پاکستان کو توڑنے کی سازشیں کرنیوالے قوم سے مخلص نہیں:چوہدری مشتاق

پاکستان کو توڑنے کی سازشیں کرنیوالے قوم سے مخلص نہیں:چوہدری مشتاق

  

لندن (بیورورپورٹ)سب سے پہلے حقوق الناس ‘ اصل زندگی اللہ کی عبادت کرنا اور جس کی قسمت میں ہوتا ہے اسکو اللہ تعالی کا مہمان بنانا ہوتا ہے ہر انسان کیلئے وقت اور جگہ مقرر کی گئی ہے اللہ تعالی جس کے اوپر اپنا فضل فرما دے اسکے بیڑے پار ہو جاتے ہیں گجرات کی مصروف سیاسی شخصیت حاجی چوہدری مشتاق احمد آف دھکڑ جب مکہ المکرمہ سے واپس مانچسٹر برطانیہ پہنچے تو میڈیا سے خصوصی گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ سب سے پہلے لوگوں کے حقوق ادا کرنے چاہیں اور اللہ تعالی اس شخص کو اپنے گھر بلاتا ہے جس کے اوپر خاص فضل ہو اللہ کے گھر مکہ اور مدینہ منورہ جانے کا ایک اپنی ہی لذت ہے وہاں زندگی کا سکون ہے دنیا کی کوئی فکر نہیں رہتی بس ایک ہی تمنا رہتی ہے کہ یہاں زیادہ سے زیادہ عبادت کی جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لڑائی جھگڑا ‘ دنیاوی کاموں کے لیے کرنا جہالت کی نشانی ہے بلکہ صبر اور تحمل سے کام کرنا چاہیے اگر کسی بھائی سے کوئی غلطی ہو جائے تو درگزر سے کام لینے کی ضرورت ہے معاف کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑا ثواب ہے اور ہی اللہ کو عمل پسند بھی ہے سیاست میں اس وقت حصہ لیا جب گجرات میں کسی کسی کا نام آتا تھا جب میں نے اپنے حلقہ میں یونین کونسل چکوڑی سے الیکشن لڑا تو اللہ تعالی نے کامیابی دی اس طرح سے یہ سلسلہ جاری رہا میرے بزرگ اللہ انکو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اسی یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہو چکے ہیں صرف ڈنگہ کی سیاست میں دیکھا جائے تو آج موجود میاں طارق محمود ایم پی اے ‘ جب پہلی دفعہ صوبائی اسمبلی کے لیے میدان میں نکلے میں نے خود رضا مندی سے تیار کیا کیونکہ کولیاں شاہ حسین میاں برادرز کے مقابلے میں الیکشن میں سامنے آنے کو تیار نہ تھا انہوں نے کہا کہ جب عوام کا درد سینے میں ہو تو آپکو راستے خود بخود مل جاتے ہیں دنیا کی عارضی زندگی آخرت کی زندگی کے سامنے بے معنی ہے ہم کو آخرت کی تیاری کرنی چاہیے نئی نسل کو بھی اس سے آشنا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی رب کی طرف جلد لوٹ کر جانا ہے اور وہی دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے پاکستان میں سیاستدانوں کو صیح سمت کا تعین نہیں ہو پا رہا وہ عوام کے مسائل کو بھول رہے ہیں ملک کی سالمیت اور استحکام کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ‘ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کرنا چاہیے اور وہ ملکی ترقی کا ایجنڈا ہی ہو سکتا ہے تاکہ پاکستان دنیا بھر میں اپنی خاص پہچان قائم کر سکے اسی میں ہی عوام کی بھلائی ہے عوام غربت ‘ بیروزگاری ‘ مہنگائی جیسے مسائل سے دوچار ہیں سیاستدانوں کو کرسی کی فکر کھائے جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ انقلاب صرف اور صرف ووٹ کے ذریعے آ نا چاہیے اور ملک میں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو اس ادارے کو درستگی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو سکے ملک کو تاڑنے کی باتیں کرنیوالے ملک وقوم سے مخلص نہیں ہو سکتے سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہو تا ہے مگر حکومت گرانے کی سازشیں نہیں ہونی چاہیں ‘آئین اور قانون کی بالا دستی قائم ہونی چاہیے ۔

مزید :

عالمی منظر -