کراچی ، مقابلے میں مارا جانے والا انصاف الشریعہ کا امیر عبد اللہ ہاشمی نکلا، خواجہ اظہار پر حملے کا ملزم بھی ہلاک

کراچی ، مقابلے میں مارا جانے والا انصاف الشریعہ کا امیر عبد اللہ ہاشمی نکلا، ...

کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) شہر قائدکراچی کے علاقے رئیس گوٹھ میں ہفتہ اور اتوارکی شب رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی میں مارے جانیوالے 8 دہشت گرد وں کی شناخت ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے رینجرز ہیڈکوارٹرز میں اتوار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان سندھ ر ینجرز کرنل فیصل نے بتایا ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات انصار الشریعہ کی موجودگی کی اطلاع پر کا ر روائی کی گئی، جس کے دوران خواجہ اظہار پر حملہ کرنیوالا ملز م ہلاک ہو گیا، انصار الشریعہ کے دہشتگرد عبد الکیریم سروش کے گھر چھاپہ مارا گیا تھا جس کے دوران وہاں سے موبائل، ویڈیو ریکارڈنگ ا ور ممنوعہ میٹریل برآمد ہوا۔ کرنل فیصل نے بتایا انصار الشریعہ کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں 6 سے 8 دہشتگرد شامل تھے، انصار الشریعہ نے القاعدہ سے نظریاتی طور پر منسلک ہونے کا اعلان بھی کیا تھا، جنہوں نے القاعدہ کے شدت پسند وں سے افغانستان میں ٹریننگ حاصل کی، گروہ میں15سے20اعلیٰ تعلیم یافتہ دہشت گرد شامل ہیں، تنظیم نے پہلی بار 21 مئی17 ء کو پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا پھر 23 جون کو 4 پولیس اہلکاروں کو افطار کے دوران شہید کیا، 28 اگست 17ء کو 2 ایف بی آر گارڈز کو شہید کیا گیا، انصار الشریعہ کی آخری کارروائی 2 ستمبر17ء کو سامنے آئی۔ترجمان نے بتایا اتوار کی رات ہلاک ہونیوالے 8 دہشتگردوں کی شنا خت ہو چکی ہے،جن میں انصار الشریعہ کا سرغنہ ڈاکٹر عبد اللہ ہاشمی اورکراچی میں ہونیوالی تمام دہشت گردانہ کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ شہر یار الدین وارثی بھی شامل ہیں، دیگر ہلاک دہشتگرد وں میں ارسلان بیگ افغانستان سے القاعدہ سے تربیت یافتہ تھا، تنظیم کے 4 اہم ارکان دانش ،جنید ،سروش اور مزمل ابھی مفر ور ہیں، مفرور دہشتگردوں کے جرائم کی فہرست بہت لمبی ہے، ان کی جانب سے کسی تعلیمی ادارے میں د ہشتگردی کے کوئی شواہد نہیں ملے، دہشت گردوں نے حساس مقامات کی بھی ریکی کر رکھی تھی لیکن اب انصار الشریعہ کی کراچی میں صلاحیت ختم ہو چکی ہے، سکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں جدید اسلحہ ، ریکارڈنگ ڈیوائسز اور ریکی کے آلات بر آ مد کئے ہیں، تنظیم کے مفرور دہشتگردوں کو بھی جلد قانون کی گرفت میں لائیں گے۔سندھ رینجرز کے کرنل فیصل اور ڈی آئی جی کاو نٹر ٹیر ر ا ز م ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) عامرفاروقی کامزید کہنا تھا کالعدم انصار الشریعہ کے دہشت گردوں کا پہلا ناکام حملہ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن پر کیا جانے والا حملہ تھا۔ اس دوران انصار الشریعہ کا ایک دہشت گرد پولیس یونیفارم پہن کر جائے وقوعہ پر موجود تھا۔ پولیس وردی پہننے کامطلب سکیورٹی اداروں پرالزام لگاناتھا، اگرپولیس کی وردی میں یہ حملہ کا میا ب ہوجاتاتوبڑانقصان ہوتا۔کارروائی خفیہ اداروں کی معلو ما ت پر کی گئی ، رینجرز کے کرنل فیصل کا کہنا تھا ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے بعد عبد الکریم سروش کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مار کارر و ا ئی کی گئی، چھاپامارکارروائی میں عبدالکریم سروش فرارہوا،عبدالکریم سروش کے گھر سے ملنے والے لیپ ٹاپ سے تفصیلات سامنے آ ئیں ۔ کر نل فیصل کا کہنا تھا مارے جانیوالے دہشت گرد افغانستان سے تربیت یافتہ تھے مگر ان کے گھر والوں کو بھی ان کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع نہیں تھی جبکہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ان دہشت گردوں کے رابطے نہیں تھے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچو ں پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ کس سے ملتے اور کہاں اٹھتے بیٹھتے ہیں تاکہ کوئی دہشت گرد گروہ ہمارے بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال نہ کر سکے۔

انصار الشریعہ

 

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...