تھر میں اپریل کے بعد 249 بچے غذائی قلت سے جاں بحق ، حکومت کا گندم مفت تقسیم کرنے کا اعلان

تھر میں اپریل کے بعد 249 بچے غذائی قلت سے جاں بحق ، حکومت کا گندم مفت تقسیم کرنے ...
تھر میں اپریل کے بعد 249 بچے غذائی قلت سے جاں بحق ، حکومت کا گندم مفت تقسیم کرنے کا اعلان

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ حکومت کی سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تھر پارکر کے علاقے میں رواں سال میں ماہ اپریل کے بعد سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 249ہو گئی ہے۔ یہ ہلاکتیں علاقے میں شدید غذائی قلت پیدا ہونے کی وجہ سے ہوئیں ہیں جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر بچوں کی عمریں 5 سال سے بھی کم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے صحرائی علاقے میں اس سال بھی گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور مٹھی کے علاقے میں قحط کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں میں 5سال سے کم عمر کے 115بچے جبکہ پانچ سال سے زائد عمر کے 70بچے شامل ہیںجبکہ سب سے اموات مٹھی کے سول ہسپتال میں ہوئیں جہاں 185کم عمر بچے غذائی قلت کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد حکومت سندھ نے تھرپارکر کے علاقے میں گوداموں میں پڑی ہوئی گندم مقامی لوگوں میں مفت تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ حکومت نے مطابق ہر متاثرہ خاندان کو سرکاری گندم میں سے 150 کلو گرام گندم مفت دی جائے۔ یہ تقسیم تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی اور ہر مرحلے میں ہر خاندان کو 50, 50 کلو گرام گندم مفت دی جائے گی۔ واضح رہے اس سے قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی تھرپارکر میں قحط زدہ صورتحال کا نوٹس لیا تھا اور صوبائی وزیر منظور وسان کو ہدایت جاری کی تھی کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے غذائی قلت کے خاتمے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔

مزید : قومی /Headlines