ورکنگ باﺅنڈری کی پھر خلاف ورزی....؟ (2)

ورکنگ باﺅنڈری کی پھر خلاف ورزی....؟ (2)
ورکنگ باﺅنڈری کی پھر خلاف ورزی....؟ (2)

  


پاکستان یہ بات تسلیم کرے یا نہ کرے بھارت کے سویلین اور فوجی لیڈروں کو یقین ہے کہ سرحدوں کی خلاف ورزی بھارت نہیں، پاکستان کرتا ہے اور ان کے یقین کی پانچ اہم وجوہات ہم گزشتہ قسط میں بیان کر چکے ہیں۔ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ پاکستان آرمی نے ”بارڈر ایکشن ٹیمیں“ (BATs) تشکیل دے رکھی ہیں جن کو وقتاً فوقتاً بارڈر پر لانچ کر دیا جاتا ہے۔یہ ٹیمیں باﺅنڈری کے ساتھ ساتھ IEDsلگاتی اور انڈین چوکیوں پر گھاتیں ترتیب دیتی رہتی ہیں۔

1971ءکی جنگ سے پہلے اس پاک بھارت بارڈر پر اقوام متحدہ کے نمائندے تعینات ہوا کرتے تھے جو کسی جھگڑے کی صورت میں موقع پر جا کر اس بات کا تعین کرتے تھے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی میں پہل کس نے کی ہے۔اس گروپ کو (UNMOGIP) کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ ”یونائیٹڈ نیشنز آبزرورز گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان“ کا مخفف تھا۔لیکن شملہ معاہدے کے بعد بھارت نے کہا کہ اس گروپ کی ضرورت نہیں۔چنانچہ یو این او نے اسے واپس بلا لیا۔بھارت یہ الزام لگاتا ہے کہ اس گروپ کی عدم موجودگی کا فائدہ پاکستان اٹھا رہا ہے کیونکہ پاکستان پہل کرتا ہے اور الزام ہم پر لگاتا ہے کہ پہل ہم نے کی ہے!....لیکن بھارت سے کوئی یہ پوچھے کہ اس گروپ کو دسمبر1971ءمیں واپس کرنے کا ڈول کس نے ڈالا تھا؟.... UNMOGIPکو واپس بھیج کر بھارت نے گویا اپنے ہی پاﺅں پر خود کلہاڑی ماری۔

بھارت کا موقف ہے کہ LOCیا ورکنگ باﺅنڈری کی اپنی Dynamicsہیں یعنی اس کے اپنے محرکات اور مضمرات ہیں، جو بعض اوقات ایک دوسرے کی عین ضد ہوتے ہیں۔

یہ بات ایک حد تک صحیح ہے کہ پاکستان کا میڈیا بہت ”بے صبر“ ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ میڈیا جس کسی ملک کا بھی ہو ہمیشہ ”بے صبر“ ہوتا ہے۔ صبر اور برداشت اس کی سرشست ہی میں نہیں اور بھارت کا میڈیا تو پاکستان سے بھی زیادہ ”بے صبرا“ ہے۔ ذرا یاد کیجئے مئی 1998ءکے ان اولین ایام کو کہ جب بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کر دیئے تھے تو بھارتی لیڈروں نے میڈیا پر آکر ببانگِ دہل یہ بیان دیا تھا کہ اب پاکستان کو چاہیے کہ کشمیر کو بھول جائے۔انگریزی میں ان کے الفاظ تھے Lay Off Kashmir۔

مجھے خود اچھی طرح یاد ہے، ان دنوں بھارت کا زی ٹی وی ڈش پر پاکستان میں دیکھا جا سکتا تھا۔(آج بھی دیکھا جا سکتا ہے) 11مئی 1998ءکے بھارتی جوہری دھماکوں کے بعد نئی دہلی میں ایک ٹاک شو میں بھارت کے ایک سابق سیکرٹری خارجہ ایس کے سنگھ نے کہا تھا: ”پاکستان کو اب اپنے ”آزادکشمیر“ سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔وہ کشمیر بھی ہمارا ہے“ پھر اس کے بعد اینکر نے ان سے یہ سوال کیا تھا کہ وزیراعظم جاپان اور صدر امریکہ نے دہلی سے جو اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے تو اب کیا ہوگا؟اس پر ایس کے سنگھ کا جواب تھا: ”یہ جاپانی اور امریکی سالے ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں، چند ہفتوں بعد یہ سفیر صاحبان واپس آ جائیں گے، فکر نہ کریں۔ہم نے کسی کی بیٹی تو نہیں بھگائی کہ کسی سے ڈرتے پھریں“.... ایس کے سنگھ کے یہ الفاظ اس بات کے غماز تھے کہ بھارت کو یہ دھماکے ہضم نہیں ہو رہے اور ان کا پیٹ ”آپھر“ گیا ہے۔ اس وقت امریکہ کا صدر بل کلنٹن تھا اور اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ایس کے سنگھ کا ”بیٹی بھگانے“ والا جملہ، انڈین بیورو کریسی کے ذہنی افلاس کا آئنہ دار تھا۔(امریکیوں نے شائد اس کا زیادہ نوٹس اس لئے نہیں لیا کہ وہاں بیٹیوں کا کسی کے ساتھ بھاگ جانا کچھ ایسا بڑا سماجی جرم/ دھماکہ نہیں ہوتا جیسا کہ ہمارے برصغیر میں ہوتا ہے)۔

لیکن جب کچھ روز بعد پاکستان نے بھارت کے 5دھماکوں کے جواب میں 6دھماکے کر دیئے تو پھر ایس کے سنگھوں کا منہ بند ہو گیا۔گویا بقول پنجابی محاورہ: ”نہاتی دھوتی رہ گئی تے اُتّے مکھی بہہ گئی !“

اسی اکتوبر 2014ءکی کسی تاریخ کو بھارت کے موجودہ وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے یہ بیان بھی دیا ہے: ”آج موسم تبدیل ہو چکا ہے۔بھارت میں مودی آ چکا ہے“۔.... یہ وہی بات ہوئی کہ ظالمو! قاضی آ رہا ہے۔لیکن قاضی کے آنے جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ راجیو گاندھی کے زمانے میں (1980ءکے عشرے میں) لوک سبھا میں کانگریس کی 404سیٹیں تھیں۔ان کے آرمی چیف جنرل سندر جی نے ایکسرسائز براس ٹیکس (Brass Tacks)کے پردے میں کوشش کی تھی کہ اسے ”ایکسرسائز“ سے اٹھا کر ”آپریشن براس ٹیکس“ بنا دیا جائے۔لیکن پھر کیا ہوا تھا؟.... ہوا یہ تھا کہ راجیو کو ضیاءالحق کے ساتھ ملاقات کرنی پڑی تھی۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان نے اپنا جوہری بم بنا تو لیا تھا لیکن اس کے تجربات 15,10 برس بعد کئے تھے۔ راجیو کو معلوم تھا کہ سندر جی، پاکستان آرمی کے خلاف آپریشن براس ٹیکس لانچ نہیں کر سکتا۔دوسری طرف پاکستان آرمی چیف نے چپکے سے اپنا ایک آرمرڈ ڈویژن اٹھا کر امرتسر، فیروزپور کے سامنے Move کرا دیا تھا۔یعنی دہلی کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا تھا، لہٰذا ”قاضی“کو واپس جانا پڑا تھا۔مودی صاحب کا بھی یہی انجام ہونا ہے اور آج تو مودی صاحب کے پاس پارلیمان کی 288 نشستیں ہیں۔ وہ بھلے نوازشریف صاحب سے بات نہ کریں، لیکن پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔گیدڑ بھبھکیاں ہیں تو یہ سیاسی لیڈر ایک دوسرے کو دیتے رہتے ہیں۔اسے روٹین سمجھئے۔

ہمارے جنرل قادر بلوچ صاحب کا یہ بیان تو آپ کی نظر سے گزر چکا ہوگا کہ ”ہم نے نیو کلیر وار ہیڈز شیلف پر سجانے کے لئے نہیں بنا رکھے۔ وہ ہمیشہ کولڈ سٹوریج میں نہیں رہ سکتے“.... بعد میں، جنرل صاحب، سیاستدان بن گئے اور فرمایا کہ : ”یہ دھمکی نہیں تھی، صرف اظہارِ مدعا تھا۔ میڈیا نے اس کی ”درست کوریج“ نہیں کی“۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کو انڈیا کے ساتھ جوہری مساوات (Nuclear Parity) تو حاصل ہے ہی ،میزائلوں کے باب میں بھی انڈیا پر برتری حاصل ہے۔یہ ڈیٹرنس ایسا نہیں کہ انڈیا اس کا نوٹس نہ لے۔

باقی رہی بات روائتی افواج کی تو اس باب میں اسے پاکستان پر اتنی برتری حاصل نہیں کہ وہ فُل سکیل حملے کی حماقت کر سکے۔وہ جدید اسلحہ کے ڈھیر لگاتا رہے، مغربی اسلحہ سازوں کی جیبیں بھرتا رہے اور یہودیوں کو ساتھ ملا کر دل کو تسلیاں دیتا رہے، پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔اس ”بگاڑ“ کے لئے جو روائتی عسکری برتری درکار ہے، انڈیا کے پاس وہ موجود نہیں۔میں تو یہاں تک جاﺅں گا کہ اگر آج بنگلہ دیش یا نیپال کے پاس چھوٹا موٹا کوئی ایک آدھ نیو کلیئر وارہیڈ بھی ہو تو انڈیا ڈھاکہ اور کھٹمنڈو پر بھی چڑھائی کا خواب نہیں دیکھ سکتا تھا، پاکستان کا تو ذکر ہی کیا۔موجودہ انڈو پاک ملٹری بیلنس اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی عسکری جارحیت کا خطرہ مول لے۔پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ اسلحہ کی دوڑ میں اگرچہ انڈیا کی برابری نہیں کرے گا لیکن مقابلے کے لئے جو کم سے کم عسکری استعداد پاکستان کو درکار ہوگی، اس کا ”خیال“ رکھا جائے گا۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ادارے اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، چنانچہ ورکنگ باﺅنڈری کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں گی، دونوں ممالک کے DGMO ہاٹ لائن پر بات چیت کرتے رہیں گے اور آخر کار فائرنگ بند ہو جاتی رہے گی!

امریکہ، لاکھ بھارت کا اتحادی بن جائے۔وہ پاکستان کو اتنا کمزور دیکھنا نہیں چاہے گا کہ بھارت اس کو دبوچ سکے۔سعودی عرب اور چین بھی پاکستان کو ہرگز شکست خوردہ نہیں دیکھنا چاہیں گے۔گلوبل ملٹری بیلنس کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں اور بھارت جیسے ملکوں کے سیاستدانوں کی تمنائیں کچھ اور ہوتی ہیں! ہمیں خواہ مخواہ دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔یہ حقیقت بھارت کے ملٹری کمانڈروں کو معلوم ہے کہ لائن آف کنٹرول محض ایک Punching Bagہے۔ ایک ایسی بوری ہے جس پر فریقین کے مکہ باز پنچ مارتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ مکہ بازی محض پریکٹس ہے اصل دنگل نہیں کہ اصل دنگل کا دم خم کسی رستمِ ہند میں نہیں۔ دونوں پہلوانوں نے ہاتھوں میں 440 وولٹ کے دستانے پہن رکھے ہیں جو ایک دوسرے کو دکھائے تو جا سکتے ہیں، مارے نہیں جا سکتے۔کسی ایک نے بھی اگر پنجہ آزمائی کی حماقت کی تو دونوں جل کر راکھ ہو جائیں گے!

تو پھر نتیجہ کیا نکلا؟.... کیا بارڈر پر جھڑپیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جاری رہیں گی؟.... کیا لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر پاکستان کی آبادیاں خطرے کی زد پر رہیں گی؟.... کیا دونوں ملکوں کے فوجی اور سویلین اسی طرح ہر سال مارے جاتے رہیں گے؟.... ان سوالوں کا جواب اگلی قسط میں۔(جاری ہے)

مزید : کالم