طاہر القادری کا اسلام آباد دھرنا ختم کرنے کا اعلان

طاہر القادری کا اسلام آباد دھرنا ختم کرنے کا اعلان

پاکستان عوامی تحریک کے دھرنا نشینوں کوتقریباً سوا دو ماہ بعدبالآخر اپنے گھر جانے کی اجازت مل گئی۔عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پورا ہو گیا، اور اب اگلے مرحلے میں مختلف شہروں میں دو،دو دن کے دھرنے دئیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پہلا دھرنا 23اکتوبر کو ایبٹ آباد میں ہو گا اور پھر اس کے بعد23نومبر کو بھکر،14 دسمبر کو سیالکوٹ اور 25 دسمبر کو کراچی میں دھرنے دیے جائیں گے۔انہوں نے اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کو انقلاب کا قائد قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ غریبی اور فقیری میں نام پیدا کرتے ہیں ، اپنی خودی نہیں بیچتے۔انہوں نے میڈیا کو گواہ بنا کرکہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، وہ اپنے شہداء کا قصاص لیں گے اور آئین و قانون کی حدود میں رہتے ہوئے ہی لیں گے۔14 شہیدوں کا خون نہیں بیچیں گے، شہداء کے خون کا بدلہ خون سے ہی لیا جائے گا اور کوئی دیت نہیں ہو گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے بات چیت کے کئی دور چلے لیکن ان کے اور حکومت کے درمیان کسی ایک فارمولے پراتفاق نہیں ہو سکا۔ مذاکرات میں کچھ بھی طے نہیں پایا کیونکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں حکومت جن لوگوں کو شامل کرنا چاہتی تھی انہیں وہ قبول نہیں تھے۔انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نہ دکھاتا تووہ چلاتے رہتے مگر کوئی ان کی آواز نہیں سنتا،اس لئے اگر میڈیا پر کوئی قدغن لگے گی تو وہ میڈیاکے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

گزشتہ چند دنوں سے فضا میں عوامی تحریک کے دھرنے کے ختم ہونے کی باز گشت تو سنائی دے رہی تھی لیکن طاہر القادری اس بات سے انکاری تھے۔دوران دھرنا بھی ایسے مواقع آئے جب وہ واپسی کا سفر اختیار کر سکتے تھے ، ماڈل ٹاؤن کیس کی ایف آئی آر ان کی مرضی کے مطابق درج ہو چکی تھی، جو ان کی بڑی کامیابی تھی لیکن وہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے استعفے پرمصر رہے۔

عوامی تحریک نے طاہر القادری کی سربراہی میں چودہ اگست کو لاہور سے انقلاب مارچ کا آغاز کیا تھا ، طویل سفر طے کرنے کے بعدآبپارہ چوک اسلام آباد میں وہ دھرنانشین ہو گئے، سترہ جون کو ہونے والے ماڈل ٹاؤن سانحے کو بنیاد بناتے ہوئے انہوں نے حکومت کوزیر و زبر کرنے کا ارادہ کر لیا اورنظام کو بدلنے کانعرہ بھی لگا دیا۔پرجوش تقاریر کیں اور اپنے مطالبات پیش کئے، جن میں ماڈل ٹاؤن سانحے کی ایف آئی آر،وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف کااستعفیٰ، کابینہ کی فوری تحلیل اور قومی حکومت کا قیام سر فہرست تھے۔ ماسوائے استعفوں اور نظام لپیٹنے کے ان کی تمام باتیں ایسی غلط بھی نہ تھیں لیکن بات منوانے کا انداز’قابل اعتراض ‘ ضرور تھا۔جب ان کو معاملات حل ہوتے نظر نہ آئے تو انہوں نے ریڈ زون میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا وہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب بھی بڑھے مگر پھر واپس آکر پارلیمنٹ کے سامنے ڈیرہ جما لیا،آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔بظاہر مذاکرات بے سود رہے، حکومتی ٹیمیں اورسیاسی جرگہ بھی ناکام ہوا۔عوامی تحریک نے عوامی پارلیمان بھی بنائی اور پی ٹی وی کی عمارت پر ہلہ بول کر اس کی نشریات کچھ مدت کے لئے معطل بھی کرا دیں۔جب کوئی امید بر نہ آئی تو بالآخر یکم اکتوبر کوطاہرالقادری نے انتخابات کے ذریعے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کرلیا،اس سلسلے میں انہوں نے پہلا جلسہ فیصل آباد دھوبی گھاٹ گراؤنڈ اور دوسرا لاہور مینار پاکستان میں کیا،جس کے بعد اسلام آباد پہنچ کر دھرنے کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

خوش آئند بات ہے کہ طاہر القادری نے دھرنا ختم کر کے سوا دو ماہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر آئے ، سڑکوں پر ڈیرہ ڈالے لوگوں کو بالآخر ’آزادی‘ کا پروانہ دے دیا اور اہل پاکستان نے بھی سکھ کا سانس لیا،گو کہ طاہر القادری کے دل و دماغ میں یہی بات سمائی تھی کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک نہ خود کہیں جائیں گے نہ ہی کسی اور کو جانے دیں گے۔ اس دھرنے سے وہ اپنے تمام مطلوب مقاصد تو حاصل نہیں کر پائے اسی لئے اب بھی وہ اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں، وہ شہداء کے خون کے بدلے خون ہی چاہتے ہیں لیکن آئینی حدود میں رہ کر، تویہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنا مقدمہ عدالت میں لڑیں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔

انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے،انہیں شاید اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ تبدیلی لانے کے لئے رائے عامہ کا ان کے حق میں ہونا بہت ضروری ہے اورفیصلہ صرف انتخابات کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ اب بھی انہوں نے دھرنوں کو مکمل طورپر ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ انقلابی دھرنوں کے متحرک ہونے کی’ نوید‘ دی ہے ،ان کے مطابق ایک نئے سفر کا آغازہونے جا رہا ہے لیکن ہماری تو یہی خواہش ہے کہ تیسرے دھرنے کی نوبت نہ ہی آئے(پہلا دھرناوہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دے چکے ہیں)۔

اسلام آباد دھرنے کے بخیر وعافیت خاتمے کے بعد ایک بات تو طے ہو گئی ہے کہ حکومتیں دھرنوں سے بدلی جا سکتی ہیں اور نہ ہی بدلنی چاہئیں۔ چند ہزار لوگ مل کر منتخب وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔اگر کوئی تبدیلی لانے کا خواہاں ہے تو یہ بات ذہن نشین کر لے کہ وزیر اعظم بدلنے کی تحریک قومی اسمبلی کے اندر ہی پیش کی جا سکتی ہے اور حکومت صرف اور صرف انتخابات میں اکثریت ثابت کر کے ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ طاہر القادری کے دھرنے سے ا نقلاب تو برپا نہیں ہوا اور نہ ہی نظام بدلا، جس نظام کو وہ تلپٹ کرنے کی بات کرتے تھے ،معلوم ہوتا ہے اس کی اہمیت کا انہیں بخوبی اندازہ ہو گیا ہے، تبھی انہوں نے بیلٹ پیپر کا راستہ اپنا لیا ہے۔

اس دھرنے سے عوامی تحریک اپنی تنظیمی صلاحیت منوانے میں بہر طور ضرور کامیاب ہو گئی ہے ، اتنا عرصہ ایک جگہ منظم طریقے سے جمع رہنے کاشاندار مظاہرہ ان کے کارکنان کر چکے ہیں، اور اب وہ ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر بھی ابھر سکتے ہیں۔ طاہر القادری بھرپور اندا ز میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں، تمام قانونی تقاضے پورے کریں اور تبدیلی کے لئے اپنی سیاسی جدو جہد جاری رکھیں۔ہم نے ان کالموں میں ہمیشہ دستور کی بالادستی اور آئین کی پاسداری کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے۔ہم ہر اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہیں جو آئین اور دستور کے مطابق ہو ۔ہم دعا گوہیں کہ جلد ہی یہ بات عمران خان بھی سمجھ لیں اور وہ بھی اپنے دھرنے اور ضد کو ختم کر کے تبدیلی کے لئے آئینی راستہ اپنا لیں۔

مزید : اداریہ