یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ اپنے ہمسفر سے لڑنا چھوڑ دیں گے

یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ اپنے ہمسفر سے لڑنا چھوڑ دیں گے
یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ اپنے ہمسفر سے لڑنا چھوڑ دیں گے

  

شکاگو (نیوز ڈیسک) میاں بیوی کی تکرار، تلخی اور گھریلو جھگڑے تو ویسے بھی اچھے نہیں لیکن ایک تازہ تحقیق نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اس سے دونوں موٹاپے کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ امریکی کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 24 سے 61 سال کے 43 جوڑوں پر تجربات کئے۔ ان میں ذہنی تناﺅ، ڈپریشن، گھریلو جھگڑے، جسم میں انسولین کی مقدار اور ہارمون میں تبدیلیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی گئیں۔ تحقیق کے نتائج سے واضح ہوا کہ تکرار و تلخی کے شکار جوڑوں میں کھانے کے بعد جسم کیلوریز (حراروں) کا استعمال مناسب طور پر نہیں کرپانا جس کے باعث یہ اضافی چربی بنانے کا باعث بنتے ہیں۔ لڑائی کرنے والے جوڑوں میں سالانہ تقریباً ساڑھے پانچ کلو وزن کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔ جن لوگوں میں ڈپریشن کی بیماری بھی موجود ہو ان کا وزن اور بھی تیزی سے بڑھتا ہے۔ ان میں ہر کھانے کے بعد اوسطاً 31 حرار کم خرچ ہوتے ہیں جبکہ انسولین کی مقدار نارمل سے 12 فیصد یادہ ہوتی ہے۔ زیادہ انسولین بھی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ نتائج کی بناءپر ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ ذہنی دباﺅ، ڈپریشن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کی موجودگی میں تکرار اور جھگڑے کا منفی اثر بہت بڑھ جاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -