آبی اور سولرپاورمنصوبوں پر کام تیزکیاجائے:پیاف

آبی اور سولرپاورمنصوبوں پر کام تیزکیاجائے:پیاف

لاہور(کامرس رپورٹر)پیاف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آبی اور سولر منصوبوں پر کام کی رفتار سے کاروباری طبقہ اور عوام کو آگاہی کا بندوبست کیا جائے کیونکہ آئندہ کی سرمایہ کاری اور کاروباری پروگراموں کا انحصار بجلی اور گیس کی فراہمی کے حکومتی منصوبوں پر ہوگا ۔ پیاف کے چیئرمین ملک طاہر جاوید نے کہا کہ نے بجلی اور گیس کی قلت نے ملکی صنعت اور سرمایہ کاری کے آج اور آنے والے کل کو ناقابل بھروسہ بنا رکھا ہے ۔

بزنس کمیونٹی میں مایوسی و نا امیدی پیدا ہو رہی ہے ۔صنعتوں کو گیس نہ ملنے کی شکایات پر چیئرمین نے کہا کہ سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور صنعتوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے اپنی پوری مدت کے دوران کسی منصوبہ پرکام شروع نہیں کرایا ۔ جبکہ موجودہ حکومت نے آتے ہی نندی پور پاور پراجیکٹ پر کام شروع کرایا ۔جلد بجلی ملنے کے دعوے بھی ہوتے رہے ۔نیلم جہلم کی گرد جھاڑی گئی ۔چین اور بعض دوسرے ملکوں کے اشتراک و تعاون سے سولر منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ۔ بھاشا ڈیم کا نام لیا جانے لگا ۔کارو باری طبقہ میں امیدیں روشن ہو ئیں کہ لوڈ شیڈنگ سے جلد نجات مل جائے گی ۔ ایران سے گیس حاصل کرنے کے منصوبہ کی جلد تکمیل کے ذکر سے امید پیدا ہوئی کہ چند مہینوں میں ملکی صنعت کو گیس ملنے لگے گی ۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا کہ جونہی اسلام آباد پر دھرنوں کی سیاست کے سائے پڑے بجلی اور گیس کے تمام منصوبے خاموشی کی نذر ہو چکے ہیں ۔ موجودہ حکومت سے بہتر توقعات کے باوجود شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں کہ ملکی صنعت اور عوام کو بجلی اور گیس مل سکے گی یا وعدے ہوتے رہیں گے ۔ ملک طاہر جاوید نے کہا کہ پاکستان سے سرمائے کا فرار پہلے ہی جاری ہے ۔ اگر صنعتکار بجلی اور گیس کی فراہمی سے مایوس ہو گئے تو صنعت کی منتقلی کا عمل تیز ہونے کااندیشہ پیدا ہوجائے گا ۔ اس لیے پیاف کے چیئرمین نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف پر زور دیا ہے کہ آبی اور سولر منصوبوں پر کام کی رفتار تیز تر کی جائے اور رفتار سے آگاہی کا بند و بست کیا جائے تاکہ صنعتکار اور عوام امید کی روشنی میں اچھے مستقبل کی تلاش جاری رکھیں ۔

مزید : کامرس