اختلافات کا موسم۔ اور گریٹ گیم کا اختتام

اختلافات کا موسم۔ اور گریٹ گیم کا اختتام
 اختلافات کا موسم۔ اور گریٹ گیم کا اختتام

  

دھرنوں کا موسم اپنے اختتام کی طرف گا مزن ہے، لیکن اب دھرنوں کے بعد اختلافات کا موسم آرہا ہے۔ اختلافات کا یہ موسم ایک فطری عمل ہے۔ عمران خان اور داکٹر طاہر القادری کے راستے جدا ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور چودھریوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری دھرنے کے کنٹینر میں چودھریوں سے اپنی ناراضگی کا برملاءاظہار کرتے رہے کہ چودھریوں نے ان کی کوئی خاص مدد نہیں کی۔ چودھری سمجھدار لوگ ہیں۔ ان کو علم ہے کہ کب کس کی کتنی مدد کرنی ہے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ایک سکرپٹ کے تحت روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی کے ساتھ تمام اختلافات کا گورنر سندھ عشرت العباد کی گورنری پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ عشرت العباد نے اختلافات کے کئی موسم دیکھے ہیں ۔ وہ ان موسموں سے نبٹنا جانتے ہیں ۔ میاں نواز شریف اور میاں شہبازشریف ایک نئی ٹیم کو میدان میں ا تارنے کی تیاری میں ہیں۔ اس لئے وہ بھی جن سے اختلاف ہے ان کو ٹیم سے نکالنے کی تیاری میں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور تحریک انصاف کے درمیان بھی اب اختلافات کا ہی موسم ہے۔ ان کی جماعت نے ان کے امیر منتخب ہونے کے بعد ان سے وزارت سے استعفیٰ دلوا دیا تھا کہ امیر جماعت ایک صوبائی وزیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن شاید وزیر اعلیٰ تو ہو سکتا ہے۔ اسی لئے سراج الحق صاحب نے ابھی تک اپنی رہائش پشاور سے منصورہ میں شفٹ نہیں کی۔ وہ پشاور میں اپنا مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ تا ہم اس حوالہ سے ان کا موقف یہی ہے کہ میری بیگم اور بچے کہتے ہیں کہ اب تک میں 14 گھر تبدیل کر چکا ہوں اور وہ اب مزید گھر تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر 14 تبدیل کئے جا سکتے ہیں تو 15 واں کیوں نہیں ۔ مولانا فضل الرحمٰن ‘ آفتاب شیر پاﺅ ‘ پیر صابر شاہ ‘ اسفند یار ولی سمیت تمام ان پر متفق ہیں۔ صرف سراج الحق تیار نہیں ہیں۔ انہیں اختلافات کے موسم کا انتظار ہے۔ مولانا فضل لرحمٰن بھی اختلافات کے موسم سے ضرور لطف اندوز ہو نگے۔ وہ تو اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری کا اس موسم میں کوئی ایجنڈا نہیں لگ رہا لیکن بلاول بھی اس موسم کے شکاری لگ رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان سے باہر نظر دوڑائی جائے توبھی اختلافات کا ہی موسم نظر آرہا ہے۔ پاکستان کی تینوں ہمسایوں بھارت، ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی جاری ہے۔ بھارت کے ساتھ بات ٹھیک ہوتی نظر نہیں آرہی۔ میاں نواز شریف نے جس طرح دھرنوں سے نبٹنے کے لئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ بھارت کی گولہ باری سے نبٹنے کے لئے بھی یہی کر رہے ہیں‘ لیکن مودی اور عمران خان میں فرق ہے۔ مودی کے پاس فوج ہے اور عمران خان خان اور طاہر القادری کے پاس فوج نہیں تھی۔ مودی ایک انتہا پسند ہیں ۔ بلا شبہ انہوں نے میاں نواز شریف کی دوستی کی تمام پیشکشیں ٹھکرا دی ہیں۔ بھارت کے ساتھ حکومت پاکستان کو ایک مربوط پالیسی بنانی ہو گی۔ یہ پیار محبت نہیں چلے گا۔ حکومت تو ابھی تک خاموش ہے لیکن سینٹ ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں ارکان نے شور مچایا ہے۔ ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ پنجاب اسمبلی نے تو بلیو پاسپورٹ کے بعد بھارت کے خلاف بھی قرارداد منظور کر لی ہے۔ ایران کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی سرحدی کشیدگی ہے ۔ ایران کے ساتھ معاملات کی کشیدگی بھی معنی خیز ہے‘ وہ ایران جو مغرب کے ساتھ اپنے معاملات ٹھیک کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ جارہانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے اور دیکھیں افغانستان نے بھی کل باجوڑ ایجنسی میں پاکستان کے علاقہ میں گو لہ باری کی ہے۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو ماہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ ایک بین الاقوامی گریٹ گیم کا حصہ تھا۔ اس لئے اب سرحدوں پر جو ہو رہا ہے وہ اسی گریٹ گیم کا پارٹ ٹو ہے۔ بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بتا رہے ہیں کہ پوری دنیا چین کی پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری سے پریشان ہے۔ گوادر چین کے پاس‘ کاشغر سے گوادر تک راہداری ‘ توانائی کے شعبہ میں اتنی بڑی سرمایہ کاری۔ بھارت بھی چین کی پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ بھی اس سے خوش نہیں ہیں۔ برطانیہ تو اس گریٹ گیم میں باقاعدہ شریک ہے۔ اسی لئے سب کچھ لندن میں ہوا۔ ایم کیو ایم کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ افتخار حسین کو عمران فاروق کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین بھی دھرنے میں شریک تھی۔ اس لئے ایران کدھر ہے سب کو سمجھ آرہا ہے۔ یہ بھی کوئی راز نہیںہے کہ افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ کا کس قدر اثر ہے۔

یہ سرحدی کشیدگی اپنی جگہ لیکن میاں نواز شریف چین جا رہے ہیں۔ جن معاہدوں پر چینی صدر نے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کرنے تھے ، ان پر اب وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ چین پر دستخط ہونگے۔ شاید وزیر اعظم میاں نواز شریف اس سر حدی کشیدگی کی وجہ کو سمجھ رہے ہیں اور ان کے خیال میں اس کا بہترین جواب دورہ چین ہی ہے۔ شاید ان کے دورہ چین کے بعد صورتحال بد ل جائے گی۔ سرحدوں پر بھی سکون آجائے گا اور ملک کے اندر بھی سکون ہو جائے گا۔ گریٹ گیم بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔۔ یہ بس آخری راﺅنڈ ہے۔

مزید :

کالم -