کھادوں کے متناسب استعمال سے پیداوار 50فیصد تک بڑھ سکتی ہے:ڈاکٹرنیاز احمد

کھادوں کے متناسب استعمال سے پیداوار 50فیصد تک بڑھ سکتی ہے:ڈاکٹرنیاز احمد

  

 لاہور(پ ر)کھادوں کے متناسب استعمال سے فصلوں کی پیداوار میں 50فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ڈاکٹر رائے نیاز احمد، وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی، راولپنڈی نے کھادوں کی مقدار معلوم کرنے کےلئے زرعی یونیورسٹی، فیصل آباد کے تیار کردہ ماڈلز کے بارے میں میڈیا بریفنگ کے دوران بتائی۔یہ ماڈلز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان کی انتھک محنت اور کوششوں کے نتیجے میں محکمہ زراعت پنجاب کے تعاون سے تیار کئے گئے ہیں۔ ان ماڈل کے متعلق معلومات زمینداروں تک پہنچانے کے لئے یو ایس ایڈ(USAID) اوراکارڈا (ICARDA) نے مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کیا ہے اور پاکستان میں اکارڈا (ICARDA) کے کنٹری مینجر ڈاکٹر عبد المجید بہت فعال کردار ادا کررہے ہیں۔

 اس میڈیا بریفنگ میں ڈاکٹر محمد رشید پرنسپل انویسٹی گیٹر، محمد رفیق اختر ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر نیاز نے بتایا کہ صوبہ پنجاب کی 80تا 90فیصد زرعی زمنیوں میں فاسفورس کی کمی ہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔ ڈاکٹر محمد رشید پرنسپل انویسٹی گیٹر نے کہا کہ اگر گندم، چاول، کپاس، کماد اور مکئی کے 50فیصد رقبے پر نائٹروجن اور فاسفورس کی متناسب مقدار استعمال کی جائے تو 260ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوںنے فاسفورس کے استعمال میں کمی کے اعداد وشمار پیش کیے اور کہا کہ 2004-05 اور 2006-07 کے درمیانی عرصے میں فاسفورس کا استعمال 26کلوگرام فی ہیکٹر سے 41کلوگرام فی ہیکٹر تک پہنچ گیا تھا لیکن فاسفورسی کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے 2011-12 میں اس کا استعمال دوبارہ 26کلوگرام فی ہیکٹر کی سطح پر آ گیا۔ انہوں نے فصلوں کی بلحاظ ضلع کھاد کی مطلوبہ مقدار معلوم کرنے کے ماڈل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر رشید نے کہا کہ کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں یہ ماڈل انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے کاشتکار کھادوں کی مقدار کا درست تعین کرکے مطلوبہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ان ماڈلز کے ذریعے نائٹروجن اور فاسفورس کی کھاد اتنی مقدار میں استعمال کی جا سکے گی جتنی مطلوبہ پیداوار کے لئے ضرورت ہو گی ۔اس طرح کھادوں کے بے جا استعمال یا ضرورت سے کم استعمال کو روکا جا سکے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کا سب سے زیادہ فائد ہ یہ ہے کہ کاشتکار گھر بیٹھ کر کھادوں کی درست مقدار کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے ۔

مزید :

کامرس -