انقلاب مارچ کے شرکاء کی جیب کاٹنے والا ’نوجوان‘، اگلی واردات کب ڈالےگا؟

انقلاب مارچ کے شرکاء کی جیب کاٹنے والا ’نوجوان‘، اگلی واردات کب ڈالےگا؟
انقلاب مارچ کے شرکاء کی جیب کاٹنے والا ’نوجوان‘، اگلی واردات کب ڈالےگا؟

  

یہ 1978ء کی سردیوں کا واقعہ ہے جب ایک نوجوان اپنے آبائی شہر سے ایک بس میں سوار ہوا تو کچھ دیر بعد اس کو معلوم ہوا کہ اس کی جیب کٹ چکی ہے اور اس کی تمام تر جمع پونجھی کوئی انتہائی صفائی کے ساتھ ہتھیا چکا ہے۔ نوجوان کو اس رقم کے کھو جانے کا ذرا افسوس نہ تھا ۔افسوس تھا تو یہ کہ وہ جس مقصد کے لئے گھر سے روانہ ہوا تھا وہ پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس نوجوان کو ’عالم ارواح ‘میں انتہائی محنت کے ساتھ کئی سال امام ابو حنیفہ سے علم حاصل کرنے کے بعد ہی محترم ’چی گویرا‘ تک رسائی حاصل ہوئی تھی اور انہوں نے اس نوجوان میں انقلابی روح پھونک کر اس کو ایک’ انقلابی کیلنڈر‘تیار کر کے دیا تھاجس میں 37 مرحلوں کے بعد کامیاب انقلا ب برپا کرنے کا باقاعدہ شیڈول دیا گیا تھا۔ اور آج وہ نوجوان اسی کیلنڈر کو پرنٹ کروانے کے لئے روانہ ہوا ہی تھا کہ کسی ’نامعلوم ہاتھ‘ نے اس کا انقلاب کا راستہ مسدود کر دیا تھا۔یقیناً اس نوجوان نے خود کو انتہائی بے بس محسوس کیا ہو گا اور یہی بے بسی انقلاب مارچ کے شرکاء نے بھی اس وقت محسوس کی ہو گی جب ان کے قائد انقلاب شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ان سے کہا کہ ’اٹھو سامان سمیٹو، ہم اسلام آباد سے دھرنا ختم کر رہے ہیں‘۔ اور یہ بھی شاید حسن اتفاق ہے کہ جس نوجوان کی جیب کاٹ لی گئی تھی اس کا نام بھی طاہر القادری ہی تھالیکن یہ بات الگ ہے کہ ان کا انقلاب کا ’سفر‘ آج بھی جاری ہے۔

ڈیڑھ سال قبل بھی شیخ الاسلام نے انقلاب بھرپا کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ ہزاروں کا ہجوم ساتھ لے کر حکومتی ایوانوں کے سامنے جا بیٹھے تھے۔ تب بھی انقلاب کا پہیہ چلانے کے لئے عورتوں نے اپنے زیورات ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے تھے اور پھر ہفتہ بھر انقلابی دھرنے میں ایک وہ وقت بھی آیا جب ’مبارک ہو‘ کی صدائیں بلند ہوئیں مگر حوصلہ تب ٹوٹا جب اسی عدالت عالیہ نے دوہری شہریت کے نام پر علامہ کی درخواست کی شنوائی سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ایک حکومتی ٹیم ’بات چیت‘ کے لئے کنٹینر میں آ گئی ،ایک ’انقلابی معاہدہ‘ طے پا گیا اور یوں طاہرا لقاردی نے دھرنے کے خاتمے کا ایک قدرے باعزت اعلان کر دیاتاہم واپس کینیڈا جاتے ہی انہوں نے بیان داغ دیا کہ یہ تو ابھی میں نے انقلاب کی اذان دی ہے،گویا’ نمازابھی باقی تھی میرے دوست‘۔

اس کے برعکس 2014ء میں انقلاب لانے کی کوشش کا آغاز ہوا تو حکومت وقت 14لاشیں گرا کر خود ہی انقلاب لانے کی راہ ہموار کر دی اور یوں انقلاب مارچ کو عمرمیں ’چھوٹے‘ اور قد میں ’بڑے‘ بھائی آزادی مارچ کی ہمنوائی نصیب ہوئی ۔ انقلاب مارچ کولاہور تک محدود کرنے کے لئے حکومت نے کنٹینروں کا سہارا لیا لیکن پھر ایک ’کنٹینر ‘ ہی اس ’مارچ ‘کو ستر روز تک اپنی آغوش میں پناہ دئیے اپنوں کے کئے کا حساب چکاتا رہا۔ اس ستر روزہ ’انقلابی قیام‘ کے دوران تاریخ نے بھی خود کو دہرایا اور انقلابی نوجوانوں کو پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت میں گھسنے کا موقع ملا تو علامہ صاحب نے ’عادت خطاب‘ سے تنگ آ کر با آواز بلند اقرار کر ہی دیا کہ انہوں نے پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے(یہ اعلان بالکل ’مبارک ہو‘ انداز میں تھا)۔ لیکن پھر اس اقرار پر سے پیچھے ہٹے اور اتنا پیچھے ہٹ گئے کہ آزادی مارچ کے پیچھے پیچھے واپس ڈی چوک جا کرہی سانس لی۔

اس سے قبل جب لاہور سے انقلاب مارچ کا اعلان کیا گیا تو علامہ طاہر القادری نے اعلان کیا کہ جوبھی شخص انقلاب لائے بغیر واپس آئے، اس کو شہید کر دو۔ ان کے اس اعلان سے یہ معلوم پڑا کہ شاید ان کی انقلابی کیلنڈر میں دیئے گئے 37 مراحل میں یہ آکریہ مرحلہ آن پہنچا ہے اور اس بار واقعی انقلاب آ کر ہی رہے گا ۔ اور پھر اسلام آباد پہنچے تو علامہ کا بار بار یہی کہنا تھا کہ اب تو اس حکومت کے گھر جانے ہم نہیں جائیں گے، یہاں تک کہا گیا کہ اب بات شریف برادران کی پھانسی پر ہی ختم ہو گی۔ ’عوامی پارلیمنٹ ‘کا اجلاس ہوااور ’اسپیکر ‘نے عوام سے سوالات پوچھے پھران کے جوابات پر من و عن عمل کرتے ہوئے انقلاب کو ایوان اقتدار پر منتقل کر دیا گیا۔پھرروزخطابات ہوتے رہے اور ہر خطاب میں شیخ الاسلام بضد تھے کہ’ اب یا تو یہ کفن میں پہنوں گا یا پھر نواز شریف کا اقتدار‘۔اور ایک دن تو علامہ قادری نے شہادت کی نیت سے غسل بھی کر لیامگر پھر وہی ہوا کہ مذاکراتی ٹیمیں اور سیاسی جرگہ کنٹینر میں آنے لگے ، بظاہر مذاکرات میں کوئی معاملہ تو طے نہیں پایا تھا مگر مبینہ طور پر ’مذاکرات‘ دبئی میں بھی ہوئے اور اس پر چوہدری برادران نالاں بھی ہوئے پھر اچانک سب اچھا ہو گیا اور انقلاب کو پور ملک میں پھیلانے کا فیصلہ کر دیا گیا۔ لیکن اس بار ’اسپیکر‘ نے عوامی پارلیمنٹ کا اجلاس بلائے بغیر ہی ’رولنگ‘ جاری کر دی کیونکہ یا تو اس بار ان کو علم تھا کچھ حسب آرزو جوابات نہیں ملیں گے یا پھر’عوامی پارلیمنٹ‘ سارے اختیارات ’قائد ایوان‘ کو منتقل کر چکی تھی۔

جن لوگوں کو انقلاب کی نوید سنائی گئی تھی مگر آخر میں ’دکھائی‘ نہیں گئی یقیناً افسردہ تو ہوں گے ہی مگر ان لوگوں کے باہر نکلنے سے ان کی خواہش کے مطابق نہ سہی مگرانقلاب ضرور آ گیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اب سیاستدانوں کو اپنا کیا دھرا سب خود ہی سنبھالنا ہو گا، کوئی ’خاکی والا‘ آگے بڑھ کر صفائی کرنے کا بیڑا نہیں اٹھائے گابلکہ اب تو سارے فیصلے بھی انہی کو کرنے ہوں گے اور کسی نام نہاد ’ناجائز‘ حکومت کی لاش کو کوئی ’پھول لگے کندھے‘میسر نہیں ہوں گے۔ پھر ایک انقلاب عوام کے ذہنوں میں بھی تو آیا ہے جن کو پہلی بار یہ معلوم پڑا ہے کہ جو کام کروانے پر وہ حکمرانوں کے مشکور ہوتے ہیں وہ تو دراصل ان کے حقوق ہیں اور ایک انقلاب شاہراہ دستور پر بھی آیا ہے کہ عام پاکستانیوں نے وہاں خیمے لگا کر، غسل خانے بنا کر، کپڑے دھو کر اور کھیل کود کر کے پوری دنیا کو اصلی پاکستان کی تصویر بھی دکھا دی ہے جس کوشایدہمارے اپنے حکمران بھی بھول چکے تھے۔ اگر تو انقلاب محض نواز شریف کی حکومت گرانا ہی تھا تویہ انقلاب پہلے بھی دو بار آ چکا اور آج بھی اس کا سفر ایک اور صاحب جاری رکھے ہوئے ہیں مگر ’انقلاب‘ تو آ گیا ہے، بس محسوس کرنے کی دیر ہے اور پھر شیخ الاسلام کے انقلاب کے 37مراحل بھی ابھی کہاں مکمل ہوئے ہیں۔جبکہ دوسری جانب انقلاب مارچ کے شرکاء جنوری 2013ءمیں بھی شکار بنے اور اس بار پھر ان کی جیب کاٹ لی گئی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہی ’نوجوان ‘ اگلی بار یہ واردات کب دھرائے گا۔

مزید : بلاگ