ہسپتالوں میں زیر علاج حاملہ خواتین کے زچگی سے قبل وارڈ چھوڑنے پر پابندی عائد، فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ایس او پیز جاری

ہسپتالوں میں زیر علاج حاملہ خواتین کے زچگی سے قبل وارڈ چھوڑنے پر پابندی ...

لاہور(جاوید اقبال، عدیل شجاع)صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں کے لیبر رومز اور گائنی وارڈوں میں زیر علاج حاملہ خواتین کو زچگی سے قبل وارڈ چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ایسی حاملہ خواتین جو زچگی کیلئے لیبر روم یا گائنی وارڈ میں داخل ہوں گی انہیں بچے کی پیدائش سے قبل وارڈ چھوڑنے یا کھانے کیلئے کینٹین پر جانے یا لیبر روم کے باہر بیٹھے اپنے عزیز اقارب کو ملنے یا لیبر پین کی صورت میں لیبر روم کے باہر واک کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ایس او پیز جاری کر دئے گئے ہیں اور آغاز سروسز ہسپتال لاہور میں گزشتہ روز سے ہی کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر ہسپتال آج سے اس کا آغاز کریں گے۔ اس امرکی تصدیق ایم ایس ڈاکٹر محمد امیر اور پرنسپل پروفیسر محمود ایاز نے کی اور بتایا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کروانے والے لیبر روم کی اون کال یونٹ کی کم سے کم رجسٹرار عہدے کی ڈاکٹر کو معطل کر دیا جائے گا۔حاملہ خواتین کو زچگی کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے سیکرٹری سپیشلائزڈ اینڈ ٹیچنگ ہیلتھ نجم احمد شاہ اور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ علی جان کی طرف سے علیحدہ علیحدہ ایس او پیز جاری کئے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ لیبر رومز کو مکمل طور پر فول پروف بنایا جائے جہاں ہر شفٹ میں معاملات کی نگرانی اور زچگی کی خاطر آنے والی خواتین کو معیاری اور فوری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہر شفٹ میں ایک ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا جائے جو کسی ایم او یا رجسٹرار کو بھی لگایا جا سکتا ہے ،یا وارڈ کی انچارج سسٹر کو بااختیار بنایا جائے جو ان معاملات کی نگرانی کرے اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ایسی حاملہ خواتین جو لیبر روم میں زچگی کیلئے داخل ہوتی ہیں انہیں سوائے کسی میڈیکل ایمر جنسی کے( جس میں وارڈیا کسی اور جگہ منتقل کرنا ضروری ہو) زچگی تک(بغیر کسی وجہ کے )لیبر روم سے باہر نہ جانے دیا جائے، اگر کوئی جائے تو اس کی نگرانی کی جائے ۔کوئی ڈاکٹر کسی حاملہ خاتون کو واک کر نے یا کھانا کھانے لیبر روم سے باہر نہیں بھیج سکتی ، ایسا کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تمام لیبر رومز کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں لیبر رومز کے داخلی اور خارجی راستوں پر ہر قسم کی تجاوزات ختم کی جائیں اور راستہ آسان بنایا جائے گیٹوں پر ویل چیئرز سریچر اور عملہ کو الرٹ رکھا جائے۔ اس حوالے سے صوبائی وزرائے صحت خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایس او پیز جاری کر دئے گئے ہیں، عملدرآمد کرنا ہر ہسپتال کے ایم ایس کی ذمہ داری ہو گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے کہ حاملہ خواتین کا ہسپتال میں باقاعدگی سے چیک اپ کروائیں اور لیبر پین شروع ہونے سے پہلے اپنے قریبی ہسپتال میں چیک اپ کروائیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...