خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے
 خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو جمعہ (20اکتوبر 2017ء) کا مبارک دن ہے۔لیکن یہ کالم قارئین کو سوموار (23اکتوبر 2017ء) کو پڑھنے کو ملے گا۔ الیکٹرانک میڈیا پر یہ خبر جس پر تبصرہ کیا جا رہا ہے وہ تو اسی دن بلکہ اسی گھڑی ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو مل جاتی ہے جب وہ فلیش ہو رہی ہوتی ہے لیکن پرنٹ میڈیا کی محدودیت یہ ہے کہ آج کی خبر آنے والے کل میں پڑھنے کو ملتی ہے۔ علاوہ ازیں ادارتی صفحات میں جو مضامین شائع کئے جاتے ہیں وہ بھی کئی وجوہ کی بناء پر ایک دو دن مزید تاخیر سے شائع ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ بیشتر موضوعات پر تبصرہ یا اس کا تجزیہ وقت کی عجلت کا زیادہ محتاج نہیں ہوتا اس لئے ادارتی صفحات کے قارئین پر تفہیمِ موضوع کی دیر سویر زیادہ گراں نہیں گزرتی۔

جس خبر پر تبصرہ مقصود ہے وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں امن و امان کی از حد ابتر صورتِ حال ہے۔جمعہ کے روز کابل اور غور میں دو خودکش دھماکے ہوئے جن میں 70سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور 150کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تعداد شیعہ حضرات کی تھی جو نماز جمعہ کی ادائیگی میں سربسجود ہو رہے تھے۔ افغانستان کا صوبہ غور سرزمینِ افغانستان کے وسط میں واقع ہے جبکہ کابل شمال مشرق میں ہے۔

ان دھماکوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ داعش (ISIS) کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کی سرگرمیاں یہاں حالیہ چند ہفتوں میں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ ہم پاکستانی مرنے اور زخمی ہونے والے افغان حضرات و خواتین کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ افغان حکومت اس مرض کے علاج پر عمل پیرا نہیں ہوتی جو افغانستان کی آبادی کو لاحق ہے!

ہم حالیہ ایام میں افغانستان کے طول و عرض میں ہونے والے تمام دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن ایک سوال جو ہمیں بار بار آکر کچوکے لگاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان حملوں میں وہ غیر ملکی غاصب فوجی اور سویلین کیوں ہلاک / زخمی نہیں ہوتے جو گزشتہ 16برسوں سے یہاں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور جانے کا نام نہیں لیتے؟۔۔۔ ناٹو کی باقیات اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سویلین کپڑوں میں ملبوس لوگ، ان سینکڑوں ہزاروں افغان باشندوں میں کیوں شامل نہیں ہوتے جو آئے روز اس ملک کے مختلف علاقوں میں موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں۔

ان سانحات میں جس داعش کا نام لیا جا رہا ہے وہ کس ملک کی تخلیق ہے؟۔۔۔ ان کو اسلحہ کون دے رہا ہے؟۔۔۔ کون ہے جو ان کی ٹریننگ کا ذمہ دار ہے اور کون ہے جو فنڈنگ کر رہا ہے؟۔۔۔ کیا خود افغان حکومت ایسا کر رہی ہے؟۔۔۔ کیا ایران اور پاکستان کے لوگ آکر داعش کو ٹریننگ، اسلحہ بارود اور رقومات وغیرہ دے رہے ہیں؟

قارئین کرام! یہ بڑے اہم سوال ہیں۔ ان کا جواب (میرے مطابق) یہ ہے کہ مغربی طاقتیں بالخصوص امریکہ، برطانیہ، فرانس اورجرمنی، مشرق وسطیٰ کو تباہ و برباد کرکے اب افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ یہ داعش ، القاعدہ اور طالبان وغیرہ ان طاقتوں کے مہرے ہیں۔

ان کو استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ استعمال ہو رہے ہیں۔ افغانوں کا تو ہزاروں برس سے پیشہ ہی جنگ و جدال اور کشت و قتال رہا ہے۔ان کو بہلا پھسلا کر ان کے ساتھ چند دیگر مسلم ممالک کے ان باشندوں اور جنگ بازوں کو شریک کر لیا گیا ہے جو مسلکی اور مذہبی وجوہات کی بناء پر قتل کرتے اور قتل ہوتے ہیں۔۔۔ہم مسلمان تو کئی صدیوں سے اس آزار میں مبتلا ہیں۔

ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ گزشتہ صدہا برس سے مسلمان، مسلمان کے ہاتھوں یا تو قتل کیا جا رہا ہے یا خود مقتول ہو رہا ہے۔

من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم

کہ بامن ہرچہ کرد آں آشنا کرد

اتنا عرض کرنے کے بعد میں قارئین کی توجہ ایک اور جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں جو پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔۔۔۔

نو گیارہ کے بعد مغربی ملکوں کا سٹرٹیجک اہمیت و نوعیت کا ایجنڈا یہ تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ایک ایک کرکے برباد کر دیا جائے۔ وہ اس مشن میں بہت حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ اب صرف وہ ممالک مشرق وسطیٰ میں باقی رہ گئے ہیں جو مغرب کے لئے کوئی ایسے ضرر رساں نہیں ہیں۔ یہ گویا مغربی ممالک کے ایجنڈے کا پہلا مرحلہ تھا۔۔۔ دوسرا مرحلہ ایران اور پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ بنانا تھا۔

اگر ان ممالک کی حکومتیں، عوام اور افواج (بالخصوص) ان کی راہ میں حائل نہ ہو جاتیں تو یہ دوسرا مرحلہ بھی اب تک کبھی کا سر ہو چکا ہوتا۔ ذرا یاد کیجئے گزشتہ 16برسوں میں پاکستان نے کیا کچھ نہیں کھویا اور ہماری بہادر افواج اور دلیر عوام نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ دے کر وطن عزیز کی حفاظت کا کیا کیا قرض نہیں اتارا؟

آپ نے دیکھا ہو گا پچھلے دنوں پاک فوج نے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کو وزیرستان لے جا کر ان علاقوں کا فضائی جائزہ اور مشاہدہ کروایا جن پر پاکستان باڑ لگا رہا ہے۔۔۔ پاک افغان بارڈر 2500کلومیٹر طویل ہے۔ یہ پورس بارڈر ہے یعنی جگہ جگہ ایسے راستے ہیں جن سے آمد و رفت بڑی آسان ہے۔

اس بارڈر کی ٹیرین بہت دشوار گزار ہے۔ اس پر 12فٹ اونچا جنگلا تعمیر کرنا اور پھر اس کے اوپر کانٹے دار تاروں کے گچھے پھیلا کر اس کو ناقابلِ عبور بنانا وقت طلب اور از بس دشوار کام تھا۔ پھر اس طویل بارڈر پر750 ایسے قلعے تعمیر کرنا جن کا نظری ملاپ ایک دوسرے سے قائم ہو، ان قلعوں کی ہمہ موسمی دیکھ بھال اور برقراری (Maintenance) اورپھر اس تمام باڑ کو آفتابی بجلی (Solar Power) سے راتوں کو منور رکھنا ایک ایسا مشکل اور مہنگا کام ہے جس کا تصور کرکے ہول آتا ہے۔ لیکن یہ کام شروع ہے۔

پاک فوج کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ویژن کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے پاکستان کو مغربی سرحدوں کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لئے یہ از حد دشوار اقدام اٹھایا۔ اس پر اربوں روپے لاگت آئے گی۔ کئی نئی یونٹیں (فرنٹئیر کور ) کھڑی کی جا رہی ہیں اور کی جائیں گی۔ تقریباٍ 100 قلعے تعمیر کئے جا چکے ہیں۔ باقی تعمیر ہو رہے ہیں اور آنے والے چار پانچ برسوں میں یہ سارا بارڈر مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا اور وہ خطرات جو پاکستان کو گزشتہ 70برسوں سے اس جانب سے لاحق تھے وہ ختم ہو جائیں گے۔

فاٹا (FATA) کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کا دائرہ کار ان سرحدی علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر تیزی سے کی جا رہی ہے۔ ایک طرف CPEC کی تعمیر ہو رہی ہے، دوسری طرف یہ باڑ لگائی جا رہی ہے اور تیسری طرف دشمنوں کی بولتی بند کی جا رہی ہے!۔۔۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس باڑ کی تعمیر کے خلاف پورا مغرب امنڈ آیا ہے۔ مغربی سفارت کار پاکستان آ جا رہے ہیں، ان کے حکمران دھمکیاں دے رہے ہیں، ہمیں خوفزدہ کیا جا رہا ہے، ہر قسم کی امداد بندکی جا رہی ہے اور ہر وہ حربہ استعمال کیا جا رہا ہے جو ہمیں اس باڑ اور اس CPEC کی تعمیر سے باز رکھ سکے۔ لیکن آفرین ہے پاکستانیوں پر کہ انہوں نے اس مغربی ایجنڈے کو تار تار کرکے رکھ دیا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ جس دن یہ باڑ مکمل طور پر آپریشنل ہو جائے گی اور ہمارا ویسٹرن فلینک محفوظ ہو جائے گا تو اس کے اگلے دن امریکہ اور اس کے ساتھی افغانستان سے بوریا بستر سمیٹ کر رخصت ہوجانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ تھوڑا سا اور انتظار کرلیں:

خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

مزید : کالم