اپنی اصلا ح پر بھی توجہ دیں

اپنی اصلا ح پر بھی توجہ دیں

دوسروں پر تنقید، سرزنش، مخالفانہ بیان بازی اور آئے روز غلط کاری کے الزامات اور منفی رجحانات میں ملوث ہونے کی روش اختیار کرنے والے افراد کو اپنی اور ہم نشین و ہم عصر ساتھیوں کی سرگرمیوں کا اسی انداز سے جائزہ لینے پر بھی گاہے بگاہے توجہ دینے پر غور کرنا ہو گا۔

انسان چونکہ خطا کا پتلا ہے،اِس لئے ہر ذی شعور مرد و زن کو اس پہلو پر بھی مناسب غور و فکر، کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارے معاشرے اور علاقے میں، لوگوں کے حالات اور تہذیب و تمدن کے طور طریقے، دستیاب وسائل اور سہولتوں کے مطابق بہتر ہو سکیں،اور لوگوں کی زندگی،ایسی کوششوں اور تگ و دو سے حتیٰ المقدور آسان گزارنے کے عمل کو تقویت مل سکے۔

پاکستان تاحال ایک ترقی پذیر مُلک ہے، انسانی آبادی کے لحاظ سے یہ سرزمین، تازہ اطلاعات کے مطابق بڑھ کر دُنیا کے چھٹے نمبر پر پہنچ گئی ہے، لیکن یہاں کے مالی وسائل، بعض انسانی کوتاہیوں کی بنا پر نسبتاً کم ہیں،جس کی بڑی وجہ بدقسمتی سے سرکاری اداروں اور محکموں میں، قومی خزانے کی وسیع پیمانے پر خورد برد اور لوٹ مار کا ایک دیرینہ اور سالہا سال سے جاری تسلسل کا رجحان ہے۔

ہماری لاپرواہی سے قومی دولت اور وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار، بلا روک ٹوک کی جا رہی ہے۔چور، ڈاکو اور لٹیرے، چونکہ ہر علاقے، شعبے اور معاشی ذریعے کو، کسی طرح اپنے قبضے، تصرف اور استعمال میں لینے کے لئے باہم ہم مشورہ ہو کر اور سوچی سمجھی منصوبہ سازی کر کے اپنے غیر قانونی عزائم پر عمل کرنے کے حربے اختراع کرتے ہیں،اِس لئے وہ ان تخریبی سازشوں کو کامیاب بنانے کی خاطر، باہمی رابطے اور تعاون کاری کے طریقے بھی مضبوط بناتے ہیں۔

یاد رہے کہ بددیانت عناصر، کسی قانونی گرفت سے بچنے کے لئے اپنے مالی اور دفاعی ذرائع کو بروئے کار لا کر،اپنی منفی سرگرمیوں کا تسلسل جاری،بلکہ ان کو دیگر مقامات پر پھیلانے کی بھی کوششیں کرتے ہیں۔ان غیر قانونی وارداتوں میں ملوث اکثریت انہی شعبوں اور محکموں کے ملازم افراد اور افسران کی اطلاعات آئے دن، پڑھنے اور سننے میں آتی رہتی ہیں۔

کرپٹ افراد چونکہ ایک دوسرے کی مدد اور حمایت میں متفق ہو کر باہمی طور پر اکثر تعاون کرتے ہیں، اِس لئے ان کی سرگرمیوں اور وارداتوں پر ہاتھ ڈالنا، نسبتاً بہت مشکل عمل ہو گیا ہے،کیونکہ وہ عناصر، پکڑے جانے سے قبل اور بعد میں بڑے سیاسی افراد کی سفارشیں اور بھاری رقوم کی رشوت دے کر بھی قانونی چاہ جوئی سے بچے رہنے کے طریقے اپنانے کے کامیاب راستے نکال لیتے ہیں۔

ان حالات میں معاشرے کی تعمیری سوچ و فکر کے حامل محب وطن حضرات اور خواتین کو ملکی مسائل کے بھنور میں پھنسی کشتی کو ترقی کے راستے پر ڈالنے اور رواں دواں رکھنے کے لئے اپنا کچھ وقت،مثبت سوچ اور عملی سرگرمیاں، بروئے کار لانے کی خاطر، مجاہدانہ جذبوں اور ارادوں سے،جرأت مندی اور ہمتِ مرداں کو نصب العین بنا کر، رہنمائی کا جاندار اور نتیجہ خیز کردار ادا کرنا ہو گا۔

راقم نے تحریر ہذا کے آغاز میں ہی عرض کیا ہے کہ تنقید کرنے والے افراد کو محض دوسروں کو برا کہنے کی روش سے باز رہ کر بعض اوقات چند گھنٹوں کے لئے اپنی، اور اپنی مجلس اور پارٹی وغیرہ کے رہنماؤں اور ساتھیوں کو بھی اپنے علاقے، معاشرے اور ملکی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے لئے آمادہ، راغب اور قائل کر کے مثبت نتائج کے حصول کے لئے ممکنہ کوششیں کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...