درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں،راؤ خورشیدعلی

درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں،راؤ خورشیدعلی

ائس چےئرمین راؤ خورشید علی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے 731 درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ غیر ضروری ااشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی لگائی جائے ، کیونکہ غیر ضروری اور لگژری و پرتعیش اشیاء کی درآمد کی وجہ سے ملک کا زرمبادلہ دباؤ کا شکار ہوتا ہے ،گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں راؤ خورشید علی نے کہا کہ ہمسایہ ملک چین کے ساتھ ہونے والی تجارت کے باعث ٹریڈ بیلنس عدم توازن کا شکار ہے ، حکومت کو چاہیے کہ چائنہ کی حکومت کے ساتھ بائی لیٹرل ٹریڈ میں درآمدات اور برآمدات کے توازن کو قائم رکھنے کیلئے اقدامات کرے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جس ملک سے بھی تجارت کی جائے اور درآمدات کی صورت میں اس ملک کے ساتھ پہلے معاہد ہ کیا جائے کہ درآمدات کے مساوی برآمدات بھی خریدی جائیں تاکہ پاکستان کے ٹریڈ بیلنس کے توازن کو بہتر بنایا جائے ۔ اس وقت ہمارے ملک کی درآمدات میں ہوشربا ء اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ہماری برآمدات کا گراف کافی حد تک گر چکا ہے ۔جس کا براہ راست اثر ہمارے زرمبادلہ پر پڑ رہا ہے ، انہوں نے کہاکہ بعد ازاں حکومت کو زرمبادلہ حاصل کرنے کیلئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم اور آنے والی نسلوں کے سروں پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔

جس کا تدراک کرنا حکومت وقت کا فرض بھی ہے اور ہم ذمہ داری بھی ۔

مزید : کامرس