تحفظ پاکستان ایکٹ عبوری طور پر خلاف شریعت قرار دیدیا گیا

تحفظ پاکستان ایکٹ عبوری طور پر خلاف شریعت قرار دیدیا گیا

  

                                    اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے تحفظ پاکستان ایکٹ کو عبوری طور پر خلاف شریعت قرار دیا ہے۔ حتمی فیصلہ دینے کے لئے قانونی، دفاعی اور سیاسی ماہرین سے رائے لی جائے گی۔ مولانا شیرانی کہتے ہیں حدود اور قصاص کے مقدمات میں خاتون جج نہیں بن سکتیں۔اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ کونسل نے تحفظ پاکستان قانون کو عبوری طور پر خلاف شریعت قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ دینے کے لئے قانونی، دفاعی اور سیاسی ماہرین سے رائے لی جائے گی۔ فوج سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے بتایا کہ عمران خان کے خلاف ارسلان افتخار کا کوئی مراسلہ کونسل کو موصول نہیں ہوا۔ عمران خان کے خلاف بغیر دستخط کے ایک مراسلہ کونسل کو موصول ہوا تاہم اس پر غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے کسی رکن کے خلاف الزام پر مبنی قرارداد آئے گی تو سفارشات دیں گے۔ کونسل کی سفارشات پر صدر مملکت رکن کونسل کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ حدود اور قصاص کے مقدمات میں خاتون جج نہیں بن سکتیں۔ عبوری فیصلہ دیا ہے۔ کسی خاتون کے کسی مذہب کو چھوڑنے کی صورت میں اس کا نکاح ختم نہیں ہوتا، اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں ماہ محرم الحرام کے پیش نظرمختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی پرزور دیا اور مطالبہ کریں کہ مذہبی شناخت کے حوالے سے نفرت انگیز تقریری اور تحریری مواد پر پابندی لگائی جائے۔ کونسل کے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کسی بھی مسلمان فرقے کو کافر اور ناقابل قتل قرار دئیے جانے کو قابل مذمت قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ مذہب کے نام پر تشدد اور دہشت گردی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، کونسل چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ اس سلسلے میں قانون سازی کرے۔ کونسل نے غیر مسلموں کے تحفظ اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ پر بھی زوردیا،شوہر کے مذہب چھوڑنے سے نکاح ختم ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -