سیاحت کوفروغ دے کر ہوٹل انڈسٹری کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکتا ہے

سیاحت کوفروغ دے کر ہوٹل انڈسٹری کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکتا ہے

بیچ لگژری ہوٹل کے جنرل منیجر عظیم قریشی کا شمار ہوٹل انڈسٹری میں انتہائی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ہوٹلنگ کے کاروبار کو نئی جدت کے ساتھ آگے بڑھانے میں دن رات محنت کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ بیرون ملک میں بھی خدمات انجام دی ہیں اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔ عظیم قریشی نے ہوٹل بزنس کو چار چاند لگانے میں منفر د کردار ادا کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان نے گذشتہ دنوں اُن سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔

بزنس پاکستان : اس وقت ملک کے معاشی حالات اتنے بہتر نہیں ہیں، جبکہ دہشتگردی کا بھی سامنا ہے، ان حالات میں پاکستان میں ہوٹل انڈسٹری کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

عظیم قریشی : میرے خیال میں دہشتگردی کی جو جنگ ہے ہم اس کو اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ دراصل ہم دو قسم کی دہشتگردی کا شکار ہیں ، ایک ورلڈ وائڈ یا گلوبل اور دوسری امریکن دہشتگردی۔ ہمارے پاس اس وقت جو سہولیات ہیں ، ہمیں اس کے ذریعے ہی اس سے نکل جانا چاہیے اور اس کو چیلنج کرکے ہمیں خود صفائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں بزنس کی صورتحال قدرے بہتر ہے کیونکہ ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں ۔ اس وقت ہمارا ضمیر مطمئن ہے کیونکہ ہم نے اپنے طور پردہشتگردی پر قابو پایا ہے کیونکہ اگر ہم آج یہ کام نہیں کررہے ہوتے تو پاکستان نہ ہوتا۔ ملکی حالات اگر اچھے ہوتے ہیں تو مارکیٹ پر بھی بہتر اثرات ہوتے ہیں۔ کاروبار اچھے ہونگے، لوگوں میں خوشحالی آئے گی اور ہوٹل انڈسٹری پر بھی مثبت اثرات آئیں گے۔ 2013ء کے الیکشن کے بعد بہتری ضرور آئی ، لیکن اس کے بعد دھرنا شروع ہوا تو اس سے کاروباری حالات پر منفی اثرات پڑے۔ 2015 اور 2016 میں کام بہتر ہوا کیونکہ سی پیک منصوبے پر زورو شور سے کام جاری ہے، ہمیں سی پیک کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ سیاحت کے شعبے میں بھی اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

بزنس پاکستان : یہ کیا وجہ ہے کہ تھائی لینڈ، ترکی اور دیگر یورپی ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کوئی خرابی نہیں آتی، کاروبار زندگی رواں دواں رہتی ہے، لیکن ہمارے یہاں اس کے فوری اثرات سامنے آتے ہیں؟

عظیم قریشی : میں یہ کہوں گا کہ ہمارے ملک میں میڈیا کا اہم کردار ہے ، بہت سی باتیں جو قومی مفادات کے پیش نظر چھپائی جاتی ہیں ، لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے ، حالانکہ ہمیں سب سے پہلے ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے، صحافتی آزادی اپنی جگہ ہے ، ہمارے یہاں ہر چیز کی آزادی مقدم ہے ۔ اب آپ دیکھیں کہ گذشتہ دنوں امریکہ ہوسٹن میں کرفیو لگایا گیا، کتنے لوگ اس بارے میں جانتے ہیں، یہاں تک کہ ایمرجنسی بھی لگائی گئی، بجلی نہ ہونے کے باعث لوٹا ماری بھی ہوئی، اے ٹی ایم مشینوں سے پیسے بھی چرائے گئے،دراصل ہم خود ہی ڈھنڈورا پیٹنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جبکہ ترکی میں بھی حالات خراب ہوئے مگر آپ دیکھیں کہ دو چار دن ہی حالات خراب ہوئے ، اس کے بعد سیاحت پہلے جیسی شروع ہوگئی اور سیاحوں کو پتہ بھی نہ چل سکا کہ یہاں بغاوت ہوئی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت دنیا میں تھائی لینڈ جو ہے سیاحت کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور وہ ملک اس شعبے سے بڑا زرمبادلہ کماتا ہے ۔ دراصل ہمارے یہاں لوگ آتے کم ہیں ، سیاحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث ہمارے لوگ دوسرے ممالک میں سیروتفریح کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے یہاں ہوٹلز کی تعداد بھی کم ہے۔ ہم اگر اپنی اندرونی سیاحت کو اہمیت دیں تو ہمارے 45سے 50 ہزار لوگ سیاحت کیلئے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں ، اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ہمارے پاس بہت اچھے اچھے تفریح مقامات ہیں جن میں نتھیا گلی، سوات، اسکردو، کاغان، ہنزہ، گلگت ، زیارت اور دیگر مشہور مقامات ہیں ، اگر ان علاقوں کو ترقی دی جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ہمارے یہاں بھی سیاحوں کی تعداد بڑھ جائے۔

بزنس پاکستان: ملک کی حالیہ صورتحال میں آپ ہوٹل انڈسٹری کو کہاں کھڑا ہوا دیکھ رہے ہیں ؟

عظیم قریشی : ہمارے پاس پاکستانی ہونے کے ناطے سے سب سے اہم چیز جس کو ہم عموماً استعمال نہیں کرتے وہ ہے ہمارے ’’پروایکٹونیس‘‘ (Proactiveness) ہماری اسکلز (Skills) اور اسکے علاوہ ہماری سب سے اہم روایت ’’ہمت نہ ہارنا‘‘ ۔ بحیثیت پاکستانی آپ تجزیہ کریں کہ اس وقت ہم کن مشکل ترین حالات سے گذر رہے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود ہمارے شاپنگ سینٹرز بھرے ہوتے ہیں، ہمارے ریسٹورنٹس اور ہوٹلز بھی اس قسم کی سرگرمیوں کی عکاسی کررہے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستانی قوم کو اپنی ہمت نہ ہارنے والی سوچ کو برقرار رکھنا ہے اور تعمیری روایات کو فروغ دینا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کاروبار ہورہا ہے ایسا ہرگز نہیں کہ یہاں کاروبار نہیں ہورہا ۔ ہم انہی حلات میں اسی ہوٹل انڈسٹری میں ایک منصوبہ بندی کے تحت چل رہے ہیں ۔ میں نے دبئی اور کراچی کے ہوٹلز میں کام کیا ہے۔ سال 2009 میں دبئی کی صورتحال بھی بہت زیادہ ابتر تھی، لیکن اگر پازیٹو اپروچ (Positive Approach) ہو اور اپنی منصوبہ بندی کی حکمت عملی کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو کسی کو بھی اﷲ تعالیٰ مایوس نہیں کرتے۔ میرا یہ ایمان ہے حتی الامکان کوشش کی جائے اور باقی اﷲ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے تو انشاء اﷲ ، اﷲ تعالیٰ بہتر کرے گا۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کے حالات خراب ہیں تو کراچی کی حالت بہت زیادہ بہتر ہے،ہم نے اپنی منصوبہ بندی کو اس حد تک فعال بنایا ہوا ہے ۔

بزنس پاکستان: توانائی کا بحران آپ کے کاروبار کو کس حد تک متاثر کررہا ہے ؟

عظیم قریشی : ہمارے پاس جنریٹرز موجود ہیں لیکن جب ہم جنریٹرز پر بجلی چلاتے ہیں تو اُسوقت ہم بجلی کا بل بھی دے رہے ہوتے ہیں اور جنریٹرز کے اخراجات بھی پورے کرتے ہیں ۔ جنریٹرز سے بجلی سپلائی کرنا بہت زیادہ مہنگا پڑتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیزل بہت مہنگا ہوچکا ہے ۔ہمارے پاس لائٹ نہیں ہوتی لیکن ہم بجلی کا بل ادا کرتے ہیں ،جیسا کہ پورا پاکستان ادا کررہا ہے

بزنس پاکستان: دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مقامی ہوٹل انڈسٹری سے وصول کیے جانے والے بجلی کے ٹیرف میں کتنا فرق ہے ؟

عظیم قریشی : میں یہ کہوں گا کہ زمین آسمان کا فرق ہے ۔ صرف انرجی ہی میں نہیں بلکہ دیگر معاملات میں بھی صورتحال یکسر مختلف ہے ۔

بزنس پاکستان: مقامی ہوٹل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں ؟

عظیم قریشی : پہلے ہم فارن بزنس کو سرگرم رکھنے پر زور دیتے تھے اور ہم اس پر مکمل طور پر انحصار کرتے تھے لیکن اب ہم مقامی کاروبار بھی انحصار کرتے ہیں اور اس پر ہم زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات جو میں یہاں بتانا چاہوں گا کہ اگر یہ مسائل جو پاکستانی قوم کو درپیش ہیں وہ کسی ترقی یافتہ اور ایڈوانس ملک کو درپیش ہوتے تو وہ بھی ہار مان لیتی، لیکن زیرتبصرہ تمام مسائل کے باوجود ہمارا ملک اب بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہے ۔ مثال کے طور پر ہماری اسٹا ک مارکیٹ اس کی زندہ مثال ہے اور اس کے علاوہ ہمارے ملک کے ہر ایک فرد کا موٹیویشن (Motivation) دیکھ لیں ہم اب بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔ ہمارا کاروبار مقامی سطح پر اتنا زیادہ چل رہا ہے کہ ہماری معیشت اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس کو اصلاح کی ضرورت ہے ، اس کے لیے ہر فرد ادارے اور حکومت کو اپنا اپنا کردار ایمانداری سے ادا کرنا پڑے گا۔

بزنس پاکستان: مقامی ہوٹل انڈسٹری میں کن اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے یہ انڈسٹری مزید فروغ پاسکے ؟

عظیم قریشی : سادی سی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاحت کا شعبہ بہت زیادہ استعداد کاحامل ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ اس وقت تو بلاشبہ اس شعبے کو فروغ دینا انتہائی مشکل ہے لیکن اس سے قبل جب ملکی حالات بہتر تھے ، سیاحت کے شعبے پر توجہ دی گئی ہوتی تو بہت زیادہ فرق پڑتا، جہاں تک لوکل ٹورازم کا تعلق ہے تو کراچی میں کوئی لوکل ٹورازم نہیں ہوسکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ ایبٹ آباد ، مری، بھوربند یا مظفر آباد چلے جاتے ہیں۔ کراچی کے ساحلی علاقوں کو مقامی سیاحت کیلئے تیار کیا جاسکتا ۔ مثال کے طور پر فرنچ بیچ کی طرز پر ساحلی پٹی میں مزید بیچ بنائے جائیں ، اس کے علاوہ سمندر میں فیریز چلائی جائیں اور اپنے ساحلوں کو خوبصورت بنایا جائے تو کوئی شک نہیں کے یہاں پر بھی مقامی اور غیر ملکی سیاحت فروغ پائے۔

بزنس پاکستان: موجودہ ملکی حالات کے باوجود کیا اب بھی لوگ ہوٹل انڈسٹری سے منسلک ہونا چاہتے ہیں ؟

عظیم قریشی: پاکستان میں اس وقت بہت زیادہ لوگ ہیں جو ہوٹلز کے شعبے کو بطور پیشہ اپنانے کے خواہشمند ہیں اور اس انڈسٹری کے مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں جب ہم ہوٹل انڈسٹری سے منسلک ہوئے تھے تو اس دور میں بہت کم لوگ ہوٹلز کے شعبے سے وابستہ تھے۔ جب میں اس شعبے سے منسلک ہوا ، اس وقت صورتحال کچھ اس طرح سے تھی کہ جب کسی کو دوسرے شعبوں میں کام کرنے کا موقع نہیں ملتا تو وہ ہوٹلز کے شعبے میں آجاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ میرے پاس اس وقت زیرتربیت افراد کی خاصی تعداد موجود ہے اور خصوصاً میرے پاس خواتین کی خاصی تعداد بطور کچن اپرنٹس کام کررہی ہے۔ اس کو آ پ ایک تبدیلی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں۔

بزنس پاکستان: اس وقت کراچی کے تمام ہوٹلز میں کتنے کمرے دستیاب ہیں ؟

عظیم قریشی: کراچی میں اس وقت 2000 سے 2500کمرے دستیاب ہیں جبکہ کراچی کی آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے۔ کراچی صوبہ سندھ کا ایک شہر ہے جس کی آبادی تقریباً دو کروڑ ہے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پورے پاکستان کا 70 فیصد کاروبار صرف اس ایک شہر میں ہورہا ہے۔ کراچی کو اس وقت سب سے بڑی سپورٹ فارماسیوٹیکل سیکٹر کی ہے ، کیونکہ یہ وہ واحد شعبہ ہے جو ہر سال 20 تا 21 فیصد افزائش حاصل کرتا ہے۔ پاکستان میں موجود تمام ہوٹلز فارما سیکٹر کی وجہ سے ہی کاروبار کررہے ہیں۔ جبکہ مقابلے اور مسابقت نیز ذاتی تعلقات کی بناء پر منافع کا تناسب بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسکے علاوہ بینکنگ اور ٹیلی کمیونی کیشن بھی ایسے شعبے ہیں جن کی وجہ سے ہوٹلز کا کاروبار چل رہا ہے۔ سال 2003 سے مارچ سال 2007 تک کراچی میں کاروبار کی عمومی صورتحال بہت بہتر تھی ۔ میں ہمیشہ ایک بات کا ذکر کرتا ہوں کہ سال 2007 تک جب کوئی غیر ملکی یہاں آتا تھا اور وہ ٹھیلے والے سے پھل خریدتا تھا تو اگر وہ ٹھیلے والے کو پچاس ڈالر کا نوٹ دیتا تو ٹھیلے والا اپنے ٹاٹ کے نیچے سے ڈالر نکال کر اس کو چینج دیتا تھا۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اس وقت ڈالر کی کیا وقعت رہ گئی تھی، مجھے یقین کامل ہے کہ دوبارہ اس سے بھی اچھے حالات ہوں گے۔ وہی قوم زندہ رہتی ہے جو لڑنا جانتی ہو اور ہم ہر حال میں یہی کوشش کرتے ہیں کہ اپنا کردار ادا کریں۔ میں جب نوکری تلاش کرتا تھا تو مجھے نوکری نہیں ملتی تھی لیکن آج میرے پاس جو بچہ یا بچی نوکری کے لیے آتا ہے اگر میں اسے نوکری نہ بھی دے سکوں تو اسے trainee کے طور پر رکھ لیتا ہوں تاکہ کہیں تو اس کی adjustment ہوجائے۔ ہماری کمپنی کا نظریہ ہی یہ ہے کہ آپ نے سوشل ویلفیئر بھی دیکھنا ہے اور کاروبار بھی۔

بزنس پاکستان:آپ ہوٹل انڈسٹری کا کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں؟ نیز یہ کہ آپ نے اس حوالے سے کیا منصوبہ بندی کی ہے ؟

عظیم قریشی: ہمارے چیئرمین کا نظریہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ رہیں اور قومی مفاد کو اولین ترجیح تصور کریں ۔پاکستان میں پہلے کے مقابلے میں بزنس بڑھا ہے اور مزید آگے جائے گا۔

بزنس پاکستان: کیا پاکستان میں اس وقت پانچ ستارہ اور سات ستارہ ہوٹلز کی ڈیمانڈ ہے؟

عظیم قریشی: موجودہ حالات میں پانچ ستارہ یا سات ستارہ ہوٹل بنانا میں سمجھتا ہوں کہ یہاں کی ضرورت ہے

بزنس پاکستان: عموماً ایسا ہوتا ہے کہ خدمات فراہم کرنے والی تنظیموں پر حکومتوں کا بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔ اس پر آپ کیا تبصرہ کریں گے ؟

عظیم قریشی: اس حوالے سے ہمیں کسی قسم کے مسائل درپیش نہیں ہیں وہ ہم سے بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے تو ہم ایک نیا پاکستان تعمیر کرسکتے ہیں ۔

بزنس پاکستان:ہوٹل انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے آپ کا اپنا کیا خواب ہے ؟

عظیم قریشی:میری یہ خواہش ہے کہ میں اور آگے جاؤں ، مزید ترقی کروں۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے عزت دی ہے میں اپنے کیرئیر کا آغاز بطور porter کیا تھا اس وقت میں اسکول میں تھا اور میٹرک کررہا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ نے مجھے بہت نوازا ہے، مجھے امید ہے کہ میں اس وقت جس گروپ میں ہوں وہاں پر بھی نمایاں مقام حاصل کروں گا۔ میں ایک بڑا ہوٹل manage کرنا چاہتا ہوں ،حقیقت یہ ہے کہ کراچی بیچ لگژری کا شمار ملک کے بہترین ہوٹلز میں کیا جاتا ہے۔ میں 29 سال کی عمر میں پہلی بار ہوٹل کا منیجر بنا۔ پاکستان میں بہت کم لوگ ہوں گے جو اتنی کم عمری میں جی ایم کے عہدے تک پہنچے ۔ میں اس سے قبل متعدد ہوٹلز میں کام کرچکا ہوں اور اﷲ تعالیٰ نے مجھے بہت زیادہ عزت دی ہے اور مجھے توقعات سے بڑھ کر کامیابی عطا فرمائی۔

بزنس پاکستان: آپ مستقبل میں بیچ لگژری کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں ؟

عظیم قریشی: بیچ لگژری پاکستان کا ایک بہترین ہوٹل ہے اور آئندہ بھی یہ اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھے گا۔

بزنس پاکستان: میڈیا سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں ؟

عظیم قریشی: میڈیا ہماری بہت بڑی سپورٹ ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا اگر میں اپنی ذمہ داری اور آپ اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے نبھائیں گے تو پاکستان کوترقی کی منازل پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں میڈیا سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں ہمیشہ اچھی کوریج دی گئی ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں کیونکہ آپ بھی وہی مقصد لے کر چل رہے ہیں جو ہمارا نصب العین ہے۔

بزنس پاکستان: ہوٹل انڈسٹری کے بارے میں آپ کا ویژن کیا ہے ؟

عظیم قریشی: ہمیں بھروسہ ہے کہ جتنا صحت مند مقابلہ ہوگا ، کا روبار کا ماحول اتنا زیادہ اچھا ہوگا۔ ہمارا یہ یقین ہے کہ پاکستان کا مین کاروبار ہوٹل ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان میں سیاحت کا شعبہ اس لحاظ سے بہت زیادہ مضبوط ہے کہ یہاں پر بہت زیادہ سیاحتی مقامات ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے سیاحت کے شعبے کو فروغ حاصل ہو، اسی طرح ہمارا کاروبار فروغ پائے گا ۔سب سے اہم بات جس کا ہمارے گروپ کو یقین ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا امیج colourfull ہونا چاہیے۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا کلچر بہت rich ہے۔

بزنس پاکستان: عموماً لوگ فائیو اسٹار ہوٹلز کا کھانا کھانے کے بعد یہ شکایت کرتے ہیں کہ کھانوں میں ذائقہ نہیں ہے، اس کے کیا وجہ ہے ؟

عظیم قریشی: ہر آدمی کا اپنا ایک taste ہوتا ہے ، شاید مجھے تو کھانا اچھا لگ رہا ہو مگرآپ کو اس میں نمک تیکھا لگے ۔ ہوٹل والے کھانے کو generalize طریقے سے تیار کرتے ہیں ۔ اگر وہ میٹھا بنائیں گے تو اس میں بہت تیز یا بہت کم میٹھا نہیں ہوگا۔ دوسال کے دوران اس ہوٹل کی سب سے بڑی خاصیت یا خوبی ہے وہ food ہے۔ ہمارے ہوٹل کے banquet کا کھانا سب سے بہترین ہے۔ میں اس پر شرط لگانے کے لیے تیار ہوں۔ میں خود کھانے کا بہت زیادہ شوقین ہوں، ہمارے حیدرآباد میں کہتے ہیں کہ پیٹ پر جان قربان ہے میں اتنا شوقین ہوں کہ ہر کھانا خود چکھتا ہوں۔ میرا شیف بہت زیادہ پیشہ ور کک ہے ، ہماری تمام banquet cuisin آپ کو بہت اچھی ملے گی ۔ ہمارا ’’کنا‘‘ بہت مزیدار ہے ۔ ہماری اپنی ایک آئسکریم ہے جو بہت زیادہ ذائقے دار ہے۔ ہم اپنے کیک بھی تیار کرتے ہیں

بزنس پاکستان : کے پی کے حکومت نے سیاحت کو اس وقت ترجیح دی ہے ، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس کے اثرات دوسرے صوبوں پر بھی آسکتے ہیں؟

عظیم قریشی : دیکھیں ہر آدمی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے کام کو اہمیت دے تو ہمارا ملک حقیقت میں ترقی کرسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ، صرف بیوروکریسی اور سیاست دان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو بہت بڑا مسئلہ ہوجائے گا اور کے پی کے صوبے کی طرح دوسرے صوبوں میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا۔ کیونکہ سرکاری نوکری میں زیادہ پابندیاں نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے غیر ذمہ داری ملکی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے ، جبکہ نجی سیکٹر میں کام اور صرف کام ہوتا ہے اور نوکری ہر وقت خطرے میں رہتی ہے۔

بزنس پاکستان : کیا ہوٹلنگ کے شعبے میں ٹیکس وغیرہ کے ایشوز بہت زیادہ ہیں ؟

عظیم قریشی : پہلے کسی زمانے میں مشکلات تھیں، لیکن اب ان میں کمی آئی ہے ۔ دیکھیں ٹیکس تو سب کو دینا چاہیے کیونکہ ملکی ترقی کا دارومدار ٹیکس کی ادائیگی سے پنہاں ہے، اگر کوئی ٹیکس نہ دے تو ہمارا ملک کہاں کھڑا ہوگا۔ ہم بجٹ کیسے بنائیں گے؟ ہر ایک کو اور ہر ادارے کو ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنا چاہیے ۔

بزنس پاکستان : امن و امان کی صورتحال سے ہوٹل بزنس پر جو اثرات پڑے ہیں اس کو کس طرح سے پورا کیا جارہا ہے ؟

عظیم قریشی : جس وقت کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب تھی، ہم نے اس وقت لوکل بزنس کو بہت زیادہ ترجیح دی ، جس سے ہمیں خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، کراچی میں حالات کی خرابی کے دوران آؤٹ ڈور تفریح میں کمی آگئی تھی ، لوگ زیادہ تر ہوٹلز میں بیٹھ کر کھانا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب صو رتحال یہ ہے کہ سی پیک منصوبے کے آنے سے بھی ہوٹل بزنس میں بہتری آئی ہے اور کاروباری صورتحال مزید بہتر ہوئی ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2