باجے

باجے

باجے بجانے کے لئے ان میں ہوا بھری جاتی ہے، مگر بعض پرانے باجے خود بخود بجنے لگتے ہیں، جب تیز ہوائیں چلتی ہیں، ان باجوں کی نلکیوں اور نالیوں سے گزرتی ہیں تو ان میں سے بہت ساری چیخوں نما آوازیں نکلنے لگتی ہیں، یہ آوازیں کسی سر اور کسی تا ل کی محتاج نہیں ہوتیں، بے سری اور بھدی ہوتی ہیں اور موسیقی کے رموز سمجھنے والوں کو خاصا بدمزہ کرتی ہیں، پڑے پڑے بجنے والے باجے کباڑیوں کو دے دینے چاہئیں ورنہ جہاں یہ کسی کام کے نہیں ہوتے، وہاں یہ جگہ بھی گھیرتے ہیں ، ہاں، ان کا واحد مصرف یہ ہوتا ہے کہ انہیں بزرگوں کی نشانی اور آثار قدیمہ سمجھ کر رکھ لیا جائے، مگر اس کامطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ وقت ،بے وقت بجتے رہیں، کوئی ان میں پھونک بھرے یا نہ بھرے، وہ شور مچاتے رہیں۔

اب یہ محض اتفاق ہے کہ دو بہت ہی پرانی جماعتوں کے رہنماوں نے ایک ساتھ دو عجیب و غریب بیانات دئیے ہیں، پہلے تو اپنے حضرت سراج الحق ہیں جنہیں ایک جمہوری سیاسی کارکن سمجھتے ہوئے بہت امیدوں کے ساتھ سید منور حسن کی جگہ لایا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کے ارکان نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ موجود امیر سے بغاوت کی تھی اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہی سننے کو ملا تھا کہ امیر جماعت کے انتخاب میں دھاندلی ہوئی ہے۔ سید منور حسن نے بطور امیر اپنا عہدہ چھوڑتے ہوئے،سراج الحق کے حلف برداری کے موقعے پر منصورہ کے لان میں، جو تقریر کی تھی، اس میں انہوں نے جماعت اسلامی کے ہزاروں ارکان کی طرف سے ووٹ نہ ڈالنے کا شکوہ کیا تھا، اس شکوے کی تشریح کچھ باخبر دوستوں نے بہت مختلف انداز میں کی تھی، بہرحال، اس وقت سیاست او رجمہوریت کے ہمدرد اور ماہر اس وجہ سے خاموش رہے تھے کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے اندر سربراہ کی تبدیلی کا کافی حد تک جمہوری طریقہ کار موجود ہے اگرچہ یہ طریقہ کار بھی نامزدگی کے اصول کے تابع ہے، مگر ارکان اپنے ا س اختیار سے واقف ہیں کہ وہ نامزد تینوں ناموں سے ہٹ کر بھی ووٹ کی پرچی پر کسی دوسرے کانام لکھ سکتے ہیں۔خاموشی بنیادی طور پر سید منور حسن کے ان بیانات کی وجہ سے بھی تھی، جن میں انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف قربانیاں دینے والی ہماری پاک فوج کی شہادتوں کو متنازعہ بنایا تھا۔ وہ شدید دُکھ اور کرب کا لمحہ تھا کہ ہمارے بھائی اوربیٹے ہمیں چوکوں ، چوراہوں میں محفوظ رکھنے کے لئے ایسے شرپسندوں کے خلاف برسرپیکار تھے جنہوں نے اسلام کی تاریخ میں ابتدا سے ہی فساد برپا کئے رکھا، یہ سید صاحب کی طرف سے ان جیسوں کی حمایت تھی جنہوں نے صرف اللہ کا حکم ماننے کا نعرہ لگا کر حضرت عثمان غنی ؓ اور اس کے بعد شیر خدا حضرت علیؓ کو بھی شہید کیا، بلکہ بہت سارے تاریخی حوالوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جو اسلام کے ابتدائی دور میں عبداللہ بن سبا اور اس جیسے کچھ اور شرپسندوں کی قیادت میں جنگ جمل اور بعد میں جنگ صفین برپا کرنے کا بھی سبب بنے ورنہ حالات ایسے تھے کہ اسلامی تاریخ کی یہ دونوں مہلک ترین جنگیں آمنے سامنے آنے کے باوجود ٹالی جا سکتی تھیں۔

بات کہیں اور چلی گئی، اس تاریخی موضوع پر بات پھر کبھی سہی، بات تو اس بیان کی ہے جو جناب سراج الحق نے دیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے احتساب مکمل کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس پرانے اور سازشی نعرے کو کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے، جس کے تحت ہر دور میں مسترد شدہ رہنماوں نے سیاسی ، جمہوری اور انتخابی عمل کی راہ کھوٹی کرنے کی کوشش کی۔ مَیں ایوب خان سے ضیاء الحق اور وہاں سے پرویز مشرف کے دور تک کو دیکھتا ہوں تو ہر دور میں سیاست دانوں کے خلاف یہی نعرہ لگتا ہوا سنائی دیتا ہے اور اسی کی آڑ میں انتخابات کے انعقاد کو روکا جاتا ہے۔ماضی کے برعکس ،مَیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اورپاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے بیانات سنتا اور دیکھتا ہوں تو مجھے ان میں آئین اور جمہوریت کے ساتھ کمٹ منٹ ملتی ہے۔ ماضی میں انتخاب سے پہلے احتساب جیسے بیانات طالع آزماوں کی ایما پر دئیے جاتے تھے جب وہ اقتدا ر پر شب خون مارنے کے لئے تیار ہوتے تھے یامار چکے ہوتے تھے۔ جب ہماری فوجی قیادت ماضی کی غلطیوں کو دہرانے ا ور سب سے اہم قومی ادارے کو متنازعہ بنانے کے لئے تیار نہیں تو پھر پرانے، بے سرے باجے کیوں بج رہے ہیں۔ کیا اس وقت سیاسی ماحول میں چلنے والی تیز ہوائیں ان باجوں کو خود بخود بجا رہی ہیں ۔ مجھے محترم سراج الحق کی اس بات سے بھی اختلاف ہے کہ ملک میں نظریاتی، اخلاقی اور انتخابی کرپشن بھی عروج پر ہے ۔ یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ ملک میں ایک سیاسی جماعت اپنے سربراہ کے اقتدار سے محروم ہونے کے باوجود اپنے پیروں پر کھڑی ہے اور انتخابی کرپشن کی بات وہ کر رہے ہیں، جنہوں نے تازہ ترین ضمنی انتخاب میں ایک فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کئے۔

پیر صبغت اللہ راشدی جب سے پیر پگاڑہ بنے ہیں وہ سیاست میں اس حد تک متحرک نہیں ہیں جس حد تک پیر سید مردان علی شاہ تھے۔موجودہ پیرپگاڑہ یعنی پیر صبغت اللہ راشدی نے ممتاز بھٹو سے ملاقات کی اور بیان دیا کہ 2018ء میں الیکشن کروائے گئے تو خون خرابہ ہو گا۔مجھے پیر سید مردان علی شاہ یاد آ گئے، وہ اکثر لاہور تشریف لایا کرتے تھے اور صحافیوں کو دیدار بھی کروایا کرتے تھے۔نوابزادہ نصر اللہ خان سے نظریاتی اختلافات کے باوجود اچھی یاد االلہ تھی اور ان سے ملاقات بھی ہوجایا کرتی تھی۔وہ فیملی پلاننگ، جھاڑو پھرنے اور خون خرابے جیسی باتیں بہت کیا کرتے تھے اور اب پیر صبغت اللہ راشدی نے ان کی یاد تازہ کر دی ہے۔ پیر پگاڑہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ستاروں کی چالوں کو بھی بہت بہتر سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں ہمارے ایک سینئر صحافی اور اینکر پرسن بھی اپنی شہرت رکھتے ہیں، مگر انہوں نے عام انتخابات سے پہلے پیشین گوئی کی تھی کہ عمران خان کلین سویپ کر رہے ہیں، ستارہ شناسوں ہی کی طرف سے آج سے پانچ برس پہلے کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف کا ستارہ گردش میں ہے اور شہبا ز شریف کا عروج پر ہے، مگر اس وقت بھی نواز شریف ہی وزیراعظم بنے تھے۔اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کی فیملی کا ستارہ گردش میں ہے، مگر آج سے اٹھارہ برس پہلے یہ گردش کہیں زیادہ شدت کے ساتھ تھی۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ، پہلی یہ کہ ستاروں کے اشارے جیسے بھی ہوں، ان سے کہیں طاقتور اور بالاترقدرت کے فیصلے ہوتے ہیں اور دوسری یہ کہ عام انتخابات کے التواء کے لئے کچھ باجوں نے ماضی کی طرح اپنی اپنی آواز میں بجنا شروع کر دیا ہے۔ یہ باجے 2002ء میں بھی بجے تھے اور 2008 ء میں بھی، انہی باجوں نے2013ء میں بھی بہت شور مچایا تھا۔ یہ باجے ہمارے سیاسی ہی نہیں، بلکہ میڈیائی حلقوں میں بھی موجود ہیں اور ان میں سے ایک ایک باجا بج رہا تھا کہ اگلے انتخابات آئینی بنیادوں پر منعقد نہیں کئے جا سکتے کہ اس وقت مردم شماری ہو چکی ہے اوراس کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں ۔ ان حلقہ بندیوں کے لئے چار سے چھ ماہ کا وقت درکار ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حلقہ بندیاں ہمیشہ سے عدالتوں میں چیلنج ہوتی آ ئی ہیں اور اس کے بعد ان حلقہ بندیوں میں مزید تاخیر ہوجاتی ہے لہٰذا اگر پچھلے دو انتخابات مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے پرویز مشرف دور کی حلقہ بندیوں پر ہو سکتے ہیں تو نئی حلقہ بندیوں کا کام عام انتخابات کے بعد بھی پوری تسلی اور آرام کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

سیاستدان اگر بطور برادری سوچیں تو انہیں عام انتخابات کے وقت پر آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کے لئے کام کرنا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ایک حلقہ تصادم اور محاذ آرائی سے بچتے ہوئے سیاست کی گاڑی کو جمہوریت کی پٹڑی پر رواں دواں رکھنا چاہتا ہے مگر جب کچھ باجے بجنے لگتے ہیں تو اس سے خلجان پیدا ہوتا ہے۔ مجھے اپنی بات کو وہیں ختم کرنا ہے جہاں سے شروع کیا تھا کہ باجے اس وقت بجتے ہیں جب ان کی نلکیوں اور نالیوں میں ہوا داخل ہوتی ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اتنی بالغ نظر ہو چکی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ براہ راست ٹکراو کو اپنے لئے نقصان دہ سمجھتی ہے لہٰذا اگر اب وہ ان باجوں میں ہوا نہیں بھر رہی تو پھر کیا یہ پرانے بوسیدہ باجے محض تیز چلتی ہوئی ہوا میں اپنی موجودگی کا احساس د لانے کے لئے بے سری اور بے ڈھنگی آوازیں نکال رہے ہیں؟

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...