اخوان المسلمون پر مسلسل مظالم

اخوان المسلمون پر مسلسل مظالم
اخوان المسلمون پر مسلسل مظالم

  

اس وقت پوری مسلم دنیا فتنوں کی آماجگاہ بن گئی ہے۔ اسلام جو امن وسلامتی کا دین ہے اس کی سرزمین پر ہمارے دشمنوں نے ایسی ہوشیاری وچالاکی سے حالات کو خراب کیا ہے کہ ہر جانب ہمارا خون بہہ رہا ہے۔ کہیں وہ براہِ راست اس جرم کے مرتکب ہورہے ہیں اور کہیں خود امت مسلمہ ہی میں سے کچھ عناصر کو اس کام پہ لگا دیا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹیں۔ کئی نام نہاد مسلمان حکومتیں بھی اس کھیل کا حصہ ہیں۔ عالم عرب میں جو افراتفری ہے اس کو مزید بڑھانے کے لئے اخوان المسلمون کو دہشت گرد اور غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ حالانکہ اخوان کی پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ پرامن لوگ ہیں۔ اس وقت جو پراپیگنڈا ہورہا ہے اس کا توڑ اخوانی نوجوان سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ اخوان کے بارے میں اپنی چند یادداشتیں قارئین کے سامنے غوروفکر کے لئے پیش کی جائیں۔

 عرب دنیا میں امام حسن البناؒ(1906-1949ئ) نے بعمر22سال 1928ءمیں مصر میں اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی۔ یہ تحریک بہت جلد مصر کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی۔ اخوان نے زندگی کے ہرشعبے میں اپنا کام منظم کیا۔ مصری حکمرانوں کو اخوان کی مقبولیت سے خطرہ محسوس ہوا تو 1949ءمیں امام حسن البنا کو شہید کردیا گیا۔ بعد میں شاہ فاروق کا تختہ الٹا گیا اور ملک میں فوجی حکومت آئی تو اخوان پر ایک نئے ابتلا کا دورشروع ہوگیا۔ جنرل محمد نجیب کو بے دخل کرکے کرنل ناصر برسراقتدار آگیااور اپنی صدارت کا اعلان کردیا۔ صدر جمال عبدالناصر نے جھوٹے الزامات کے تحت اخوان پر پابندی لگا دی اور اس کی ساری قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا۔ عبدالقادر عودہؒ(1906-1954ئ) اور ان کے پانچ ساتھی 1954ءمیں پھانسی لگادیے گئے۔ اسی طرح مشہور مفسر، مفکر اور مصنف جناب سیدقطبؒ (1906-1966ئ)کو 1966ءمیں اسی حکومت نے تختہ¿ دار پر لٹکا دیا۔ اخوان کا تربیتی نظام بہت شاندار ہے۔ اسی نظام کی یہ خوبی ہے کہ اخوان بے پناہ مظالم کے باوجود ظالم اور ڈکٹیٹر حکمرانوں کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے ہیں۔ حسن البناؒ کی تحریک ودعوت کچی بنیادوں پر نہیں اٹھائی گئی تھی۔ یہ بہت مضبوط بنیادوں پر تعمیر کردہ وہ تحریکی ومعاشرتی اکائی ہے جس کا ہر فرد اس روح سے سرشار ہے، جو اقبالؒ کے اس شعر میں ہمیں نظر آتی ہے۔

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

اخوان کے سربراہ کو مرشدعام کہا جاتا ہے۔ اخوان کی تحریک مصر سے پورے عالم عرب میں پھیلی، اس کے اثرات سے باقی اسلامی دنیا بھی متاثر ہوئی اور پھر غیرمسلم ممالک میں بھی اخوان نے اپنے حلقے قائم کیے۔ اخوان کے دوسرے مرشد عام حسن الہضیبیؒ(1891-1973ئ) تھے جو بہت بڑے عالم دین تھے۔ ان کے بعد جناب عمر تلمسانیؒ (1904-1986ئ) مرشد عام منتخب ہوئے جو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ انھوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جو پوری دنیا میں مقبول ہوئیں۔ چوتھے مرشد عام محمد حامد ابوالنصرؒ(متوفی1996ئ) تھے۔ انھوں نے بھی اخوان کی قیادت کا حق ادا کیا۔ یہ دونوں راہنما پاکستان میں تحریک اسلامی کی دعوت پر مختلف پروگراموں میں شرکت فرماتے رہے۔ راقم الحروف کو ان دونوں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل رہا ہے اور ان کی کتب کا عربی سے اردو ترجمہ کرنے کی بھی سعادت ملی۔ عمرتلمسانیؒ کی کتاب ”شہیدالمحراب عمربن خطابؓ “اور ”یادوں کی امانت“ اور محمد حامد ابوالنصر کی کتاب ”وادی نیل کا قافلہ¿ سخت جاں“ کے نام سے چھپیں اور ان کے کئی ایڈیشن اب تک نکل چکے ہیں۔

چوتھے مرشد عام کی وفات کے بعد پانچویں مرشد عام مصطفی مشہورؒ (1921-2002ئ) منتخب ہوئے تھے،جو کئی بار پاکستان آئے۔ ان سے پاکستان اور دیگر ممالک میں کئی بار ملاقاتیں ہوئیں اور ان کے خیالات عالیہ سے مستفید ہونے کا موقع ملتا رہا۔ بہت شیریں کلام اور محبت کرنے والے بزرگ تھے۔ انھوں نے دنیا بھر میں تمام تنظیموں اور تحریکوں سے ذاتی مراسم قائم کیے تھے۔ وہ بہت بڑے داعی اور مفکر تھے۔ مصطفی مشہورؒ کی رحلت پر مامون الہضیبیؒ(1921-2004ئ) چھٹے مرشدعام منتخب ہوئے۔ یہ پارلیمان کے رکن بھی تھے اور مصر کے معروف ترین وکلا میں شمار ہوتے تھے۔ یہ چھٹے مرشد عام اخوان کے دوسرے مرشد عام کے فرزند ارجمند تھے، مگر ان کا انتخاب ان کی اپنی صلاحیت واہلیت کی وجہ سے عمل میں آیا نہ کہ دوسرے مرشد عام کے بیٹے کی حیثیت سے۔ ساتویں مرشد عام محمد مہدی عاکف حفظہ اللہ(مولود1928ئ) تھے۔ دورِ طالب علمی سے وہ اخوان کے ساتھ رہے۔ بارہا جیلوں میں گئے اور ثابت قدمی دکھائی۔ میرے کینیا میں قیام کے دوران یہ اخوان کے یوتھ ونگ کے ذمہ دار کی حیثیت سے ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (W.A.M.Y.) کے تعاون سے افریقہ میں یوتھ کیمپس اور دعوتی پروگرام منظم کرتے تھے۔ راقم کو بھی ان پروگراموں میں بطور مربی شرکت کا موقع ملتا رہا۔ بڑے بذلہ سنج اور عالی ہمت بزرگ ہیں۔ یہ واحد مرشد عام تھے جنھوں نے اپنی زندگی ہی میں قیادت میں تبدیلی کا اعلان کیا اور خود قیادت سے معذرت کی ورنہ اخوان کے اندر یہ روایت چلی آرہی تھی کہ مرشد عام تاحیات منتخب کیا جاتا تھاالّا یہ کہ مکتبِ ارشاد یاارکان جماعت اس کے خلاف عدم اعتماد کردیں۔ اخوان کی قیادت پر ایسی شخصیات ہی منتخب ہوتی رہیں جن کے خلاف عدم اعتماد کا کبھی جواز ہی نہ پیدا ہوا۔ مہدی عاکف صاحب کے بعد 2010ءمیں موجودہ مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع حفظہ اللہ(مولود1943ئ) منتخب ہوئے ۔ وہ اس وقت جیل میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت فرمائے۔

2011ءمیں عرب بہار تیونس سے اٹھی اور بیشترعرب دنیامیں پھیل گئی۔ اس کے نتیجے میں طویل عرصے کی ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہوا۔ حسنی مبارک کے ظالمانہ نظام سے قوم کو طویل جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے بعد نجات ملی۔ اخوان نے 2012ءکے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ۔ پارلیمان میں بھی وہ سب سے بڑی پارٹی تھے اور عام ووٹوں سے منتخب ہونے والے صدر مملکت جناب ڈاکٹر محمدمرسی کا تعلق بھی اخوان سے تھا۔ اس عظیم الشان کامیابی کے بعد اخوان کے خلاف عالمی سازش ہوئی۔ دنیا بھر کا کفر تلملا اٹھا۔ ایک ہی سال بمشکل گزارا تھا کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور اس وقت سے ساری قیادت اور کارکنان بھی جیلوں میں بند ہیں۔ اخوان تمام عرب ممالک میں موجود ہیں،مگر ان کی بنیادی تحریک مصر ہی کی اخوان المسلمون شمار ہوتی ہے۔ دیگر عرب ممالک کی اخوان تحریکیں بھی اس سے وابستہ ہیں اور ان کے درمیان باہمی روابط اور تبادلہ¿ خیالات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ یہ تمام تحریکیں مصری مرشد عام کو اپنا مشترکہ راہنما تصور کرتی ہیں۔

اخوان کا تذکرہ نامکمل رہے گا اگر ان کی فکر سے متاثر ہو کر ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کے مقابلے میں مومنانہ جدجہد کرنے والے اہلِ ایمان کا تذکرہ نہ ہو۔ یہ لوگ بھی اگرچہ بنیادی طور پر اخوانی ہیں، مگر انھوں نے حماس (تاسیس 15دسمبر1987ئ) کے نام سے اپنی جہادی وسیاسی تحریک کو منظم کیا۔ غزہ میں انھوں نے عام ووٹوں سے (2006ءمیں ) الیکشن بھی جیتا اور اسماعیل ہنیہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اس کے ساتھ انھوں نے بارہا اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ ہر جانب سے محصور یہ چند لاکھ کی آبادی دنیائے کفر کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکتی ہے۔ یہ سچے اہلِ ایمان لوگ ہیں،جو نہ کبھی بکے ہیں اور نہ جھکے ہیں۔ شیخ احمد یاسین شہیدکی برپا کردہ یہ تحریک بہت عظیم روایات کی حامل ہے۔ یہ اللہ کے شیر ہیں اور عالم کفر ان مٹھی بھر اہلِ ایمان کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ شیخ احمد یاسین (1936-2004ئ) کے بعد ان کے جانشین عبدالعزیزر نتیسی (1947-2004ئ) بھی شہید کردیے گئے اور ان کے بعد اب قیادت جناب خالد مشعل کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے۔ حماس کا ہربچہ اور بوڑھا، تمام مردوخواتین علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق ہیں۔

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

مزید :

کالم -