القدس کشیدگی ،اسرائیل کا نئی پولیس فورس بنانے کا اعلان

القدس کشیدگی ،اسرائیل کا نئی پولیس فورس بنانے کا اعلان

  

                                                       مقبوضہ بیت المقدس(آن لائن)اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے پرتشدد مظاہرے اور یہودی آباد کاروں پر پتھراو روکنے کے لیے ایک نئی پولیس فورس قائم کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔اسرائیلی پولیس کی جانب سے نئی یونٹ کے قیام کا اعلان اس وقت کیا گیا جب گیا فلسطینی شہریوں کے ایک مشتعل گروپ نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں سلوان کالونی میں ایک مکان پر سنگ باری کی جس پر یہودی آباد کاروں نے مبینہ طور پر طاقت کے ذریعے قبضہ کر رکھا تھا۔بیت المقدس کے اسرائیلی پولیس چیف یوحنا دانینو نے سینئر سکیورٹی عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی یروشلم میں کسی قسم کی کشیدگی قابل قبول نہیں کی جائے گی۔ ہم پرتشدد کارروائیوں کے مکمل خاتمے کے لیے ایک وسیع تر پروگرام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس اداروں کی معاونت کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی پولیس ٹاسک فورس بھی قائم کی رہی ہے جو آئے روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور سنگ باری کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ”ٹیوٹر“ پر اسرائیلی پولیس کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے۔ یوحنا دانینو کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں، کی گاڑیوں اور مکانوں پر سنگ باری، آتش زنی، شیشے کی بوتلوں کے حملے اور مسجد اقصیٰ اور اس کے گرد و پیش میں پرتشدد مظاہرے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ انہیں ہر صورت میں روکنا ہماری ذمہ داری ہے۔بیت المقدس کی پولیس ترجمان لوبا سمیر نے”اے ایف پی“ کو بتایا کہ سوموار کے روز سلوان کالونی میں فلسطینی نقاب پوش نوجوانوں نے ایک مکان پر سنگ باری اور ششیے کے ٹکڑوں سے حملہ کیا تاہم اس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے حملے کے لیے استعمال ہونے والے شیشے اور پتھروں کی بڑی مقدار قبضے میں لی ہے تاہم کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔خیال رہے کہ یہودی آباد کاروں کی ایک تنظیم”عطریت کوھانیم“ کی ہدایت پر یہودیوں کے ایک گروپ نے سلوان کالونی میں دو مکانوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیلی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ دونوں مکان خرید لیے ہیں تاہم مقامی فلسطینی شہریوں نے تنظیم کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی مکانوں پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔اسی نوعیت کا ایک واقعہ گذشتہ ماہ بھی اس کالونی میں پیش آیا تھا جب یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس کی معیت میں فلسطینیوں کے 25 رہائشی فلیٹس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی فلسطینی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔سلوان کالونی میں وادی حلوہ انفارمیشن سینٹرکے ڈائریکٹر جواد صیام نے بتایا کہ کالونی میں مقیم یہودی آباد کاروں کی تعداد 500 سےتجاوز کر چکی ہے جو کالونی کے 90 مکانوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ان یہودیوں کی کوشش ہے کہ وہ مقامی فلسطینی آبادی کو وہاں سے نکال کر ان کے مکانوں پر قبضہ کریں اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں۔

مزید :

عالمی منظر -