متحدہ کا آزاد کشمیر حکومت سے بھی الگ ہونے کااعلان ،وزراءکواستعفے کی ہدایت

متحدہ کا آزاد کشمیر حکومت سے بھی الگ ہونے کااعلان ،وزراءکواستعفے کی ہدایت

  

اسلام آباد(اے این این) متحدہ قومی مومنٹ کا سندھ کے بعد آزاد کشمیر میں راستے جدا کرنے کا اعلان کر دیا،ایم کیو ایم کے وزراءکومستعفی ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔آزاد کشمیر حکومت سے الگ ہونے کا اعلان ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔فاروق ستار نے کہا کہ سندھ اورآزاد کشمیرکی حکومتوں سے علیحدہ ہوگئے ہیں،فیصلہ تبدیل ہونے کا امکان نہیں،پانی سرسے گزرچکاہے،بلاول بھٹوزرداری کے بیان کے بعد واپسی کا راستہ ممکن نہیں، شورمچایا گیا کہ ہم پھرحکومت میں شامل ہوجائیں گے،حکومتوں سے الگ ہونے کا فیصلہ حتمی ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ میں شہری اور دیہی ہم آہنگی جیسے اعلی مقاصد کیلئے ہم حکومت میں شامل رہے،سندھ حکومت نے آئین اورانسانی حقوق کی دھجیاں اڑادیں،پیپلزپارٹی نے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا،عمرکا لحاظ کیے بغیر قائدتحریک الطاف حسین کے خلاف بات کی گئی،الطاف حسین کیلئے تضحیک آمیزرویہ اختیارکیا گیا،الطاف حسین کے خلاف دیے گئے بیان پربلاول یا آصف زرداری نے معافی نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنے رویے کے باعث ایک صوبے کی جماعت بن گئی ہے،ہم پیپلزپارٹی سے اپنے حکومتی تعلقات کو ختم کررہے ہیں،بلاول بھٹو زرداری کاالطاف حسین سے متعلق بیان صبروضبط سے باہرہے،یہ بیان ایک وجہ بنا کہ ہمیں علیحدگی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ فاروق ستار نے کہا کہ بھٹوکا وارث بھٹوہوسکتا ہے زرداری نہیں،پیپلزپارٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے جلسہ کیا،بلاول نے تمام سیاسی جماعتوں پرتنقید کرکے اپنے کیریئرکا آغاز کیا،بلاول نے اپنے کیریئرکے آغازمیں تصادم کاراستہ اختیارکیا ہے،پیپلزپارٹی کے کم عمرچیئرمین نے الطاف حسین کے خلاف نازبیا الفاظ استعمال کیے،پیپلزپارٹی کا رویہ غیرسیاسی اور غیرجمہوری ہے،جرائم کی سرپرستی کا راستہ پیپلزپارٹی کا ہوسکتا ہے ایم کیوایم کا نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوٹا سسٹم کی مدت پوری ہوچکی ہے،اس پرنظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ قائد تحریک الطاف حسین کے خلاف27سالہ نوجوان کا حق نہیں کہ وہ بات کرے ۔ بلاول کی سیاسی کارکردگی کیا ہے ، کروڑوں روپے لگا کر ایک جلسہ اس نے کیا ہے اس جلسے میں اس نے قوم کو کیا قومی ویژن دیا۔ سیاسی جماعتوں کے خلاف ایک محاذ کھولا ہے یہ ان کے کیریئر کا آغاز ہے۔ اس عمل سے ہی واضح ہے کہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کاوارث نہیں ہوسکتا تو اس طرح محاذ آرائی اور تصادم کی سیاست سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرے۔ زمینوں پر قبضہ اور کرپشن بھٹو کی وراثت نہیں ہم بھی سیاست کے دشت کی سیاہی کررہے ہیں جو سندھ کو ساتھ لیکر نہیں چل سکتا وہ پاکستان کی 18 کروڑ عوام کو ساتھ لیکر کیسے چلیں گے۔ وہ کیسے قومی اتفاق اور اتحاد کیلئے کام کرسکتا ہے جس نے پہلے دن سے ہی جنگ کا ناکارہ بجا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلاول نے سندھ کی اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنے کی بجائے تقسیم کا راستہ اختیار کیا۔18 اکتوبر کا جلسے نے سندھ کی انتظامی تقسیم کردی۔ سندھ کے قوم پرستوں سے بھی کہوں گا کہ وہ اس بات کو نوٹ کریں کہ سندھ کی تقسیم کون چاہتا ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے اندرون سندھ احساس محرومی کا شکار ہے آج وہ احساس بیگانگی میں تبدیل ہورہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -