محکمہ زراعت اور جدید تقاضے

محکمہ زراعت اور جدید تقاضے

عالمی یوم خوراک کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت، تحقیقاتی، مالیاتی اداروں اور سوسائٹی کے درمیان اشتراک عمل ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے، کیونکہ اداروں کے مابین اشتراک عمل کے بغیر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محکمہ زراعت کے درجن بھر شعبوں کے مابین اشتراک عمل مثالی ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ محکمہ زراعت کے مختلف شعبے کاشتکاروں کے لئے مختلف نوعیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن ان کے مابین اشتراک ناپید ہے۔ کاشتکاروں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئے متعدد شعبوں سے رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔

محکمہ زراعت کے مختلف شعبوں کی بات کی جائے تو ان میں توسیع، تحقیق، پیسٹ واشنگ، فیلڈر، واٹر مینجمنٹ، زرعی اطلاعات، کراپ رپورٹنگ، فلور کلچر، اکنامکس، سیڈ کارپوریشن، زرعی تحقیقاتی بورڈ جیسے شعبے شامل ہیں۔ جدید دور میں خدمات کی فراہمی میں انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ آپ سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک ایک چھت کے نیچے خرید سکتے ہیں، لیکن بیچارے کاشتکار کو کھاد کہیں سے ملتی ہے۔

بیچ کسی اور جگہ سے، زرعی مشینری کسی دوسری جگہ سے اسی طرح دیگر مسائل کے لئے مختلف شعبوں سے رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ ان شعبوں میں کچھ شعبے ایسے ہیں جو ایک طرح کی ہی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب اور شعبہ توسیع بیک وقت کاشتکاروں کو جدید سفارشات سے آگاہ کرتا ہے۔ اگر ان شعبوں کو ایک ہی انتظامی کنٹرول میں دے دیا جائے تو ان کی کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

بھارتی پنجاب میں زرعی اطلاعات اور توسیع کے شعبے ایک ہی انتظامی کنٹرول میں ہیں، اسی طرح وہاں پر مختلف زرعی شعبے جو ایک طرح کی خدمات انجام دیتے ہیں، ایک ہی انتظامی کنٹرول میں ہیں، جس کی وجہ سے ان کے مابین بہتر اشتراک عمل ہے۔ ہمارے ہاں اشتراک عمل کے فقدان کی وجہ سے محکمہ زراعت کی کارکردگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ زراعت شعبہ تحقیق نئی اقسام کی دریافت کرتا ہے اور کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لئے تحقیق کرتا ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں کاشتکاروں کے لئے جدید سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔ ان سفارشات کے معیار میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

یہ اسی صورت ممکن ہے اگر زرعی سائنسدانوں کو کاشتکاروں کے مسائل سے بخوبی آگاہی ہو۔ ہمارے زرعی سائنسدانوں کی اکثریت ایسی ہے، جنہیں فیلڈ کا تجربہ نہیں، جنہوں نے دیہات میں جا کر کاشتکاروں کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سی ایسی زرعی سفارشات مرتب کی جاتی ہیں، جن پر عمل کرنا کاشتکار کے لئے تقریباً ناممکن ہوتا ہے یا ان سفارشات کی افادیت بہت کم ہوتی ہے۔ اس طرح کی سفارشات سے کاشتکار کا محکمہ زراعت پر اعتماد مجروح ہوتا ہے اور وہ اس محکمے کی افادیت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اس طرح حل ہو سکتا ہے کہ تمام زرعی سائنسدان اپنے کیرئیر کے ابتدائی دور میں کم از کم دو سال تک محکمہ زراعت توسیع میں خدمات انجام دیں، تاکہ ان کے براہ راست کاشتکاروں سے روابط استوار ہوں۔ انہیں فیلڈ میں کام کرنے کا موقع ملے اور کاشتکاروں کے مسائل سے آگاہی حاصل ہو۔

اس طرح زرعی تحقیق کے معیار میں بہتری آئے گی اور ایسی زرعی سفارشات مرتب کی جا سکیں گی جو معیاری ہوں اور کاشتکاروں کو عملی طور پر ان سفارشات پر عمل کرنے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ اسی طرح زرعی توسیع کے عملے کو بھی زرعی سائنسدانوں کے ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں، تاکہ وہ عملی طور پر زرعی تحقیق کا مشاہدہ کریں اور جدید زرعی معلومات سے آگاہی حاصل کریں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے کسی نہ کسی طرح ایسا انتظامی بندوبست ضرور کرنا پڑے گا کہ یہ شعبے ایک ہی انتظامی کنٹرول کے تحت خدمات فراہم کر سکیں۔ اس طرح ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور ان کے مابین اشتراک عمل میں اضافہ ہو گا۔

کاشتکاروں کے دیگر اہم مسائل میں بیج، کھاد، زہریلی ادویات کی معیاری فراہمی سرفہرست ہے اس کے علاوہ جدید کاشتکاروں کے لئے زرعی مشینوں کا حصول بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

حکومت پنجاب نے زہریلی ادویات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں، لیکن ان زہروں کا بے تحاشا اور غیر ضروری استعمال ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بالخصوص ان زہروں کے سبزیوں اور پھلوں پر غیر ضروری استعمال کی وجہ سے انسانی صحت کے لئے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ خطرناک زہر نجی شعبے فروخت کرتے ہیں اور ان کے استعمال میں محکمہ زراعت کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہے۔ اس اہم مسئلے کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں بھی زہریلی ادویات فراہم کرنے والے ڈیلروں، کاشتکاروں اور محکمہ زراعت میں اشتراک عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو کاشتکار زہریلی ادویات خریدتے ہیں اور ان کو بلا ضرورت یا غلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔

ان کی رہنمائی اور حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ زہریلی ادویات فراہم کرنے والی کمپنیاں اور محکمہ زراعت باہمی اشتراک سے ان ادویات کے استعمال کے سلسلے میں کاشتکاروں کی تربیت کا اہتمام کریں، تاکہ زہریلی ادویات کے غلط استعمال کا سدِباب کیا جا سکے۔ اس طرح معیاری بیج، کھادوں اور زرعی مشینری کی فراہمی کے لئے کاشتکاروں کو سہولتیں فراہم کرتے ہوئے ان شعبوں میں اشتراک عمل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے کہ کاشتکار کو ان خدمات کے حصول کے لئے مختلف شعبوں کے پاس نہ جانا پڑے۔

جدید دور کے تقاضے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگر محکمہ زراعت اپنے فرسودہ انتظامی ڈھانچے اور سالہا سال سے رائج طریقوں کو خیرباد نہیں کہے گا تو کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے میں ناکامی ہوگی۔ محکمہ زراعت زرعی معلومات کاشتکاروں کو فراہم کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کررہا ہے۔ اس مقصد کے لئے زرعی ہیلپ لائن ، ایس ایم ایس سروس اور سمارٹ فون وغیرہ کا استعمال کیا جا رہا ہے، یہ بظاہر اچھے اقدامات ہیں، لیکن زرعی معلومات کے معیار میں جب تک بہتری نہیں لائی جاتی، زرعی معلومات کاشتکاروں کے لئے سود مند ثابت نہیں ہو ں گی۔

بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ کاشتکار تک جدید معلومات نہیں پہنچتی ہیں،بلکہ یہ ایک ثانوی مسئلہ ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ زرعی معلومات کے معیار میں بہتری لائی جائے۔ ہمارا کاشتکار بہت باشعور ہے۔ اگر گاؤں میں ایک کاشتکار نئی قسم کاشت کرے اور اس سے زیادہ پیداوار حاصل ہو تو یہ بیج پورے گاؤں کے کاشتکاروں تک پہنچ جاتا ہے۔

اگر زرعی معلومات کے معیار میں بہتر لائی جائے جو محکمہ زراعت تحقیق اور توسیع کے باہمی اشتراک سے ممکن ہے تو یہ معلومات کاشتکاروں تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، لیکن اگر زرعی معلومات ہی غیر معیاری ہیں، یعنی کاشتکار کے لئے ان کی افادیت مسلمہ نہیں تو آپ جتنی مرضی کوششیں کر لیں۔ کاشتکار ان معلومات کی طرف راغب نہیں ہوگا۔

محکمہ زراعت کی تشکیل نو کرتے وقت کاشتکاروں کی جدید ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ محکمہ زراعت کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کی پوزیشن میں آ جائے۔ صرف ایسی معلومات کی فراہمی جن سے کاشتکاروں کے مسائل حل نہ ہو سکیں،کاشتکاروں میں پذیرائی حاصل نہیں کر سکیں گی۔ محکمہ زراعت کاشتکاروں کے لئے جو خدمات انجام دے رہا ہے اور میڈیا کے ذریعے جو معلومات کاشتکاروں کو فراہم کی جارہی ہیں ان کے بارے کاشتکاروں کا کیا ردعمل ہے اور وہ ان معلومات سے کس قدر استفادہ کررہے ہیں اس سلسلے میں بھی تحقیق کی جانی چاہیے۔

کاشتکاروں کے فیڈ بیک سے محکمہ زراعت کو اپنی اصلاح کرنے میں مدد ملے گی اور ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جاسکے گا جو کاشتکاروں کے لئے زیادہ سود مند ہو۔ اس طرح یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ کاشتکاروں کو جدید زرعی معلومات فراہم کرنے کے لئے کون سا میڈیا زیادہ کارگر اور سود مند ہے۔ محکمہ زراعت کو سمجھ لینا چاہیے کہ جدید کاشتکاری میں کاشتکاروں کے مسائل کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے اس لئے محکمے کو بھی اپنے لائحہ عمل میں اسی نوعیت کی تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...