پاکستانی فلمی صنعت میں ہلچل پر بہت پ±رجوش ہوں‘مہرین جبار

پاکستانی فلمی صنعت میں ہلچل پر بہت پ±رجوش ہوں‘مہرین جبار

  

نیویارک (این این آئی)اور زندگی بدلتی ہے (2000)، کہانیاں (2001)، پہچان (2005)، دوراہا (2008)، ملال (2009)، دام (2010) اور متاع جان (2012) یہ مہرین جبار کی پاکستانی چینلز پر کامیابیوں کی لمبی قطار کی چھوٹی سی مثال ہے اور اب یہ ڈائریکٹرجیکسن ہائٹس کے ساتھ سامنے آئی ہے جو ہر جمعے کو چینل اردو ون سے نشر ہوتا ہے۔واسع چوہدری کی تحریر اور سکس سگما پلس کی پروڈکشن میں بنے اس ڈرامے میں امریکی شہر نیو یارک میں پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا احوال بتایا گیا ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں مہرین جبار نے جیکسن ہائٹس، پاکستانی ڈراموں اور سینما کے احیاءپر بات کی۔مہرین جبار نے کہا میں لگ بھگ دس برس تک نیو یارک میں مقیم رہی ہوں اور جیکسن ہائٹس ہمیشہ ہی ہمارے جنوبی ایشیائی دوستوں کی گفتگو کا حصہ رہتا ہے، جس کی وجہ یہاں ملنے والے کھانے اور گروسری اسٹورز ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ نیو یارک کا وہ علاقہ بھی ہے۔

 جہاں جنوبی ایشیائی افراد کی آبادی زیادہ ہے۔مہرین جبارنے کہا کہ یہ کام کرنے کے لیے زبردست ٹیم ہے، یہ سب بہت اچھے اداکار اور ہاں علی کاظمی کے سوا میں ان سب کے ساتھ پہلے بھی کام کرچکی ہوں جس سے کافی مدد ملی ہے، یہ کاسٹ ایک دوسرے سے کافی مانوس ہے اور اس لیے اپنے کرداروں میں ڈھل گئے ہیں، سب نے جان لگا کر کام کیا ہے تو ان کے کام کو دیکھنا واقعی اچھا تجربہ ہوگا۔مہرین جبار نے کہا کہ میں پاکستانی فلمی صنعت میں ہلچل پر بہت پ±رجوش ہوں اور میں یقیناً اپنی دوسری فلم کی منصوبہ بندی کروں گی۔مہرین جبار نے کہا کہ فلمی صنعت کی دوبارہ بحالی کے لیے ہمیں آگے دیکھنا ہوگا چاہے یہ ٹیلیویژن سے اداکاروں کی محنت کا ہی نتیجہ کیوں نہ ہو، میرا نہیں خیال اس میں کوئی برائی ہے، ہمارے پاس ٹیلیویژن میں بہت اچھا ٹیلنٹ موجود ہے اور یہ وقت ہے کہ وہ اس صلاحیت کا اظہار دوسرے میڈیم میں کریں۔

مزید :

کلچر -