پنچایتی فیصلے پر لڑکی کےساتھ بدسلوکی ‘ وزیراعلیٰ کا ایکشن ‘ تحقیقات کا حکم

پنچایتی فیصلے پر لڑکی کےساتھ بدسلوکی ‘ وزیراعلیٰ کا ایکشن ‘ تحقیقات کا حکم

  

احمدپورشرقیہ (نامہ نگار)احمدپورشرقیہ کے نواحی علاقہ حامدپور کلاں میں 14سالہ بچی کے ساتھ پنچایتی فیصلے پر بدسلوکی کے واقعہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سخت ایکشن لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جس کے نتیجہ میں آج ڈی ایس پیاحمدپورشرقیہ نے موقع پر جاکر تمام لوگوں کے بیانات اور صورتحال کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے بتایا فریقین نے صلح کا بیان حلفی لکھ دیا ہے۔ مبینہ واقعات کے مطابق گذشتہ روز موضع حامد پور کلاں کی بستی حکیم والا میں پنچایت نے بھائی پر الزام کی سزا بہن کو سنا دی اور بھری پنچایت میں 14 سالہ لڑکی کو برہنہ کر کے شرمناک سلوک کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر پولیس بھی موجود تھی۔ وقوعہ کے ملزم عرفان عرف ببی شاہ نے اپنی بیوی رابعہ کے ساتھ یوسف شاہ نامی نوجوان کے ناجائز تعلقات کا الزام لگایا ۔ ببی شاہ نے یہ بات اہل علاقہ اور چوکی انچارج خیر پور ڈاہا کو بھی بتائی۔ جس پر ایک پنچایت منعقد کی گئی ۔ پنچایتوں کے سرپنچ نذیرشاہ کے علاوہ چوکی انچارج پولیس جماعت علی شاہ ۔ گل حسین شاہ۔ شبیر شاہ ۔ عامر شاہ ۔ وڈے شاہ ۔ خضر شاہ۔ سجاد شاہ ۔ اسلم شاہ۔ سونے شاہ۔ نوید شاہ۔ وغیرہ نے شرکت کی جس میں سید ارشا د شاہ کی چھوٹی بیٹی مسماة ’ع‘ کو لایا گیا اور رابعہ کے خاوند عرفان عرف ببی شاہ کو کہا گیا کہ وہ اس کا بدلہ لے ۔ 14 سالہ ’ع‘ قرآن پاک اٹھا کر واسطے دیتی رہی مگر ببی شاہ نے لڑکی کے کپڑے پھاڑے اور شیطان بن کر انسانیت سوز سلوک کیا۔ لڑکی پنچایت والوں اور علاقے کے لوگوںکو واسطے دیتی رہی مگر کسی نے نہ سنی۔ اس وقوعہ پر خبروں کی اشاعت کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ پنچایتی موقع سے فرار ہوگئے ہیں۔

بدسلوکی تحقیقات

مزید :

صفحہ آخر -