بیگم نصرت بھٹو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ

بیگم نصرت بھٹو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ
 بیگم نصرت بھٹو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج 23 اکتوبر 2017ء ’’مادر جمہوریت‘‘ اور پاکستان کی سابق خاتون اول محترمہ بیگم نصرت بھٹو کا یوم وفات ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شہیدقائدذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان نے آمرانہ سوچ کے خلاف، جس عملی جدوجہد کو عظیم الشان قربانیوں سے آراستہ کیا اس میں بیگم نصرت بھٹوکا کردار منفرد ہی نہیں ، بے مثال اور لازوال بھی ہے۔

انہوں نے پاکستان کے لئے جو خدمات سرانجام دیں وہ پاکستان اور اس کے عوام سے ان کے اٹوٹ رشتے کی علامت ہیں۔ وہ شہید قائدعوام کی شریک حیات ہی نہیں، رفیق سیاست بھی تھیں، انہیں یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ وہ پہلی خاتون رہنما تھیں جنہوں نے پہلے ایوب خاں اور پھر ضیاء الحق کی آمریت کو چیلنج کیا۔

بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت میں جمہوریت نوازی، خدمت انسانیت اور خواتین کو معاشرے میں جائز مقام دلانے کا جذبہ موجزن تھا۔ بیگم نصرت بھٹو کہا کرتی تھیں کہ ’’قومی مصروفیت کے باعثٖ مجھے اپنی گھریلو زندگی قربان کرنا پڑی‘‘ ۔۔۔بیگم نصرت بھٹو کے اس ایک جملے میں ان کی نجی زندگی اور قومی مصروفیات کی مکمل کہانی سمٹ آتی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو نے جس طرح پاکستانی خواتین کی قیادت کی، اس کے نتائج واضح شکل میں موجود ہیں۔ ستمبر 1975ء کی بات ہے، جب انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں مجھے بتایا کہ خاتون اول بننے کے بعد ان کے سامنے دو راستے تھے، ایک یہ کہ اپنی توجہ گھریلو امور پر مرکوز رکھیں اور دوسرا یہ کہ ان ضروت مندوں اور محروموں کے مسائل حل کریں جو ان کے پاس آتے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

سیاست میں خواتین کے کردار کے متعلق وہ بہت واضح نقطہ نظر رکھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین نے پہلی بار پیپلزپارٹی کے پرچم تلے آمریت کے خلاف جدوجہد شروع کی۔اس تحریک میں عورتوں نے لاٹھیاں بھی کھائیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت سب سے زیادہ مظلوم رہی ہے۔

پیپلزپارٹی کی ہمیشہ یہ سوچ رہی کہ نصف آبادی کو متحرک کئے بغیر معاشرے میں کوئی تبدیل نہیں لائی جاسکتی۔۔۔قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1978ء میں پھانسی کی کوٹھڑی سے اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کے نام خط میں بیگم نصرت بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:’’ ان بدترین حالات میں جن سے ہم پہلے کبھی نہیں گزرے تھے، آپ کی والدہ اور ہمشیرہ میرے لئے حوصلے اور امید کا ایک روشن مینار ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ان کی شاندار مجاہدانہ مدد کے بغیر حالات میرے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتے۔

عدالتوں اور انتظامیہ میں میرے لئے کوئی انصاف نہیں ہے ، صرف اللہ تعالیٰ اور عوام ہی کے ہاتھوں میں میری زندگی ہے‘‘۔

بلاشبہ بیگم نصرت بھٹو کا وہ عظیم کردار کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنے والے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب ان کی پارٹی بھی بکھر جائے گی ۔ یہ بیگم نصرت بھٹو ہی تھیں، جنہوں نے ایک طرف اس پہاڑ جیسے غم کو برداشت کیا اور دوسری طرف مایوس اور غمزدہ کارکنوں کو جمع کر کے جنرل ضیاء الحق کی نیندیں حرام کر دیں۔ بیگم نصرت بھٹو سر پر لاٹھیاں کھا کر بھی کارکنوں کے ساتھ رہیں۔ انہوں نے ابتلا ء کے وقت میں ایک ماں، ایک رہنما اور زبردست قوت ارادی کی حامل سیاست دان کا کردار بیک وقت ادا کیا۔ ان کی دلیرانہ جدوجہد جنرل ایوب خاں کے دور سے شروع ہو کر جنرل ضیاء الحق کے دور تک محیط ہے۔ جنرل ایوب خان نے جب ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی حکومت کے خلاف سرگرمیوں پر جیل میں ڈالا تو بیگم نصرت بھٹو اس کے خلاف میدان عمل میں آئیں اور ان کی رہائی کے لئے بھرپور مہم چلائی۔ 5جولائی 1977ء کو جب مارشل لاء کے ذریعے بھٹو صاحب کی حکومت غیر آئینی طور پر ختم کی گئی تو اس وقت مارشل لاء کے خلاف سینہ سپر ہوئیں اور قید و بند کی طویل تکالیف برداشت کیں۔انہوں نے کارکنوں میں جمہوری جدوجہد کے جذبے کو زندہ جاوید رکھا۔

جنرل ضیاء الحق کے جبر و ظلم کے تاریک ایام میں وہ بھٹو صاحب کے لئے طاقت کا ستون تھیں۔ اس آمرانہ دور حکومت میں بیگم نصرت بھٹو نے یادگار کردار ادا کیا۔ بیگم صاحبہ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں جرأت و ہمت کی لوبجھنے نہیں دی۔ان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی جبرو تشدد کے باوجود مستحکم ہو کر آمریت کے خلاف سینہ سپر رہی۔ بیگم نصرت بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایک تاریخ ساز بیان میں اعلان کیا تھا کہ ’’ ہم پاکستان کے لئے نسل در نسل لڑیں گے اور کسی ڈکٹیٹر کے آگے نہیں جھکیں گے‘‘۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف جمہوری جدوجہد میں اپنے اس قول کو حرف بہ حرف صحیح ثابت کیا اور پارٹی کے کارکنوں نے بیگم صاحبہ کی قیادت میں جنرل ضیاء الحق کا جس جرأت اور بہادری سے مقابلہ کیا وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ بیگم نصرت بھٹو عزم و استقلال کا پیکر اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت تھیں۔

انہوں نے اپنے کارکنوں کو جنرل ضیاء الحق کی کارروائیوں کے خلاف پیغام دیا تھا کہ ہمارے سر کٹ تو سکتے ہیں، لیکن جھک نہیں سکتے۔ بیگم نصرت بھٹو ایک درد مند اور عظیم خاتون تھیں۔ وہ نہایت شفیق، غم گسار، بلند ہمت اور جرأت مند رہنما تھیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ کے طور پر وہ کارکنوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ان کے ذاتی مسائل میں دلچسپی لیتی تھیں اور حتی المقدور مدد کرتیں۔ کارکنوں کو پارٹی کا اثاثہ سمجھتی تھیں اور پیپلزپارٹی کے کارکن بھی بیگم صاحبہ کا بے احترام کرتے تھے۔

بیگم نصرت بھٹو کی زندگی دکھوں اور غموں کی الم ناک کہانی ہے۔ زندگی کی آخری دہائی مشکل ترین اور اذیت ناک تھی۔ ان پرکیا گزر رہی تھی، وہ اس کا اظہار بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ ایک عظیم اور باقار ملک کی سابق خاتون اول کو دیکھ کر ان کی پیاری اولاد کی جو کیفیت تھی، اس سے وہ بے خبر تھیں۔

دبئی میں بیٹی بے نظیرکا گھر ان کا مسکن تھا۔ بی بی ایک فرض شناس بیٹی کی طرح اپنی ماں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ وہ ڈنر ٹیبل پر بیگم صاحبہ کو اپنے اور بلاول کے ساتھ بٹھاتی تھیں۔بختاور اور آصفہ میز کے دوسری طرف سامنے بیٹھتی تھیں۔

بی بی کا معمول تھا کہ کھانے کے بعد بیگم صاحبہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کافی دیر تک ان سے باتیں کیا کرتی تھیں،اس کا جواب بیگم صاحبہ کی خاموشی ہوتی۔ بی بی کا اپنی والدہ سے ہم کلامی کا یہ رشتہ تکلیف دہ ہونے کے باوجود قدرے اطمینان کا باعث تھا ۔

بی بی نے جس طرح ان کی خدمت کی ، بلاشبہ انہوں نے ماں کے قدموں تلے جنت میں جگہ بنالی۔ بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی میں جہاں اپنے شوہر کی موت کا جان لیوا صدمہ برداشت کیا،وہیں اپنے دونوں جلاوطن بیٹوں میرمرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی جدائی کا غم بھی برداشت کیا۔ بیگم صاحبہ طویل قید کے دوران پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہوئیں۔ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہیں۔

آخر کار بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بیگم صاحبہ22 نومبر 1982ء کو جرمنی کے شہر میونخ پہنچیں۔ ان کی صحت بے حد تشویشناک تھی، وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ دکھائی دیتی تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو نے اپنی شدید علالت کے باوجود یورپی ملکوں سے آئے ہوئے پارٹی ورکروں کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے ملک میں روایتی ظالمانہ ہتھکنڈوں سے عوام کی جو تذلیل کی ہے،پاکستان کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔

ملک کی جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھری پڑی ہیں اور ایک حکمران من مانی کر رہے ہیں۔ اس غیر آئینی فوجی حکومت کے خاتمے ہی میں ملک کی بقاء ہے، اِس لئے پاکستان کے عوام کو چاہئے کہ وہ اندرون ملک اور بیرون ملک مارشل لاء کے خاتمے، انسانی حقوق اور آئین و جمہوریت کی بحالی کے لئے آگے بڑھیں اور مارشل لاء کی پابندیوں کی پروا کئے بغیر سراپا احتجاج بن جائیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور دیگر جمہوریت پسندپاکستانیوں کا یہ فرض ہے کہ ملک میں مارشل لاء کے بظاہر مضبوط، لیکن اندر سے کھوکھلے ستونوں کو آخری ٹھوکر لگا کر زمین بوس کردیں‘‘۔

آج کے تناظر اور پاکستان کی تازہ ترین تشویشناک صورتِ حال میں بیگم نصرت بھٹو کا مساوات ویکلی لندن کو 5 جنوری 1979ء کو دیا گیا انٹرویو خاص طور پر قابل ذکر ہے، جس میں انہوں نے بھٹو صاحب کے خلاف جھوٹے مقدمہ قتل کے بارے میں کہا تھا: ’’لاہور ہائی کورٹ کی کارروائی سے برطانیہ کی اس بدنام ترین عدالت اسٹار چیمبر کی یاد تازہ ہوجاتی ہے،جہاں انصاف کے تقاضوں کو یکسر پسِ پشت ڈال کر بے گناہوں کو ٹاور آف لندن کے جلّاد کے سپرد کردیا جاتا ہے۔

اس عدالت میں قانون کا جاہ و جلال نہیں، ایک قصاب کی دکان کا منظر نظر آتا تھا۔ جناب بھٹو کے خلاف یہ قتل کا مقدمہ نہیں، بلکہ مقدمے کا قتل ہے۔

ہم انصاف چاہتے ہیں اور عوام انصاف کے خواہاں ہیں۔ ہم ایسے بے گناہ کی بریت چاہتے ہیں جو اتفاق سے پاکستان کے عوام کا منتخب نمائندہ ہے۔ وفاق اپنے رہنما کے لئے انصاف کا طالب ہے، وفاق سے بریت چاہتاہے ، عوام اس سے کم تر کوئی چیز قبول نہیں کریں گے۔ناانصافی پر مبنی فیصلے کو عوام کی منتخب پارلیمنٹ میں تحقیقات کے لئے پیش کیا جائے گا۔

اگر مارشل لاء نے انصاف کی آبروریزی کی تو پارلیمنٹ اس سازش کی تحقیقات بھی کرے گی،جو عوام کے منتخب نمائندے کو عدالتی کارروائی کی آڑ میں قتل کے لئے کی گئی ہے ‘‘۔۔۔ بیگم نصرت بھٹو کے اس تاریخی بیان کی بازگشت آج بھی پاکستان کے سیاسی اور قانون نافذ کرنے والے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے اور ان کا یہ سوال ہنوز تشنہ لب اور شرمندۂ تعبیر ہونے کا منتظر ہے۔ تاریخ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو کے قتل تک کی سازشوں کے بے نقاب ہونے کی منتظر ہے۔

مزید : کالم