ناقص نمکو اور ٹافیاں تیار کرنیوالے کارخانے بیماریاں بانٹنے لگے

ناقص نمکو اور ٹافیاں تیار کرنیوالے کارخانے بیماریاں بانٹنے لگے

  

 لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں بچوں کے کھانے پینے کی غیر معیاری اور ناقص اشیاء تیار کرنے والے 4ہزار 770کارخانوں کے خلاف کارروائی کا کیس فائلوں میں دفن ہو گیا ان اشیاء کے کھانے سے قوم کے معمار کہلانے والے کم سن بچے گلے ، پیٹ ، جگر اور معدے کے امراض کے مستقل مریض بن گئے ہیں ان اشیاء میں معروف کمپنیوں کی پروڈکٹس کے نام پر نمکو، چپس، سلانٹی، ٹافیاں ، گولیاں ،پاپڑ ، کرکرے شامل ہیں جن کی تیاری میں جانوروں کی چربی سے تیار کیا گیا گھی، گلے سڑے آلو، ناقص آئل اور غیر معیاری مصالحہ جات اور کینسر کا باعث بننے والے مختلف کلرز استعمال کئے جا رہے ہیں جو گلی محلے کی دوکانوں ، تعلیمی اداروں میں قائم کی گئی کینٹینوں ، بس سٹاپوں، ریلوے اسٹیشنوں پر کھلے عام فروخت کئے جا رہے ہیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کارخانوں کے خلاف کارروائی کے لئے سابق ڈی سی او نور الامین مینگل نے ایک سروے رپورٹ مرتب کرائی جو فوڈ اتھارٹی کو کارروائی کے لئے بھجوائی گئی مگر فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی افسروں نے کارروائی کی بجائے چند لوگوں کے خلاف کارروائی کر کے باقی فائل دفن کر دی اور جن کو سیل کیا گیا ان کو معمولی جرمانے کر کے دوبارہ کھول دیا گیا جو اب کھلے عام قوم کے معماروں کی صحت سے کھیلنے کے لئے جعلی اشیاء بنا رہے ہیں بتایا گیا ہے کہ سابق ڈی سی او نور الامین مینگل نے ٹاؤنوں کی انتظامیہ، محکمہ ماحولیات انڈسٹری اور لیبر کے ذریعے شہر میں سروے کرایا جس میں انکشاف ہوا کہ شہر کی 150یونین کونسلوں اور 9ٹاؤنوں کی حدود میں پونے پانچ ہزار جعلی فیکٹریاں قائم ہیں جو چھوٹے بچوں کے لئے ٹافیاں ، کرکرے، نمکو چپس سلانٹی وغیرہ تیار کرتی ہیں ان میں سے 70فیصد سے زائد فیکٹریوں فوڈ ایکٹ پر پورا نہیں اترتیں اور ان کی تیار کردہ اشیاء مضر صحت ہیں اور افزائش صحت کے اصولوں کے برعکس ہیں جو اب کھلے عام قوم کے معماروں کی صحت سے کھیلنے کے لئے جعلی اشیاء بنا رہے ہیں، بتایا گیا ہے کہ یہ رپورٹ مزید کارروائی کے لئے فوڈ اتھارٹی کے حوالے کی گئی مگر فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی افسروں نے یہ رپورٹ داخل دفتر کر دی ہے اور ان کی ’’مک مکا‘‘ کی نذر ہو گئی ہے اور جس کے باعث اس میں اضافہ ہو گیا ہے اس حوالے سے ڈی جی فوڈ کی ترجمان فریحہ انور سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف مستقل بنیادوں پر کارروائی کر رہے ہیں ایک کروڑ کی آبادی والے شہر میں کارروائی آسان نہیں ہے مگر فوڈ اتھارٹی اپنے وسائل سے بڑھ کر ایسے جعلسازوں کے خلاف یومیہ بنیادوں پر کارروائی کر رہی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -