لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی چیئرپرسن یوتھ لون سکیم تعیناتی کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا

لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی چیئرپرسن یوتھ لون سکیم تعیناتی کیخلاف ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ عوام کے پیسے کو کسی خاندان کے ایک فرد کے حوالے کیسے کیا جا سکتا ہے، عوامی پیسے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عدالت نے مریم نواز کی بطور چیئرپرسن یوتھ لون سکیم تعیناتی کے خلاف درخواست میں وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے یوتھ لون سکیم کے نمائندہ کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کیا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے شہری زبیر خان نیازی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکاءنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم یوتھ لون سکیم میں عوام کے سو ارب روپے کا معاملہ ہے اوراس سکیم کا سربراہ وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف کو بنادیا گیا ہے ، درخواست گزار کے مطابق مریم نواز کی تعیناتی کیلئے قواعدوضوابط کو مدنظر نہیں رکھا گیااور خدشہ ہے کہ یوتھ لون سکیم کا پیسہ سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائیگا لہذا مریم نواز کی تعیناتی کو کالعدم کیا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے پیسے کو کسی خاندان کے ایک فرد کے حوالے کیسے کیا جا سکتا ہے، عوامی پیسے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی سکتی، عدالت نے یوتھ لون سکیم کے نمائند کو30 اکتوبر کو طلب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے یوتھ لون سکیم کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اس کے سربراہ کی تعیناتی کا کیا طریقہ کار ہے۔

یوتھ لون سکیم

مزید : صفحہ آخر