننے والا کوئی ہے تو دو آدمیوں نے اپنے نام لئے ایک نے کہا حضرت میں الیاسِ دہلوی(بانی تبلیغی جماعت) اور دوسرے نے کہا میں یحییٰ کاندھلوی (شیخ الحدیث مولانا زکریا کے والد ماجد)، حضرت گنگوہیؒ نے فرمایا کہ میری ایک نصیحت غور سے سنو اللہ کا نام لینا نہ چھوڑنا ، اللہ کا نام بغیر توجہ کے بھی لیا جائے پھر بھی اپنا اثر دکھاتاہے۔

آج کے دینی مدارس اور وفاق المدارس العربیہ حضرت گنگوہیؒ کے علمی فکر کے امین ہیں اور آج کی اہل حق کی تمام خانقاہیں حضرت کے روحانی فیض کی وارث ہیں اور آج وطنِ عزیز میں سیکولر طاقتوں کے خلاف مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں نفاذ اسلام کی جد وجہد کر نے والی جمیعت علماءاسلام مولانا گنگوہیؒ کے سیاسی فکرکی محافظ ہے۔دنیا بھرمیں دعوت و تبلیغ کا کام کرنے والے تبلیغی جماعت کے احباب بھی مولانا الیاس ِ دہلوی کے مربی ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔آج دنیا میں جہاں جہاں داڑھی اور پگڑی والا مسلمان نظر آرہا ہے اس کا کوئی نہ کوئی تعلق مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ ، حاجی امداد اللہ مکیؒ و دارالعلوم دیو بند کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ ضرور ہے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن اور شیخ الہند اکیڈمی کے مدیر منتظم حافظ نصیر احمد احرار اور ان کی پوری ٹیم کو اہل حق سے وابستہ تمام طبقات مبارک باد دیتے ہیں کہ انہوں نے آنے والی نسل تک حضرت گنگوہی ؒ کا پیغام پہنچانے کے لئے ایوانِ اقبال میں ایک تاریخی پُر وقار فقیہ ملت سیمینار کا انعقاد کیا ۔

مزید : کالم