وزارت تجارت 50بین الاقوامی برانڈز پاکستان لائے

وزارت تجارت 50بین الاقوامی برانڈز پاکستان لائے

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ایک معتبر بزنس گروپ کمال لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد کمال نے بتایای کہ ان ان کے دادا نے 1954میں کمپنی کی بنیاد ایک سپننگ مل لگا کر رکھی تھی ۔ وہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی کلکتہ سے فیصل آباد شفٹ ہو گئے تھے اور وہاں اس فیکٹری کا قیام عمل میں لائے۔ فیصل آباد میں لگائی جانے والی ابتدائی دو چار فیکٹریوں میں انکی فیکٹری کاشمار ہوتا تھا۔ بعدمیں ان کی فیملی کیمیکلز کے بزنس میں بھی چلی گئی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چلا اور ان کی فیملی دوبارہ سے ٹیکسٹائل کے بزنس سے نتھی ہو گئی۔ آج ان کا گروپ سپننگ، ویسنگ، پرنٹنگ، پراسیسنگ، ہوم ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور اب ریٹیل کے بزنس میں سرگرم ہے۔ کل ملا کر کمال گروپ میں 12000ملازمین کام کرتے ہیں۔ گروپ کی 95فیصد پراڈکٹس دنیا بھر میں ایکسپورٹ کی جاتی ہیں ۔ یہ مصنوعات امریکہ، یورپ اور جنوبی امریکہ سمیت ہر جگہ جاتا ہے۔آج یہ کمپنی تیزی سے وسعت پذیر ہے اور 150ملین ڈالر سالانہ کی ایکسپورٹ کر رہی ہے۔ تما م پراڈکٹس میں ہوم ٹیکسٹائل کا شیئر سب سے زیادہ یعنی 100ملین ڈالر ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے برانڈپراڈکٹس کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور ’سو کمال ‘ کے نام سے فیشن کی دنیا میں انٹری دی ہے۔ کمپنی کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی فیملی کی تیسری نسل ہیں جو ٹیکسٹائل کے بزنس میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو یورپ سے ملنے والی جی ایس پی پلس کی سہولت نے ان کی کمپنی کی بڑھوتی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یورپ میں ان کا بزنس میں 30سے 40فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بلاشبہ جی ایس پی پلس کی سہولت پاکستان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ خاص طورپر گارمنٹس کے شعبے میں ترقی کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ ہوم ٹیکسٹائل میں ان کا گروپ لیڈ کررہا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ گارمنٹس کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے وسیع مواقع موجود ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش نے اسی شعبے میں ترقی کی اور دنیا بھر سے خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بنگلہ دیش میں دنیا بھر سے 200برانڈ گارمنٹس بنوا رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں محض 10بین الاقوامی برانڈز کے دفاتر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ویلیو ایڈیشن کی برآمدات کا حجم 6 بلین ڈالر سالانہ ہے جبکہ بنگلہ دیشن کی کل 32ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں گارمنٹس کا شیئر 28ارب ڈالر سالانہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی خریدار ازخود فیکٹری وزٹ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے سامنے کام ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرواسکیں۔ بین الاقوامی خریدار سیکورٹی خدشات کی بنا پاکستان آنے سے کتراتے ہیں اس لئے ہمیں آڑدرز بھی کم ملتے ہیں۔ میں وزیر خارجہ کو تجویز کیا ہے کہ ایکسپوز کے انعقاد کی بجائے وزارت خارجہ کو ٹارگٹ سیٹ کرنا چاہئے کہ وہ کم از کم 50بین الاقوامی برانڈ پاکستان لائے گی۔ ان میں گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور نٹ ویئر کے شعبوں کو فوقیت دینی چاہئے۔ میں کہتا ہوں کہ وزارت

تجارت میں ڈپلومیٹک انکلیو کے ساتھ بائرز انکلیو بھی ہونا چاہئے۔ انہیں بھی وی آئی پی ٹریٹمنٹ دینا چاہئے تاکہ پاکستان کی ایکسپورٹ میں بھی بنگلہ دیش کی طرح اضافہ ہو سکے۔ حال ہی میں ایک بین الاقوامی بائر نے اس لئے ہم سے مال خریدنا بند کردیا کہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسے ملک سے مال نہیں خریدیں گے جہاں وہ بآسانی سفر نہیں کر سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے کمرشل کونسلروں کو بین الاقوامی برانڈز کے مالکان سے ملاقاتیں کرنی چاہئے، اسی طرح ہمارے سفیروں اور وزیر تجارت کو بھی بین الاقوامی برانڈز بشمول ٹیسکو، ڈزنی اور وال مارٹ کے مالکان سے ملاقاتیں کرنی چاہئے اور پاکستان کے لئے بزنس لینا چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل میں انرجی کی پرائس پراڈکٹس کی قیمت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے ۔ مشینوں کو چلانے کے لئے، کپڑے کو سٹیم دینے کے لئے اور ہیٹنگ کے لئے قدم قدم پر بجلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ اپنی مل کے لئے گیس سے بجلی پیدا کرتے ہیں یا پھر واپڈا سے سپلائی لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری بجلی چوری نہیں کرتی اور بلوں کی 100فیصد ادائیگی کرتی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے ساڑھے تین روپے فی یونٹ کا چوری سرچارج لگا رکھا ہے۔ ایک یونٹ کی قیمت 10روپے ہے اور اس پرحالانکہ کسی کی چوری ٹیکسٹائل سے بھرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہوسکتا لیکن پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن جب میں بجلی کی قیمت اپنی پراڈکٹ کی قیمت میں جمع کرکے وال مارٹ کو قیمت بتاتا ہوں تو وہ اسے مہنگی پراڈکٹ قرار دے کر بنگلہ دیشن، انڈیا اور چین کی راہ لیتا ہے۔ ہم مقابلے کی اس دوڑ میں کسی طرح علاقائی ممالک سے نہیں جیت سکتے جب تک فی یونٹ بجلی کی مہنگی قیمت ہم سے وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت نے ان سے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے مجھے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگالینا چاہئے تاکہ سستی بجلی میسر آسکے لیکن میں سوچتا ہوں کہ پہلے تو کوئلے کو کراچی پورٹ سے فیصل آباد لانے پر 30فیصد سفری اخراجات برداشت کروں اور جب پلانٹ لگالوں تو پھر حکومت کوئلے پر کسٹم ڈیوٹی لگادے گی، اس لئے بہتر ہے یہ مصیبت نہ ہی پالی جائے۔ اس سے پہلے ہم تین مرتبہ بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ اپنی فیکٹریوں میں لگا چکے ہیں۔ پہلے حکومت نے ہم سے کہا کہ ڈیزل پر چلنے والے پلانٹ لگائیں، پھرپالیسی آگئی کہ فرنیس آئل پر پلانٹ لگائے جائیں کیونکہ انہوں نے اس پر ڈیوٹی کم کردی ہے اور تیسری مرتبہ انہوں نے بتایا کہ گیس وافر مقدار میں موجود ہوگی اس لئے گیس پر پلانٹ لگائیں ، جب ہم نے لگالئے تو آئین میں اٹھارویں ترمیم کردی گئی اور پتہ چلا کہ پنجاب کے لئے تو گیس ہی موجود نہیں ہے۔

انرجی کے بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری کا سب سے بڑا مسئلہ ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ری فنڈز کا ہے ۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا 35فیصد سرمایہ ری فنڈز کی شکل میں ایف بی آر کے پاس موجود ہے جو مختلف بہانوں سے اس کی ریلیز میں تاخیر ی حربے اختیار کئے رکھتی ہے۔ گزشتہ ایک برس سے انہوں نے انڈسٹری کے ری فنڈز کی پیمنٹ نہیں کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایکسپورٹ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا ہے لیکن حکومت نے ہمیں سیلز ٹیکس جمع کرنے پر لگادیا ہے۔ جولائی 2016سے اگرچہ انڈسٹری کو زیرو ریٹ کردیا گیا لیکن اس کے باوجود پیکنگ میٹیریل پر سیلز ٹیکس دینا پڑے گا جس کاکوئی ری فنڈ نہیں ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ بڑی سطح پر پاکستان بہتر پرفارم کر رہا ہے اور انڈسٹری کی شرح نمو بہتر رہی ہے لیکن ان میں اکثریت ایسی صنعتوں کی ہے جن کو پروٹیکش حاصل تھی ۔ مثال کے طور پر پاور سیکٹر کی کمپنیوں نے بہت اچھا پرفارم کیا کیونکہ انہیں سیدھا سیدھا 17فیصد منافع کی گارنٹی حکومت نے دی ہوئی ہے ۔ اسی طرح سے بینکوں نے بہت اچھے رزلٹ دیئے ہیں کیونکہ وہ ڈپازٹ اور لینڈنگ کے بیچ 6فیصد کا منافع کماتے ہیں۔ حکومت بینکوں، فرٹیلائزر اور آٹو موبائل کی صنعتوں کو پروٹیکشن دے رہی ہے لیکن ٹیکسٹائل انڈسٹری سے اوروں کی چوری کے عوض سرچارج وصول کر رہی ہے۔ حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ودہولڈنگ ایجنٹ بنا کر رکھ دیا ہے اور مجھے میری ہی رقم ایک سال بعد واپس کرتی ہے۔ چین میں سات دن کے اندر ری فنڈ کی رقم ادا ہوجاتی ہے اور پاکستان میں 14ماہ تک حکومت اس کی ادائیگی نہیں کرتی ہے۔ اوپر سے امن و امان کی صورت حال میں ابتری کی وجہ سے کسٹمر بھی پاکستان نہیں آتے ہیں ، اس کے برعکس ہمیں ٹریول کرنا پڑتا ہے جو ہمارے بزنس پر بوجھ کے مترادف ہے کیونکہ کمپنی اس ٹریولنگ کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔

اپنے بزنس میں وسعت دینے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں ویونگ کا ایک یونٹ لگایا ہے ، اس کے لانگ ٹرم فنانس فیسیلیٹی لی گئی تھی جو ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے بینک دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سپننگ یونٹ جو مال بناتے ہیں اسے گروپ کے اندر ہی استعمال میں لایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں بازار سے دھاگہ خریدنا پڑتا ہے کیونکہ ان کی سپننگ Capacity کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال قبل ان کی ایکسپورٹ موجودہ حجم سے آدھی تھیں ، حالات اگر سازگار رہے تو وہ اسے مزید ڈبل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ پاکستانی ٹیکسٹائل میں پراڈکشن اور لیبر چین کے مقابلے میں سستی ہے اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی چھوٹی سی فیکٹری کی حفاظت کے لئے 32سیکورٹی گارڈ رکھے ہوئے ہیں جبکہ چین میں ہم سے سو گنا بڑی فیکٹریوں میں ایک گارڈ نہیں ہوتا۔ جہاں اخراجات کا یہ عالم ہو وہاں چین سمیت دیگر ممالک سے مقابلہ کیسے کیاجا سکتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ان کا گروپ تین سال قبل ریٹیل بزنس میں آیااور خواتین کے لان کا برانڈ سوکمال کے نام متعارف کروایا ۔اس وقت پورے پنجاب میں 25سٹور کھلے ہوئے ہیں اور پنجاب سے باہر ان کا ایک بھی سٹور فی الحال نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کل ریونیو کا تین سے چار فیصد ریٹیل بزنس سے آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ریٹیل بزنس میں بڑھوتی کا انحصار اس پر ہے کہ حکومت کی پالیسیاں کیا رہتی ہیں ۔ اس وقت کوئی بھی ریٹیل منافع نہیں کما رہا ہے ، اس لئے کوئی بھی وسعت پذیر نہیں ہے۔ ریٹیل بزنس سمگلنگ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور مقامی مارکیٹ میں ہر طرف سمگلڈ پراڈکٹس کی بھرمار ہے ۔ ٹیکسٹائل انڈسڑی کی ایسوسی ایشن اپٹما تسلسل کے ساتھ وزارت تجارت کی توجہ اس جانب دلاتی رہتی ہے لیکن ابھی تک خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں اور فیصل آباد ، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی مارکیٹیں

ایسی سمگلڈ اشیاء سے بھری پڑی ہیں۔ ان کی موجودگی میں مقامی برانڈز بنانا اور ان کو پاپولر بنانا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے ۔ پاکستان میں برانڈ کا ریٹیل بزنس اس لئے فروغ پارہا ہے کہ بڑے مینوفیکچرر خود اس بزنس میں ہیں اور نقصان سہنے کی سکت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ان کے گروپ نے ہوم ٹیکسٹائل میں ریٹیل پراڈکٹس متعارف نہیں کروائی

ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ سٹورز کا کرایہ کل سیل کا آدھا ہے جو کہ دو سے تین دن کی سیل سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پراڈکٹ کی آن لائن سیل بھی بڑھ رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل کے فوری حل کی جانب توجہ دینی چاہئے تاکہ جی ایس پی پلس اوردیگر ایسی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان کی ترقی اس کی برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے ، خاص طورپر پاکستان کے پاس کپاس کی شکل میں خام مال موجود ہے اور یہاں لیبر سستی ہے ، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکومت ایسا سازگار ماحول دے جس میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...