کاروباری طبقے اور حکومت کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے

کاروباری طبقے اور حکومت کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جہاں سے اٹھنے والی آواز کی بازگشت اعلیٰ حکومتی ایوانوں میں نہ صرف سنی جاتی بلکہ بجٹ میں ان کی تجاویز پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔اِس ادارے کی سربراہی کرنے والے بہت سے صنعتکار آگے جاکر وفاقی و صوبائی وزراء اور سرکاری اداروں کے سربراہان کی حیثیت سے سرکاری مشینری کا حصّہ بنے اگرچہ لاہور چیمبر کی باگ ڈور ہمیشہ فاؤنڈرز کے ہاتھ میں رہی لیکن سال 2002ء میں پیاف اور فاؤنڈر دو گروپوں کا اتحاد عمل میں آیا جو گذشتہ تقریباً چودہ سال سے برسراقتدار ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارپوریٹ انتخابات میں پیاف فاؤنڈرز الائنس کے امیدواران بلامقابلہ منتخب ہوتے آرہے ہیں کیونکہ مقابلے کوئی بھی کاغذات ہی جمع نہیں کرواتا جبکہ ایسوسی ایٹ کلاس میں برائے نام سا مقابلہ ہوتا ہے اور ہر سال کی طرح پیاف فاؤنڈر الائنس ہی واضح برتری کے ساتھ کامیاب ہوتا ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں 120سے زائد سٹینڈنگ کمیٹیاں قائم ہیں جن کی سربراہی صنعت و تجارت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو سونپی جاتی ہے۔ یہ سٹینڈنگ کمیٹیاں، معاشی، تجارتی، اقتصادی اور سماجی حوالوں سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد صنعتکارو کاروباری طبقے کی آراء کی روشنی میں تجاویز مرتب کرکے متعلقہ حکومتی اداروں کو بھجواتی ہیں جنہیں وہ اپنی پالیسی کا حصّہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال وفاقی وزیرِ خزانہ، وفاقی وزیرِ تجارت ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت تمام اہم وزراء اور سرکاری اداروں کے سربراہ لاہور چیمبر آف کامرس کا دورہ کرکے کاروباری افراد سے فیڈ بیک لیتے ہیں۔ یوں لاہور چیمبر آف کامرس کاروباری طبقے اور حکومت کے درمیان ایک اہم پُل کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، سابق صدور ضیاء الحق مرحوم، فاروق لغاری، صدر پرویز مشرف اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور راجہ پرویز اشرف بھی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کرچکے ہیں۔ مزید برآں کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے لاہور چیمبرآف کامرس نے واپڈا، لیسکو، کسٹم ، ایف بی آر ، ضلعی حکومت اور وزارتِ خزانہ سمیت دیگر کئی سرکاری اداروں کے اشتراک سے ADRکمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں جو افہام و تفہیم سے تنازعات و مسائل انتہائی خوش اسلوبی سے حل کروارہی ہیں۔ان کمیٹیوں نے نہ صرف عدالتوں میں زیرِ التوا بہت سے مقدمات بھی ختم کرائے ہیں بلکہ یہ ملک کے صنعتکاروں اور تاجروں کے بیرونِ ممالک تنازعات کو بھی حل کروانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ لاہور چیمبر میں ثالثی سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے جو ممبران کے عالمی تنازعات بھی حل کرائے گا۔ علاوہ ازیں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اچیومنٹ ایوارڈز کا آغاز کرکے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تاریخ میں ایک مزید سنہرے باب کا اضافہ کیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اندرونِ ملک تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے علاوہ ملک کی بیرونی تجارت میں اضافے کے لیے بھی کوشاں ہے۔وقتاً فوقتاً دنیا کے تقریباً تمام معروف ممالک کے تجارتی وفود لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان سے دوطرفہ تجارت کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور انہیں دور کرنے کے لیے تجاویز زیرِ بحث آتی ہیں جس کے بہت زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں جبکہ ورلڈ بینک ،آئی ایم ایف اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندے بھی لاہور چیمبر آف کامرس کا دورہ کرکے فیڈ بیک حاصل کرتے ہیں۔ مزید برآں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تجارتی وفود بھی دنیا کے تقریباً تمام حصوں کا دورہ کرکے نہ صرف ملکی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرتے ہیں بلکہ ملک کی ساکھ کو بہتر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی پاکستانی مصنوعات کی نمائشوں کا انعقاد کرتا ہے تاکہ دنیا کو پاکستانی مصنوعات کے معیار سے آگاہ کیاجاسکے۔ بین الاقوامی مارکیٹ کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال سے اپنے ممبران کو آگاہ کرنے کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیمینارز اور ورکشاپس بھی منعقد کرتا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سالانہ انتخابات برائے 2017-18 ماہ ستمبر میں ہو ئے جس میں پیاف فاؤ نڈر الائنس کے کارپوریٹ اور ایسو سی ایٹ کلاس کے تما م امیدواران نے کلین سویپ کر کے لاہور چیمبر کی باگ ڈور سمبھالنے کے عزم کے لیے نو منتخب امیدوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں ہیں۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سال برائے 2017-18کے لیے صدر طاہر جاوید ملک ، سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید اور نائب صدر ذیشان خلیل بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب قرار پائے ۔لاہور چیمبر آف کامرس میں سالانہ اے جی ایم اجلاس کے مو قع پر نو منتخب قیادت کے اعزاز میں تقریب منعقد ہو ئی جس میں پیاف اور فاؤ نڈر کے صنعتکار رہنماؤ ں نے نو منتخب اراکین کے ذمہ داری دیتے ہوئے اس عز م ایادہ کیا کہ نو منتخب قیادت صنعتکاروں اور تاجروں کو درپیش مسائل کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو پروان چڑھانے میں کلید ی کر دار ادا کر ے گی ۔

پاکستان انڈسٹریل اینڈٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ لاہور کی صنعتکار و تاجر برادری پچھلے چودہ سال سے پیاف فاؤنڈرز الائنس پر اعتماد کر رہی ہے اور کھرے و کھوٹے کی پہچان کو بخوبی سمجھتے ہوئے ہر سال کی طرح لاہور چیمبرکے الیکشن میں پیاف فاؤنڈرز الائنس کے امیدواروں کوکلین سویپ کروانا لاہور کی تاجر برادری کا خاصا اور بھرپور اعتماد رہا ہے ۔عرفان اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ لاہور چیمبر کے نو منتخب صدر طاہر جاوید ملک نے رواں سال تاجروں کے حقوق اور عزت نفس کو بحال وبرقرار رکھنے کا سال قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نو منتخب قیادت سینئر رہنماؤں کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایف بی آرکی جانب سے سخت قوانین اور صوابدیدی اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے تاجروں کو ہراساں کر نے کے اقدام کو نکیل ڈالتے ہوئے ٹیکس ریفارمز میں آسانیاں لائے گے جبکہ ایکسپورٹ کی طرف خصوصی تو جہ دیتے ہوئے برآمدات کا گراف بلند کیا جائے گا۔مارکیٹوں اور بازاروں میں درپیش مسائل کے ازالے کے لیے اداروں کے ساتھ لائیزن کمیٹیاں بنائی جائیں گی ۔عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ تاجر برادری لاہور چیمبرز الیکشن میں پیاف فاؤنڈر الائنس کے امیدواروں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتی ہے جبکہ الائنس کی لیڈرشپ نے بھی کبھی تاجروں کو مایوس نہیں کیا اور حکومت اور تاجروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے تاجروں و صنعتکاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکسز کی شرح میں کمی لاتے ہوئے صنعتکاروں و تاجروں کو ریلیف سے ہمکنار کرے تاکہ ایکسپورٹ کی شرح میں اضافہ کر کے نہ صرف پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک متعارف کروائی جائیں بلکہ ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ بھی کمایا جا سکے ۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے عائد کر دہ ود ہولڈنگ ٹیکس 0.06فیصد جس نے ملک کے بنکوں کو دیوالیہ بنا دیا اور ہمارے ہی پیسے پر جبرا ٹیکس لگا دیا ہے جس کے خاتمے کے لیے تمام تر اقدامات کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور چیمبر کی منتخب قیادت رواں سال تاجروں کو ریلیف دینے کے لیے تاریخی اقدامات اٹھائے گی۔

فاؤ نڈر گروپ کے بانی رہنماء افتخار علی ملک نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری آج ملک کا پریمیئر چیمبر بن چکا ہے جو نہ صرف کاروباری طبقے کے مسائل کے حل اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو بلند کرنے کے لیے بھی ہر ممکن کاوشیں کررہا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تو اپنا کردار بہترین طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرہی رہا ہے لیکن حکومت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ بھرپور تعاون کرے تاکہ معاشی استحکام کے حصول اور ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کا خواب جلد پورا ہوسکے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ فاؤنڈر گروپ ایک پودے سے آج ایک تنا ور درخت بن چکا ہے جس کی وجہ تاجر وصنعتکار برادری کا مجھ اور سینئر رہنماؤں پر مکمل اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو چائیے کہ وہ کاروباری سر گر میوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ملکی معیشت کو پروان چڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر طاہر جاوید ملک نے لاہور چیمبر آف کامرس کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کر تے ہوئے کہا کہ صنعتکاروں اور تاجروں نے جس اعتماد کا اظہار مجھ پر کیا ہے اس پر پورا اترنے کی پوری کو شش کر ونگا ۔انھوں نے کہاکہ توانائی کے بحران ، بینکوں سے لین دین پر ٹیکس ، امن و امان کی صورتحال، ماحولیات سے متعلقہ قواعد و ضوابط اور ملک کی بیرونی تجارت کے فروغ کے لیے ٹھوس تجاویز مرتب کرکے حکومتی اداروں کو بھجوائی جائیں گی جبکہ ان معاملات پر لاہور چیمبراور معاشی ماہرین کو شامل مشاورت رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اور دیگر اداروں کی جانب سے کاروباری برادری کی مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام کو عام فہم اور تاجر دوست بنانے کے لیے اقدامات اٹھانا اْن کی اوّلین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے بہترین کردار ادا کرے گا اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومتی اداروں کے ساتھ رابطے مستحکم کریں گے جس سے تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اور تاجر برادری کے درمیان تعلقات مزید مستحکم کرنے کے لیے مارکیٹوں کے دورے کا منصوبہ ترتیب دیا جائے گاتاکہ صنعت و تجارت کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے قابل عمل لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔ لاہور چیمبر کے نومنتخب صدر ملک طاہر جاوید نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آٹوپارٹس مینوفیکچررز کو نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جو ناموافق حالات کی وجہ سے شدید مشکلات میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آٹوپارٹس مینوفیکچررز لوگوں کو روزگار اور حکومت کو محاصل کی فراہمی کا بڑاذریعہ ہیں لیکن زیادہ پیداواری لاگت اور خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیوں و ٹیکسوں کی وجہ سے ان کی بقاء داؤ پر لگی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آٹوپارٹس مینوفیکچررز کی جانب سے سٹیل میٹریل کی درآمد پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جائے کیو نکہ آٹوپارٹس مینوفیکچرنگ سیکٹر دیوار سے جالگا ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشیدکہا کہ پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش، برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی، کاروباری لاگت کو نیچے لانا، پانی کی قلت کے مسئلے کو اْجاگر کرنا اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کرنا اپنے آئندہ سال کی ترجیحات قرار دیا ہے۔ خواجہ خاور رشید نے مذید کہا کہ مارکیٹوں اور بازاروں میں پارکنگ کا موثر نظام نہ ہونے سے جہاں ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں بلکہ خریداروں کو پریشانی کا سامنا کر نا پڑتا ہے جس سے کاروباری سر گر میوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمار ی کوشش ہو گی کہ لاہو ر کے تجارتی مراکز میں پارکنگ پلازے بنانے کے حکومتی اعلان کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پانی کی نعمت وافر میسر ہے مگر ذخیرہ کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 35ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے جبکہ فصلوں کو ربیع اور خریف کے موسم میں پانی کی شدید قلت کا سامنا رہتا ہے ، حکومت کثیر المقاصد بڑے آبی ذخائر کی تعمیر جلد شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارہ 6.29ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو تشویشناک ہے، اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور غیرضروری درآمدات میں کمی لانا ہوگی جبکہ برآمدات

بڑھانے کے لیے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کا کردار بہت اہم ہے، انہیں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے خریدار اور نئی منڈیاں تلاش کرنی چاہئیں، برانڈنگ اور مارکیٹنگ بھی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر ذیشان خلیل نے حکومت و نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پر قائم کیے جائیں گے، حکومت و نجی شعبے کے درمیان شراکت داری سے قومی مفادات کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس کی نو منتخب قیادت پر جس اعتماد کا اظہار صنعتکارو تاجر برادری نے کیا ہے ان کے مسائل کے خاتمے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...