جرمنی میں روایتی گھریلو زندگی گزارنے کا طریقہ کار دم توڑنے لگا

جرمنی میں روایتی گھریلو زندگی گزارنے کا طریقہ کار دم توڑنے لگا

برلن (آن لائن)جرمنی میں گھریلو زندگی گزارنے کا روایتی طریقہ کار دم توڑنے لگا ۔ ہر تیسرا کنبہ روایتی ماڈل کو نظر انداز کر رہا ہے اور نوجوان شادی کے بغیر ساتھ رہنے کو فوقیت دے رہے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق 2013 میں محدود پیمانے پر کرائی جانے والی ایک مردم شماری کے مطابق گزشتہ برس ملک بھر میں بیس فیصد والدین بچوں کی تنہا پرورش کر رہے تھے۔ اس طرح یہ شرح 1996 کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہے۔ ان والدین میں سے دس فیصد غیر شادی ہیں۔ یہ شرح بھی پہلے کے مقابلے میں دوگنی ہو چکی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق جرمنی میں8.1 ملین شادی شدہ جوڑے ہیں اور ان میں سے ستر فیصد کے ہاں کم از کم ایک بچہ ہے۔ ان ستر فیصد میں بچوں کے حقیقی والدین کے ساتھ ساتھ بچوں کو گود لینے والے اور سوتیلے ماں باپ بھی شامل ہیں۔ سماجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی وجہ سے شادی کو ابھی تک جرمنی میں خاندان کی تکمیل کے لیے اہم ترین سمجھا جاتا ہے ، اور انہی کی وجہ سے اکثر جوڑے شادی کر لیتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی معاشرے میں شادی کی حقیقت اور اہمیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کنبے کے تصور میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین روزگار کی منڈی میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہیں۔ دفتروں اور کمپنیوں میں خواتین کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مشرقی جرمنی میں خاندانی تصور کچھ مختلف ہی ہے۔ وہاں بچوں والے نوجوان جوڑوں کی تعداد مغربی جرمنی سے زیادہ ہے لیکن وہاں شادیاں کرنے کا رجحان کم ہے۔

مزید : عالمی منظر