ہماری کہانی

ہماری کہانی
ہماری کہانی

  

میرے ایک دوست برطانیہ میں ہفنگٹن پوسٹ میں کام کر تے تھے، ان دنوں پشاور میں آ رمی پبلک سکول کے بچوں کو دہشت کی جنگ نے نشانہ بنایا تھا، اگلے دن موصوف دفتر پہنچے تو دو سو کے قریب سٹاف نے لائن میں کھڑے ہو کر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور اخبار انتظامیہ نے انہیں فوری طور پر کچھ وقت ماہر نفسیات کے ساتھ گزارنے کا پابند کیا،اب ان کا نفسیاتی تجزیہ شروع ہو گیا، اس خبر کو سننے کے بعد ان کے ایک ایک ردعمل کو زیر بحث لایا گیا، خیالات کا بہاؤ، رابطہ کرنے والے افراد کی تفصیل، گفتگو کے زاویے اور ان کی مینٹل ہیلتھ کو پرکھا گیا۔آ خر میں ماہر نفسیات نے تجویز کیا کہ ان کو ایک ہفتے کے ریسٹ پر بھیج کر نروس بریک ڈاؤن سے بچا یا جا ئے۔

پاکستان میں صحافت کا شعبہ خصوصاً ٹی وی چینلز سیاسی اور سماجی شعور بیدار کر نے کے دعویدار ہیں،مگر مینٹل ہیلتھ کے سوال پر ہم کہاں کھڑے ہیں اس سے پردہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ ایسا کوئی سانحہ جب ہوتا ہے تو ہمارے نیوز رومز کے بقراطوں کی حالت قبرستان کے اس گور کن جیسی ہوتی ہے، جو میتوں کی قبرستان آمد پر خوش ہوتا ہے۔ ایسے ایسے مناظر کہ خدا کی پناہ، غمگین دھنوں پر مونٹاج (Montage) ، کسی ماں یا بہن کے آنسو چھلک پڑیں تو کیا بات ہے! گویا یہ سب ان کے لئے ریٹنگ یا دھندے میں برکت کا باعث ہوتا ہے۔

اس سب سے عام لوگوں کے دِلوں پر کیا بیت رہی ہے یہ تو کسی ماہر نفسیات کا موضو ع ہے،مگراس سے ٹی وی چینلز کے اندر کام کرنے والوں پر کیا گزرتی ہے اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ۔چینلز مالکان کی کیفیت تو یہ ہوئی کہ ’’گھوڑا گھاس سے دوستی کرے تو پھر کھائے گا کیا؟‘‘ لیکن اس شعبہ کے سینئر ترین اور مراعات یافتہ لوگ بھی خاموش ہیں۔

لا ہور آ کر جس ٹی وی چینل میں جا ئے پناہ ملی وہاں پہلا سبق دفتر کے ایڈ من منیجر سے یہ ملا کہ دفتر آ نے کا وقت تو مقرر ہے، مگر جا نے کا وقت مقرر نہیں! ایسے لگا جیسے کسی بیگار کیمپ میں پھنس گیا ہوں جہاں اپنے حقوق بھول کر ملک میں سیاسی اور سما جی شعور کو بڑھانے کا اضافی فریضہ بھی سر انجام دینا ہے، الیکٹرونک میڈیا میں کام کا ماحول ایسا ہے جہاں اپنے آ پ کو بھول کے کام کرنا پڑتا ہے، فیملی لائف پر کوئی توجہ نہیں، 24 گھنٹے کام کے لئے سٹینڈ بائی رہنا پڑتا ہے، سوشل لائف تباہی سے دوچار ہے،ڈیڈ لائن کادباؤ، اضطراب، بے چینی، ترقی اور تنخواہوں کے بڑھنے کا کوئی فارمولہ نہیں، حتیٰ کہ اپنی عزت نفس کسی ’’باس‘‘ کے آ گے قر بان کر نے کے بعد یہ مراد بر آئے گی،جس میڈیا کے کارکن نے معاشرے کو شعور اور ترقی کا پیغام دینا ہے وہ خود بے چارہ معا شرے سے کٹ کر زندگی گزار رہا ہے۔ اسے اتنا وقت بھی میسر نہیں کہ دن بھر میں کو ئی اخبار، ڈھنگ کی کو ئی کتاب پڑ ھنا شروع کر دے یا شہر کے دانشور حلقوں یا سول سو سا ئٹی کے فعال طبقات سے مل کر اپنی عیا شی (intellectual) کا سامان پیدا کرے۔ مطا لعہ کی اس کمی کی وجہ سے نوجوان سوچ جرأت گفتاراور الفاظ کی فرا وانی سے محروم ہو رہی ہے۔وگر نہ صحافت کے شعبہ نے ایسے نام پیدا کئے ہیں جن کی قلم کی آ واز تا ریک راتوں میں بھی کئی مضا مین بیدار کر دیتی تھی، زما نہ ابھی تک ان کی قلمکا ریوں کا رنگ و رو غن مد ھم نہیں کر پا یا۔ اس صورتِ حال کا شکارالیکٹرو نک میڈیا کا صحا فی اندر سے روز بروز تنہا ہو رہا ہے، یہ دیمک اس کی شخصیت کو کھا رہا ہے، مسکرا تے چہرے اب جر نلزم میں نظر آ نے ختم ہو رہے ہیں، ان میں سے اکثر کی حالت پر فارسی کا یہ شعر صا دق آ تا ہے

’’شاخِ بریدہ را نظرے ، پُر بہار نیست‘‘

اس ساری صورتِ حال سے ایک اہم ترین مسئلہ پیدا ہو رہا ہے دنیا جسے مینٹل ہیلتھ کہتی ہے،اس سے ذہنی اور پروفیشنل بریک ڈاؤن کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹی وی اور اخبار کے اوقات کار ایسے ہیں کہ ایک یا دو فیصد لوگ اس فیلڈ میں صبح جلدی اٹھتے ہیں اور صبح کی سیر کا ماحول جن کو میسر ہے، اکثریت دن چڑھے یا دوپہر ایک بجے جاگتی ہے۔ایسے میڈیا کے ورکر، رپورٹر، پروڈیوسر یا ریسرچر سے آپ کیسی امید رکھ سکتے ہیں؟ظاہر ہے سب لوگ ایک جیسی ذہنی صلاحیتوں سے مالا مال نہیں ہیں، سب کا علاقائی پس منظر اور ثقافتی رنگ بھی ایک جیسے نہیں ہوتے اور سب نوجوانوں میں انفرادیت کی دیگ یکساں آنچ پر نہیں ابل رہی ہوتی، اسی لئے کچھ نوجوان صحافی ایسے بھی ہیں جن کے کام کی انفرادیت دھیمے سروں میں بولتی ہے،مگر کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کی سوچ اور کام کے جوش سے سارا گردو پیش گونج اُٹھتا ہے،مگریہ ساری صورتِ حال اس شعبے میں کام کر نے وا لے ورکروں کے حالاتِ کار سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔

الیکٹرونک میڈیا کے شعبہ میں کا م کر نے وا لے پروفیشنلز کی اوسطاً عمر 22 سال سے 35سال ہے، یہ عمر کا وہ حصہ ہے جہاں نو جوان ذہنی پختگی کی طرف جا رہے ہو تے ہیں، مگر جوں جوں وہ عمر کے اس حصے سے نکل رہے ہیں توں توں وہ میڈیا کی تیز رفتاری اور ٹاک شوز کی ریٹنگ کا ساتھ نبھانے سے قاصر ہو تے جا رہے ہیں۔ میڈیا میں اس المیہ کو ہم (Brain Drain) سے تعبیر کر سکتے ہیں،سچ پو چھئے تو اس قحط میں صحافت کے عشق سے کئی دوستوں کو دستبردار ہونا پڑ رہا ہے۔ذہنی صحت اس شعبہ میں کسی سطح پر بھی موضوع نہیں ہے، یہ بہت حیران کن ہے کہ چھٹیوں کے خانے میں مینٹل ہیلتھ کی چھٹی کا خانہ خالی ہے۔نیوز روم میں کام کرنے والے صحافیوں کے لئے ایک ما ہر نفسیات کا ہونا ہر چینل میں ضروری ہے جو ان کی ذہنی اور داخلی کیفیات کے حوالے سے (Patient Hearing) کرے۔میرے کچھ دوست ان مسا ئل کا شکار ہو کر ما ہرِ نفسیات کے پاس جا رہے ہیں، یہ ایسے مسائل ہیں جن پر میڈیا کے اندرونی حلقوں میں بھی بات نہیں ہو تی مبادا انہیں پاگل قرار دے کر نوکری سے گھر نہ بھیج دیا جا ئے۔

ہما رے شعبہ میں کسی پروفیشنل کی نو کری چلی جا ئے تو بیچارہ تیز رفتا ری کے اس بے رحم دھا رے میں اپنی مسکرا ہٹ کے ساتھ اپنے صحا فی دوستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔روز گار کی ٹرین اگر ایک دفعہ ہاتھ سے چھو ٹ جا ئے تو پتہ نہیں پھر کس مقام پر ہاتھ آئے۔اس نفسیا تی دبا ؤ اور گھٹن کے ما حول میں کام کر نے وا لے نو جوانوں سے کسی صحت مند خیال او ر مثبت اندازِ فکر کی امید رکھی جا سکتی ہے؟

اسی لئے صحافت کے میدان میں اس ما حول کی مو جو دگی میں دن رات کام کر کے جو مضا مین نو کے انبار لگا رہے ہیں اس کے لئے آرکائیوز میں تو کافی جگہ ہے مگر عام لوگوں کے دل و دماغ میں جگہ بنانا بہت مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ان تمام خرا بیوں کے تدارک کے لئے ہمارے کچھ پرو فیشنل ساتھیوں نے ایمپرا تنظیم بنا ئی تھی، مگر وہ داخلی مسا ئل اور کچھ عزیز دوستوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔

حرفِ آخر: صحا فتی اداروں اور ٹی وی چینلز کی انتظامیہ سے درخواست ہے ایک ایوارڈ کا اجراء کریں جو ان حالات میں اپنے چہرے پر مسکرا ہٹ سجا کر کام کر نے والے جرنلسٹ کو دیا جائے!

مزید : کالم