پنجاب اسمبلی بھارتی جاریت کیخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاک فوج کو خراج تحسین

پنجاب اسمبلی بھارتی جاریت کیخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاک فوج کو خراج ...

  

                           لاہور( نمائندہ خصوصی/سٹاف رپورٹر)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کنٹرول لائن اور ورکنگ با¶نڈری پر بھارتی جارحیت کے خلاف قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے اس قرار داد میں بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی شدید مذمت کی گئی ہے قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بھارت بلا جواز کنٹرول لائن اور ورکنگ با¶نڈری لائن پر فائرنگ اور گولہ باری کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ بھارتی افواج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے باعث بہت سے شہری شہید جبکہ کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں ۔ قرار داد میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارتی جارحیت روکنے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اقدامات اور اپنا کردار ادا کرے ۔ قرار داد میں افواج پاکستان کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ افواج پاکستان جس طرح وطن عزیز کی جغرافیائی حدود کا تحفظ کر رہی ہیں اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں وہ لائق تحسین ہے ۔ قرار داد میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے بھی بھارتی جارحیت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیاگیا ۔ قبل ازیںوقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ محمد نواز چوہان نے بتایا کہ 31 دسمبر 2013 ءتک پنجاب میں 88 لاکھ 13 ہزار اور 73 گاڑیاں رجسٹرڈ کی گئیں جبکہ مالی سال 2012-13 ءمیں صوبہ میں مجموعی طور پر 3لاکھ97 ہزار 175 کمرشل گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے - محکمہ ٹرانسپورٹ بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ ٹھوکر تا رائے ونڈ ایل ٹی سی کی بس سروس کو بحال کر دیا جائے ‘ صوبہ میں تمام کمرشل اور پبلک سروس گاڑیاں فٹنس سرٹیفکیٹ لینے کی پابند ہیں چیکنگ کے دوران سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والی 15753 گاڑیوں کے چالان یا انہیں بند کیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ غیر معیاری سلنڈر اور فٹنس نہ رکھنے والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے یا سلنڈرو ں میں سی این جی بھروانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس حوالے سے محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب بھر میں قوائد ضوابط پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں 2013-14 ءکے دوران ایک لاکھ 22 ہزار 555 گاڑیوں کے چالان ہوئے ، 35 ہزار 43 گاڑیوں کو بند کیاگیا اور 4 کروڑ 85 لاکھ 75 ہزار اور 70 روپے غیر معیاری سلنڈر رکھنے اور فٹنس نہ ہونے پر جرمانے کی مد میں وصول کئے گئے - انہوںنے بتایا کہ ٹھوکر تا رائے ونڈ ایل ٹی سی بس کا کرایہ 40 روپے مقرر کیا گیا تا ہم فیول کی قیمتوں میں کمی بیشی پر اس میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے - انہوںنے کہا کہ 14اگست 2012 ءایک پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کے تعاون سے ٹھوکر نیاز بیگ تا رائے ونڈ 15 نئی سی این جی ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلائی گئیں مگر کمپنی نے ذاتی وجوہات کی بنا پر انہیں 13 جنوری 2013 ءکو بند کر دیا بعد ازاں ایک غیر ملکی کمپنی کے تعاون سے 14 مارچ 2013 ءکو سروس کا دوبارہ آغاز ہوا مگر اس کمپنی نے بھی 20 مئی 2013 ءکو اپنی سروس کو معطل کر دیا تا ہم یہ بات غلط ہے کہ ٹرانسپورٹ کی یہ بس سروس کسی بھتہ مافیا کے مفاد میں بند کی گئیں۔ےہاں پر ےہ بات قابل زکر ہے کہ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ محمد نواز چوہان کسی ایک رکن اسمبلی کو بھی اپنے جواب سے مطمئن نہ کر سکے۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -