نان اور روٹی کی قیمت میں اضافہ

نان اور روٹی کی قیمت میں اضافہ

شہر میں نانبائیوں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان میچ پڑ گیا ہے۔ نان بائی حضرات نے میدے کی قیمتوں میں اضافے کی آڑ میں روٹی اور نان کے نرخوں میں ازخود دودوروپے کا اضافہ کرلیا، روٹی 8روپے اور نان دس روپے میں فروخت کرنا شروع کردیا ، حالانکہ آٹھ روپے کے نان کے لئے بھی پہلے ہی نرخ بڑھائے گئے تھے روٹی کی قیمت چار یا پانچ روپے سے چھ روپے اور نان کی چھ روپے سے آٹھ روپے کی گئی تھی۔ اب یہ نرخ 8روپے اور دس روپے کئے گئے، دلچسپ امر یہ ہے کہ لاہور جیسے شہر میں نرخوں میں یکسانیت نہیں ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن اور مصطفیٰ ٹاؤن جیسے علاقوں میں لوگوں سے زیادہ قیمت وصول کی جارہی تھی جبکہ پرانے شہر اور گوالمنڈی میں یہ نرخ کم تھے۔ اب ضلعی انتظامیہ نے ازخود نان کی قیمت آٹھ روپے اور روٹی 6روپے کی کردی ہے لیکن نانبائیوں نے یہ نرخ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے میدہ سستا مہیا کرنے کا مطالبہ کیا اور ضد کی کہ نان کا وزن 120گرام کردیا گیا اور نرخ دس روپے ہی ہوں گے۔

ضلعی انتظامیہ نے اپنا مؤقف منوانے کے لئے سختی شروع کی مجسٹریٹ نے چھاپے مارنا شروع کئے اور ایک سو سے زائد نان فروشوں کو گرفتار بھی کیا۔ چالان کرکے جرمانے بھی کئے گئے اس کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ نہیں ملا کہ نئی آبادیوں میں قیمت اب بھی زیادہ وصول کی جارہی ہے۔ چھاپہ مارپارٹیاں کم ہیں اور وہ قیمت دریافت اور پڑتال کئے بغیر بھی گرفتاری کرلیتی ہیں۔

یہ صورت حال خود انتظامیہ کی سستی کے باعث ہے کہ جب فلور مل مالکان آٹے اور میدے کے نرخ بڑھارہے تھے تو اس طرف توجہ نہیں دی گئی اور جب پانی سر سے گزر گیا تو کارروائی شروع کردی گئی ،نانبائیوں کی انجمن سے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے ،حالانکہ یہ سلسلہ سہ فریقی ہوتا اور ابتداء میں فلور مل مالکان کی طرف سے اضافے کے وقت ہی مذاکرات کرلئے جاتے، بہرحال اب اگر سختی سے نرخوں پر عمل کرانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اسے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ موجودہ نرخ زیادہ ہیں۔

مزید : اداریہ