پختونوں کے دیس میں

پختونوں کے دیس میں
پختونوں کے دیس میں

74521کلومیٹر پر محیط علاقے کو 1901ء میں شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام دیا گیا۔ یہاں کے عوام کے دیرینہ مطالبے پر 2010ء میں اس کا نام بدل کر خیبرپختونخوا رکھ دیا گیا۔ صوبہ 26 اضلاع پر مشتمل ہے اور اس کی آبادی تازہ مردم شماری کے مطابق 30.50 ملین ہے۔

خیبرپختونخوا کاطویل بارڈر افغانستان سے ملتا ہے،جس سے آمدورفت ہر وقت جاری رہتی ہے۔ پاسپورٹ اور ویزے کی پابندی حال ہی میں لگی ہے۔

پہاڑوں، جھیلوں اور دریاؤں کی یہ سرزمین قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ صوبے کا دارالحکومت پشاور تاریخی طور پر جنوبی ایشیا اور سینٹرل ایشیا کے درمیان تجارتی گزرگاہ کے علاوہ بیرونی فاتحین کے لئے بھی راستہ رہا ہے اس لئے اس پر کئی تہذیبوں کا اثرہے، جس میں گندھارا نمایاں ہے۔

پشاور میں اسی تہذیب کے آثار کی امین گورگٹھڑی پر میں نے پی ٹی وی کے لئے فلم بنائی تھی۔صوبے کے باسی دلیر اور محنتی لوگ ہیں اور اپنی روایات سے بہت زیادہ جڑے ہوئے ہیں اسلحے کو زیور سمجھتے ہیں ، کاش وہ ہتھیار رکھ کر قلم و قرطاس کو اپنا زیور بنا لیں۔ زمانۂ امن میں پشاور سے روزانہ کابل کے لئے بس چلتی تھی میں بھی اسی بس کے ذریعے 1973 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیاست کے ایک گروپ کے ساتھ کابل جا چکا ہوں۔ یہ میرا پہلا غیرملکی سفر تھا پھر درجنوں غیرملکی دورے ہوئے اور معاملہ چالیس ملکوں تک پہنچ گیا۔جب تک زندگی کا سفر جاری ہے یہ چھوٹے موٹے سفر بھی جاری رہیں گے۔

جنوری 1998ء میں پی ٹی وی کے خبرنامے میں وزیراعظم نوازشریف اور عالمی بینک کے صدر کے درمیان ملاقات کی غلط خبر(دراصل یہ ملاقات سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی) کے ردِعمل میں ڈائریکٹر نیوزکا چارج کنٹرولر پریزینٹیشن اور نیوز کاسٹر اظہر لودھی کو دے دیا گیا تو میرے لئے بھی ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی۔ لودھی صاحب نے مجھے سینئر نیوز ایڈیٹر بنا کرپشاور ٹرانسفر کر دیا۔ میرے ذہن میں ایک بات پہلے سے موجود تھی کہ ہر نیوز پروڈیوسر کو کم از کم ایک سال ہر سنٹر پر گزارنا چاہئے اور میں اس کا اظہار بھی کرتا رہتا تھا۔ میرے خیال میں اس طرح وہ ایک اچھا نیوز مین اور بہترمنیجربن سکتا ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے کیریئر پلاننگ پر توجہ نہیں دی گئی ، کسی کے کیریئر کے دوران چھ سات دفعہ ٹرانسفر ہوئی اور کسی کا سرے سے کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ پھر کوئی آ کر ڈیسک پر بیٹھ گیا تو وہ اگلے تیس سال وہیں بیٹھا رہا۔ جو پروڈکشن میں گھس گیا اُس نے پورے کیریئر میں کوئی اورکام نہیں سیکھا ، کوئی صرف رپورٹنگ تک محدود ہو گیا۔

اس سے لوگوں کا skill بھی محدود ہو گیا اور سینئرز کے لئے کچھ مشکلات بھی پیدا ہو گئیں، کیونکہ اگر کسی کو اُس دائرے سے باہر ٹرانسفر کیا گیا تو اُس نے اسے انتقامی کارروائی پر محمول کر لیا۔اس کے علاوہ لوگ سینئر پوزیشنوں پرپہنچنے کے بعد تجربے کی کمی کی وجہ سے اپنے عہدوں سے انصاف نہ کر سکے۔ میں باقی سنٹروں پر تو شروع میں ہی ہو آیا تھا۔ پشاور جانے کا موقع اچانک اور قدرے دیر سے آیا۔

پشاور سنٹر پر شعبۂ نیوز میں اُس وقت میرے ایک بیج میٹ محمد سلیم صاحب تھے اُن کے علاوہ سینئرز میں طارق جاوید صاحب اور عبدالجمیل صاحب تھے اور رپورٹنگ میں نمایاں نام حسن مہمندصاحب کا تھا جنہوں نے فلم رپورٹیں بنانے میں خصوصی دلچسپی لی۔ پشاور میں تقریباً ایک سال کے قیام کے دوران خیبرپختونخوا دیکھنے کا موقع ملا۔ کئی دفعہ وی آئی پیز کے ساتھ سرحدی علاقوں میں جانا ہوا۔ لنڈی کوتل سے چلنے والی ٹورسٹ ریل کا سفر فیملی کے ساتھ کیا۔ کارخانو بازار میں شاپنگ کا موقع ملا۔ کارخانو بازار غیرملکی سامان کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔چترال کا دورہ کیا بمبوریت میں کیلاش فیسٹیول دیکھا۔

شیندور پولو میچ اورکیلاش فیسٹیول چترال کا خصوصی سالانہ فیچر ہیں۔ لواری ٹنل کھلنے سے چترال کے لئے زمینی راستہ کھل گیا ہے اِس سے اِس علاقے میں سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا اور اس کا علاقے کی معیشت پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔چترال کے لئے فلائٹ پشاور ہی سے جاتی ہے۔

دورے کے نتیجے میں چترال کے بارے میں چار فلمیں خبرنامے میں شامل کروائیں۔ میر ے خیال میں پی ٹی وی نے شمالی علاقوں کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ چترال، گلگت ، سکردو، ہنزہ ، کاغان ،ناران اور سوات میں لوگوں کو دکھانے کے لئے بہت کچھ ہے ۔

میں سکردو کے علاوہ سارے علاقے دیکھ چکا ہوں ۔ سوات تو میں زمانہ طالب علمی سے جاتا رہا ہوں،جن لوگوں نے سوات نہیں دیکھا اُن کی معلومات کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ سوات طویل وادی ہے اور سارا علاقہ قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ میاں دم، مالم جبّہ، بحرین، مدین، کالام، اوشو اور گھبرال وغیرہ قابل دید مقامات ہیں۔ مالم جبہ میں Skiing Resort ہے۔ اگر سوات میں امن رہتا تو اب تک سیاحت کا شعبہ بہت آگے جا چکا ہوتا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کا بھی دورہ کیا اور کئی فلمیں بنائیں۔

میرے پشاور میں قیام کے دوران پاکستان نے افغانستان کو گندم کا تحفہ دینے کا فیصلہ کیا۔ گندم لے جانے والے ٹرک نوشہرہ میں افغان ناظم الامور کے حوالے کئے گئے۔ میں اس کوریج کے لئے خود چلا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اس تقریب میں سابق وزیر اطلاعات میاں عبدالستار لالیکا مرحوم موجود تھے۔ میرے ان سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر تھوڑا سا حیران ہوئے ، کہنے لگے کہ آپ اسلام آباد سے تو یقیناً نہیں آئے تو کیا آپکی ٹرانسفر ہو گئی ہے۔

میں نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے بتایا نہیں، میں نے کہا میں عنقریب آپ کو بتانے ہی والا تھا۔ ایک دفعہ اخبار میں آیا کہ وزیراعظم ولی باغ آ رہے ہیں۔ اُس دن میں دفتر پہنچا تو پتہ چلا کہ ہماری ٹیم ولی باغ روانہ ہو گئی ہے۔ ٹیم وہاں معلومات کے لئے پھرتی رہی ،لیکن وزیراعظم نہیں آئے یہ بات ہیڈکوارٹر کو بُری لگی۔ پرویز رشید صاحب چیئرمین تھے۔ انہوں نے حکم دیا کہ پتہ کریں یہ ٹیم کس نے بھیجی ہے، کیونکہ ہماری طرف سے تو پی ٹی وی کو وزیراعظم کے دورے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور اس سے حکومت کی سبکی کا پہلو نکلتا تھا۔

ٹیم میرے مشورے کے بغیر جی ایم نے بھیجی تھی۔ میں دفتر کے لئے روانہ ہو چکا تھا، لیکن جی ایم نے غیرضروری جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔ میں نے رپورٹ لکھی اور بھیجنے سے پہلے جی ایم کو دکھائی۔ وہ کچھ پریشان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا نام نکال دیں، میں نے نکال دیا۔

پشاور میں میرا قیام فیڈرل لاج میں رہا۔ وہاں قیام پذیر ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسلم بھوتانی سے میری دوستی ہو گئی۔ وہ بعد میں ملازمت کو خیرباد کہہ کر سیاست میں آئے اورپرویز مشرف کے دور میں بلوچستان اسمبلی کے سپیکر رہے، وہیں پر اللہ بخش ملک سے بھی ملاقات رہی وہ ڈی ایم جی افسر ہیں اور وہاں ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن تھے آج کل پنجاب میں سیکرٹری پرائمری ایجوکیشن ہیں۔ پولیس کے رانا الطاف مجید سے بھی ملاقات رہی وہ ایف سی میں تھے۔ وہ میرے ایک کزن غلام عباس سرگانہ کے قریبی دوست ہیں۔

وہیں رانا صاحب کے سینئر ضمیر عالم سے بھی ملاقات ہو گئی انہیں میں اُس وقت سے جانتا تھا جب وہ بطور اے ایس پی زیر تربیت تھے۔ میری شادی ہوئی تو انہوں نے میرے لئے سوات میں رہائش وغیرہ کا بندوبست کیا وہ ان دنوں ایس پی سوات تھے۔فرنٹیئر پوسٹ اخبار کے مالک رحمت شاہ آفریدی اور جنگ گروپ سے منسلک ممتاز صحافی رحیم اللہ یوسف زئی سے بھی ملاقات ہوئی۔

بزرگ صحافی جناب شریف فاروق (جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے) نے میرے لئے خاص طور پر کھانے کا انتظام کیا۔ انفارمیشن کے جناب اقبال سکندر صاحب بھی اس میں شامل تھے۔

2 فروری 1999ء کو پشاور سے میری ٹرانسفر اسلام آباد ہو گئی۔ ابھی میں وہیں تھا تو سنٹر پر کسی جونیئر ملازم کا انتقال ہو گیا۔ یونین کا ایک نمائندہ میرے پاس آیا۔ اُس نے مطالبہ کیا کہ اس کی خبر بلیٹن میں شامل کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں۔

یونین نے مجھے اس انکار کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے جی ایم آفس کو اپروچ کیا، تاکہ میرے سنٹر سے فارغ ہونے کا آرڈر رکوا لیا جائے، لیکن وہ آرڈر مجھے چند گھنٹے پہلے مل چکا تھا لہٰذا میں نے وہاں سے چارج چھوڑ دیا۔ بعد میں یونین والوں نے میری LPC (لاسٹ پے سکیل۔

اس کے بغیر تنخواہ نہیں مل سکتی) رُکوا لی۔بعد میں جب میں ڈائریکٹر نیوز بن گیاتو پشاور کے سینئر نیوز ایڈیٹر طارق جاوید صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک لائٹس مین نے اُن سے بدتمیزی کی ہے۔ میں نے لائٹس مین کو اُسی سنٹر پر پروگرام ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کرا دیا۔

وہ صاحب یونین کے کوئی عہدیدار تھے لہٰذا یونین والوں نے بہت بُرا منایا۔ کچھ دنوں بعد اسلام آباد سنٹر پر یونین کی ایک تقریب ہوئی۔ پشاور یونین کے ایک صاحب نے اُس میں تقریر کرتے ہوئے اس معاملے پر میرے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ سرگانہ صاحب کا پشاور سنٹر سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

تقریب سامنے لان میں ہو رہی تھی۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا یہ سب کچھ سن رہا تھا۔ کسی نے اُسے منع نہیں کیا اور صورتحال کی وضاحت نہیں کی کہ ڈائریکٹر سارے پی ٹی وی کا ہوتا ہے، وہ ایک سنٹر تک محدود نہیں ہوتا۔

بہرحال اگلے دن وہی صاحب جنہوں نے میرے خلاف تقریر کی تھی کوئی درخواست لے کر میرے کمرے میں آ گئے۔ میں نے انہیں پوچھا کہ کل شایدآپ ہی تقریر میں میری اتھارٹی کو چیلنج کر رہے تھے تو اب یہ درخواست مجھے پیش کرنے کا کیامطلب؟ وہ کِھسیانے سے ہو گئے اور انہوں نے معذرت کر لی۔

پشاور میں قیام کے دوران میری فیملی اسلام آباد میں رہی اس لئے اسلام آباد میرا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک دن جب میں اسلام آباد میں تھا تو اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینار میں چلا گیا،ہال کے دروازے پر راجہ محمد ظفرالحق صاحب سے ملاقات ہو گئی۔

میں نے انہیں بتایا کہ میں آج کل پشاور میں ہوں وہ بڑے زیرک آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر آپ کی پروموشن ہوئی ہو گی۔ میں نے کہا کہ کچھ ایسا ہی ہے۔ انہوں نے خود ہی کہا کہ پشاور شاید آپ کے لئے موزوں جگہ نہیں اور آپ کی فیملی بھی یہاں ہے تو آپ چاہیں تو میں مشاہد حسین سے بات کر لیتا ہوں۔

مشاہد حسین اُس وقت وزیر اطلاعات تھے۔ میں نے کہا کہ کر لیں۔ پاس کھڑے مشہور صحافی فاروق اقدس نے مذاق کیا کہ راجہ صاحب آپ کو کیا پتہ وہ شاید فیملی سے دور رہنا چاہتے ہوں۔ بہرحال راجہ صاحب نے ہمارے چیئرمین پرویز رشید صاحب سے بات کی۔

8 اگست 1998ء کو وزیراعظم نوازشریف نے رزمک کیڈٹ کالج میں ایک تقریب میں شرکت کی۔ میں بھی وہاں پہنچا، کیونکہ یہ علاقہ میری Jurisdiction میں تھا۔ وہاں پرویز رشید صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ وہ بڑی محبت سے پیش آئے پھر ہم تقریب میں اکٹھے بیٹھے رہے۔

انہوں نے پشاور سنٹر کے بارے میں کئی معاملوں پر مشورہ کیا۔ ہمیں اس طرح سرجوڑ کر بیٹھے دیکھ کر ہمارے کیمرہ مین اورنگزیب نے ہمارا شارٹ بنا لیا۔ پرویز رشید صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ وزیراعظم کے طیارے میں اسلام آباد چلیں۔

میں طیارے میں بیٹھ گیا کچھ دیر کے بعد وزیراعظم کے اُس وقت کے سیکورٹی گارڈ چوہدری صدیق نے مجھے سپاٹ کر لیا کہ یہ شخص تو اسلام آباد آتے وقت ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ اُس نے شور مچا دیا اور پرویز رشید صاحب کی مداخلت پر خاموش ہوا۔

وہ طیارے کے Bulk Head میں بیٹھے تھے ۔کچھ دنوں بعد میرا تبادلہ واپس اسلام آباد ہو گیا اور پھر میں ریٹائرمنٹ تک یہیں رہا۔ اس طرح میں نے اپنے کیریئر میں چاروں صوبوں میں کام کیا اور پاکستان کے مختلف علاقوں کے کلچر اور سیاسی ماحول کا براہ راست تجربہ ہوا۔ یہ تجربہ میرے لئے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے علاوہ ذاتی طور پر بھی ایک اثاثہ ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...