برطانیہ کا ڈرون طیاروں کا دائرہ کار شام کی فضائی حدود تک بڑھانے کا فیصلہ

برطانیہ کا ڈرون طیاروں کا دائرہ کار شام کی فضائی حدود تک بڑھانے کا فیصلہ ...

لندن(بیورورپورٹ)برطانیہ نے کہا ہے کہ عراق میں دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ کے لیے پروازیں کرنے والے جاسوس طیاروں کا شام کی فضائی حدود تک دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا اور وہ اب داعش سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کے لیے دونوں ممالک میں پروازیں کریں گے۔برطانوی پارلیمان نے گذشتہ ماہ حکومت کو عراق میں فضائی حملوں کی اجازت دی تھی لیکن اس نے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت نہیں دی تھی۔برطانیہ کی شاہی فضائیہ کے تارنیڈو جنگی طیارے امریکا اور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر عراق میں داعش کے جنگجوو¿ں پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔برطانوی وزیردفاع مائیکل فالن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ریپر اور رائیویٹ جوائنٹ ڈرونز شام اور عراق میں موجود دہشت گردوں سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے کوششوں کے حصے کے طور پر اب شام کی فضائی حدود میں بھی پروازیں کریں گے''۔ تاہم ان کو ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ برطانوی جاسوس طیارے صرف وزارتی منظوری کے بعد شام کے اوپر پروازیں کریں گے یا اس کی پارلیمان سے بھی منظوری لی جائے گی۔برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے گذشتہ ہفتے یہ اعلان کیا تھا کہ افغانستان سے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے ریپر مشرق وسطیٰ منتقل کیے جارہے ہیں۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ستمبر ماہ دارالعوام میں عراق میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت سے متعلق قرارداد پر بحث کے وقت کہا تھا کہ اگر شام میں بھی فضائی حملوں کی ضرورت پیش آئی تو وہ اس کے لیے دوبارہ پارلیمان سے رجوع کریں گے۔تاہم ہنگامی انسانی صورت حال کے پیش نظر پارلیمان میں رائے شماری سے قبل بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت برطانیہ کے آٹھ جیٹ لڑاکا طیارے قبرص سے اڑ کر عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ خودمختار شمالی علاقے کردستان میں کردسکیورٹی فورسز البیش المرکہ کو اسلحہ ،گولہ بارود اور تربیت بھی دے رہا ہے۔

مزید : عالمی منظر