امریکہ اور ایران ،پرانے حریف نئے خفیہ حلیف

امریکہ اور ایران ،پرانے حریف نئے خفیہ حلیف

                          واشنگٹن(اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) شاہ ایران کے زوال اور امام خمینی کی آمد سے امریکہ اور ایران کے درمیان گہری دوستی کا جو سلسلہ دشمنی میں تبدیل ہوا تھا اس میں اب ایک نیا موڑ آچکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی عشروں پر محیط حریفانہ تعلقات کی برف کئی برسوں سے پگھل رہی تھی لیکن ان کی موجودہ قیادتوں نے حالات کو معمول پر لانے میں شعوری کوششیں کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ پرانے حریف اگر کھل کر دولت نہیں بنے تو کم از کم خفیہ حلیف ضرور بن گئے ہیں۔

امریکی صدر اوبامہ نے عراق اور افغانستان کے جنگی تھیٹرز سے نکلنے کی نئی سکیورٹی پالیسی اپنائی تو ساتھ میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں لچک دار رویہ اختیار کیا۔ لیکن ایران کی طرف سے واضح تبدیلی اس وقت نظر آئی جب 4اگست 2013ءمیں اس کے 66سالہ نئے صدر حسن روحانی نے اقتدار سنبھالا۔ امریکہ اور ایران کے سربراہوں کی مفاہمتی پالیسی اپنی جگہ لیکن عراق اور شام کی بدلتی ہوئی سیاست میں دونوں ممالک کی سٹریٹجک ضروریات نے بھی انہیں قریب آنے پر مجبور کر دیا ۔ حسن روحانی کے صدر بننے پر وائٹ ہاﺅس نے انہیںمبارک باد دیتے ہوئے اپنی اندر کی بات کھل کر بیان کر دی تھی کہ ایران کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر بین الاقوامی برادری کی گہری تشویش دور کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے امریکہ کی صورت میں ایک ”تیار شراکت دار“ملے گا۔

کیا امریکہ ایران کی خواہش کے مطابق پابندیاں اٹھا لے گا اورکیا ایران مغربی طاقتوں کی خواہش کے مطابق اپنے ایٹمی پروگرام کی افزدوگی کو بیس فیصد کی سطح پر لانے کو تیار ہو جائے گا ۔ ان سوالات کے جوابات پر دونوں ممالک کے آئندہ تعلقات میں پیش رفت کا انحصار ہے۔

امریکہ اور یورپ کے ساتھ ایران کی ایک بڑی وجہ تنازعہ اس کا ایٹمی پروگرام ہے جس پر مذاکرات جاری ہیں اور 24نومبر عبوری سمجھوتے کی ڈیڈ لائن ہے۔ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے اپنی تازہ ماہانہ رپورٹ میں یہ خوشخبری سنائی ہے کہ متوقع سمجھوتے کی شرائط پوری کرنے کے لئے ایران نئے اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس نے افزودہ یورینیم کی 4100کلو گرام مقدار کی قوت کو دو فیصد کم کرکے قدرتی یورینیم کی سطح پر لا دیا ہے۔ یہ اقدام چھ ماہ کے اس سمجھوتے کی شرائط کے مطابق ہے جسے جولائی میں چار ماہ کی توسیع دی گئی تھی۔زیادہ صاف یا افزودہ یورینیم ایٹمی توانائی کے پلانٹس کے لئے ایندھن کا کام دیتا ہے لیکن اس کی مزید صفائی کرکے مزید افزودہ یورینیم ایٹم بم بنانے کے کام بھی آسکتا ہے۔

اس تحریر کے وقت یعنی بدھ کے دن آسٹریا کے دار الحکومت وی آنا میں ایران کے امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ دو روزہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ باقی پانچ طاقتوں میں روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر حامد بعیدی نجد اور چھ ممالک کے تکنیکی وفد کے سربراہ یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کیتھرین ایشٹن ہیں۔ اس سے قبل کیتھرین ایشٹن ایران کے وزیر خارجہ جو اد ظریف اورامریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ سہ طرفہ مذاکرات مکمل کر چکی ہیں۔

مبصرین ان مذاکرات کے نتائج کے بارے میں بہت پر امید ہیں کہ 24نومبر سے قبل عبوری سمجھوتہ طے کیا جائے گا لیکن جیسا کہ ایرانی صدر نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر سمجھوتہ نہ بھی ہوا تو پھر بھی رابطہ قائم رہے گا۔

عراق اور شام میں ”اسلامی ریاست “ کے ابھرنے کے بعد امریکہ نے بغداد انتظامیہ کو تقویت فراہم کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا اس کی ایران کی طرف سے کم از کم خفیہ تائید کی جا رہی ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ عراق اور شام کی حد تک امریکہ اور ایران کے مفاد یکساں ہیں۔ اگر اس وجہ سے دونوں ممالک قریب آگئے ہیں تو وہ ایٹمی مسئلے کا بھی کوئی قابل قبول حل تلاش کر لیں گے او ر ان کے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مزید : صفحہ اول