سو گھنٹے گزر گئے کوئی فارورڈ بلاک سامنے نہ آیا ریاض پیرزادہ تنہا کھڑے ہیں

سو گھنٹے گزر گئے کوئی فارورڈ بلاک سامنے نہ آیا ریاض پیرزادہ تنہا کھڑے ہیں

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ایک سو گھنٹے سے زیادہ گزر گئے لیکن ’’سینئر صحافی‘‘ کا یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا کہ مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بن جائے گا ابھی تک تو صرف ریاض پیرزادہ تن تنہا کھڑے ہیں اور کوئی دوسرا ان کے ساتھ نہیں۔ میر ظفر اللہ جمالی تو ویسے ہی پارٹی چھوڑ گئے ہوئے ہیں وہ تو فارورڈ بلاک کیلئے ’’کوالیفائی‘‘ نہیں کرتے اب انہوں نے ویسے بھی کہہ دیا ہے کہ نوازشریف ان کے لیڈر نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ ان سے سینئر ہیں ویسے سیاستدانوں میں اس طرح کی سینیارٹی نہیں ہوتی جیسی مثلاً سرکاری ملازمتوں میں ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پیپلز پارٹی میں سارے سفید بالوں والے اس وقت بلاول بھٹو کی چیئرمین شپ میں کام نہ کر رہے ہوتے، ان کے دور میں جن سینئر حضرات نے پارٹی چھوڑی ان کے سر کے بال اور مونچھیں اگرچہ سفید تھیں لیکن پارٹی چھوڑنے کی وجوہ مختلف تھیں۔ اس سے بھی پہلے جب بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ کی جگہ پیپلز پارٹی کی چیئرمین شپ سنبھالی تو پارٹی کے سارے انکلز ان کی قیادت میں کام کرتے رہے، یہ الگ بات ہے کہ جنہوں نے اپنی الگ جماعتیں بنائیں وہ نہ چل سکیں لیکن انہوں نے بھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ سیاست میں بے نظیر بھٹو سے سینئر ہیں اس لئے انہیں لیڈر نہیں مان سکتے۔ بلاول تو بہت عرصے سے پارٹی کی لیڈر شپ سنبھالے ہوئے ہیں۔ میر ظفراللہ جمالی بھی اس وقت غالباً پیپلز پارٹی میں شامل تھے جب محترمہ اس کی چیئرمین تھیں۔ ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے کبھی کہا ہو کہ انہیں لیڈر نہیں مانتا کیونکہ وہ ان سے جونیئر ہیں ویسے یہ تو ابھی کل کی بات ہے انہوں نے جنرل پرویزمشرف کو نہ صرف لیڈر مانے رکھا بلکہ انہیں ’’ہزاروں مرتبہ‘‘ باس بھی تسلیم کیا اور ایک بار بھی نہیں کہا کہ جنرل پرویز مشرف ان سے جونیئر ہیں۔ ویسے میر ظفر اللہ جمالی سے بہتر کون جانتا ہے کہ بلوچستان میں قبیلے کے سردار کے انتقال یا اس کی ریٹائرمنٹ پر اس کے بڑے بیٹے کو سردار بنایا جاتا ہے اور پورا قبیلہ اس نوجوان سردار کی سرداری کو تسلیم کرتا ہے۔ تو خیر ہمیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ میر ظفراللہ جمالی، نوازشریف کو لیڈر تسلیم کریں یا نہ کریں، ویسے معلوم نہیں انہیں کس حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں چلے جائیں۔ مسلم لیگ (ق) نے انہیں وزیراعظم بنایا تھا، اس لئے سچی بات ہے ہمیں یہ اچھا نہیں لگا کہ جب اقتدار مسلم لیگ (ق) کے پاس نہ رہا تو وہ اسے داغ مفارقت دے گئے، انہیں چودھری صاحبان کے ساتھ ہی رہنا چاہئے تھا۔ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو ضرور ہوتا کہ اب انہیں مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو نہ چھوڑنا پڑتا۔ دراصل بات شروع ہوئی تھی اس سینئر صحافی سے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 72 گھنٹوں میں مسلم لیگ (ن) کا ایک ایسا فارورڈ بلاک سامنے آ جائے گا جس میں 80 ارکان ہوں گے، ہم نے چاروں طرف نظر دوڑائی تو ہمیں ریاض پیرزادہ کے ساتھ کوئی فارورڈ بلاک کھڑا نظر نہیں آیا، اب معلوم نہیں یہ دعویٰ کرنے والے کے پاس کوئی ٹھوس معلومات بھی تھیں یا انہوں نے بہت سے دوسرے اینکروں کی طرح یہ ’’پتنگ بازی‘‘ بغیر کسی ثبوت کے کردی تھی کیونکہ اگر زمین پر کسی فارورڈ بلاک کا وجود ہوتا اسی نہیں تو دوچار حضرات تو ضرور سامنے آتے۔ جہاں تک پارٹی کے اندر اختلافات کا تعلق ہے وہ موجود ہیں‘ شہبازشریف کو اختلافات ہیں، حمزہ بھی تسلیم کرچکے ہیں، چودھری نثار تو عرصے سے اپنے اختلافات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، بلکہ وہ تو جب وزیر داخلہ تھے اپنے اختلافات کے اظہار کیلئے دوچار دن یا زیادہ عرصے کیلئے منظر سے غائب ہو جاتے تھے، پھر واپس آکر ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے اور لوگوں کو باور کراتے کہ وہ سیاستدان ہیں اور اپنے ذہن سے سوچ کر سیاست کرتے ہیں یہاں تک کہ جب شیخ رشید نے انہیں کہا کہ وہ پارٹی چھوڑ دیں تو انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ شیخ رشید کے مشوروں پر سیاست نہیں کرتے۔ جو لوگ فارورڈ بلاک کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ جلد بازی نہ کریں اور حالات کو اپنا فطری رخ اختیار کرنے دیں، مارے باندھے کی سیاست سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ دو روز پہلے لاہور میں ایک اجلاس میں بعض سیاستدان شریک تھے ان میں سے ایک نے اس تجزیہ نگار کو بتایا کہ فارورڈ بلاک کے بارے میں جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں وہ بہت زیادہ مبالغہ آمیز ہیں، عین ممکن ہے سیاسی اختلافات اس نہج تک نہ پہنچیں کہ کسی فارورڈ بلاک کی نوبت آئے، ویسے بھی انتخابات میں اب بہت زیادہ وقت نہیں رہ گیا اس لئے جن سیاستدانوں نے الیکشن لڑنا ہے وہ اپنی اگلی سیاسی سمت کا تعین اور سود و زیاں کاحساب لگائے بغیر فارورڈ بلاک کا احمقانہ فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ عمران خان اگر نوازشریف اور آصف علی زرداری کے خلاف زبردست حملے کررہے ہیں تو جواب میں پیپلز پارٹی بھی انہیں معاف نہیں کر رہی اور اگلے انتخابات تک یہ ساری چاند ماری یونہی جاری رہے گی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے ایک نئی دھمکی دے دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے ارکان قومی و سندھ اسمبلی اور سینیٹر بیک وقت مستعفی ہوسکتے ہیں کیونکہ پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کیلئے ان کے ارکان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اگرچہ فاروق ستار نے یہ کہہ تو دیا ہے لیکن لگتا نہیں ہے کہ ان کے ارکان عملاً استعفے بھی دیں گے کیونکہ ماضی میں متعدد بار ایسا ہوچکا کہ استعفے دے کر واپس لے لئے گئے، شاید انہی استعفوں کی گرد جھاڑ کر دوبارہ کام میں لایا جائے کیونکہ لگتا نہیں ہے کوئی رکن فاروق ستار کے کہنے پر مستعفی ہوگا البتہ سیاسی مقاصد کیلئے ایسے اعلانات پہلے کی طرح ہوتے رہیں گے۔

سو گھنٹے گزر گئے

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...