این ایل سی کے ذریعے ترقیاتی منصوبے بر وقت مکمل کئے جائیں : پرویز خٹک

این ایل سی کے ذریعے ترقیاتی منصوبے بر وقت مکمل کئے جائیں : پرویز خٹک

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے نیشنل لاجسٹک سیل کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی ہے کہ این ایل سی کو مطلوبہ معاونت بروقت فراہم کی جائے اور این ایل سی طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق سکیموں پر پیش رفت یقینی بنائے ۔ عوامی مفاد کے تحت جاری سکیموں میں تاخیر اور تساہل کی گنجائش نہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ پی کے 24مردان سے رکن صوبائی اسمبلی زاہد درانی جبکہ صوبائی محکموں بلدیات اور اعلیٰ تعلیم کے حکام اور نیشنل لاجسٹک سیل کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں مردان ، پشاور اور نوشہرہ میں نیشنل لاجسٹک سیل کے ذریعے زیر تعمیر منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شیخ ملتون ٹاؤن مردان میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے منصوبے کے پہلے فیز پر کام شروع ہے جس کی مجوزہ لاگت 337.12ملین روپے جبکہ مدت تکمیل ایک سال ہے۔ 48فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ شیخ ملتون میں سیور لائن کا کٹائی کا کام 61فیصد ہو چکا ہے۔ بھرائی اور پائپ بچھانے کا کام بھی تیز رفتاری سے جاری ہے۔ بعض مقامات پر کچی زمین اور شدید بارشوں کی وجہ سے کام متاثر ہوا اور کام دوبارہ کرنا پڑا۔ اس طرح پرانی سیور لائن سے نکلنے والا پانی بھی مشکلات پیدا کرتا ہے جو کام میں تاخیر کا باعث ہے۔ وزیر اعلیٰ نے رکاوٹیں دور کرکے کام کی رفتار تیز کر نے کی ہدایت کی ضلع مردان میں نئی سکیموں کے حوالے سے بتایا گیا کہ جواد چوک میں فلائی اوور کی تعمیر، کاٹلنگ بائی پاس روڈ اور چارسدہ چوک فلائی اوور پر بھی کام شروع ہے تاہم بجلی لائن ، کھمبے اور بعض مقامات پر تجاوزات کام میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو تمام یو ٹیلیٹیز منتقل کرکے سائٹ کلیئر کرنے کی ہدایت کی تاکہ کام میں رکاوٹ نہ آئے۔ مردان میگا پارک کا ڈیزائن مکمل ہے جلد کام شروع کر دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے 15نومبر تک سروس روڈ پبی پر بھی کام مکمل کرنے کی ہدایت کی انہوں نے واضح کیا کہ فٹ پاتھ اور دیگر لوازمات سمیت تمام کام مطلوبہ معیارکے مطابق مکمل ہونا چاہئے ۔ رنگ روڈ چارسدہ کے 14کلو میٹر طویل سروس روڈ پر بھی کام شروع ہے تاہم پیر زکوڑی پل کے بعد والی جگہ کلیئر نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ سائٹ کا دورہ کرکے جگہ کلیئر کریں اور باقی سکیم پر کام تیز کریں۔ وزیر اعلیٰ نے پیر زکوڑی اوورہیڈ پل کا نقشہ فوری مکمل کرکے این ایل سی کے حوالے کرنے اور ورک آرڈر جاری کرنے کی ہدایت کی۔ پرویز خٹک نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے این ایل سی اور متعلقہ محکموں کے مابین باہمی ربط و تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ مفاد عامہ کے تحت حکومتی سکیموں پر پیش رفت نظر آنی چاہئے۔

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبے میں زیر تعمیر وہ تمام کالجز جو تکمیل کے مراحل میں ہیں، اُن کی ایس این ایزتیار کرنے جبکہ مکمل ہوجانے والے کالجز کو فعال بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2017-18 کے تحت سکولوں کی تعمیر کیلئے مطلوبہ اخراجات کا کیس تیار کرکے بھیجنے ، زیر تعمیر سکولوں اور سکولوں کی اپ گریڈیشن پر کام کی رفتار تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان ، مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اوردیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں کالجز اور پرائمری سکولوں کی تعمیر ، سکولوں کی پرائمری سے مڈل اور ہائی سے ہائیر سیکنڈری اپ گریڈیشن پر کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جو کالجز مکمل ہوتے جائیں اُنکی ایس این ایز بھی بروقت مکمل ہونی چاہئیں اور کالجز حقیقی معنوں میں فعال ہونے چاہئیں۔اس سلسلے میں مطلوبہ تقاضے تیز رفتاری سے پورے کئے جائیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام2017-18 کے تحت زیر تعمیر پرائمری سکولوں میں سے 75 فیصد مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 450 سکول دسمبر تک مکمل ہو جائیں گے ۔وسائل کی بروقت فراہمی کی صورت میں تمام پرائمری سکول مکمل کئے جا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں مطلوبہ اخراجات کا کیس طلب کرتے ہوئے کام تیز رفتاری کے ساتھ جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تعلیم کا شعبہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شروع دن سے سرفہرست رہا ہے ۔ صوبہ بھر میں زیر تعمیر سکولوں اور کالجوں کا معیار یقینی بنایا جائے اور مکمل ہوجانے والے تعلیمی اداروں کی بلاتاخیر فعالیت کیلئے بروقت اقدامات ہونے چاہئیں۔

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوابی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت پلاٹس کی فراہمی کے عمل میں بد عنوانی کی شفاف انکوائری کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ زیادتی کا تدارک ہو اورکسی سے ناانصافی نہ ہو ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پلاٹس کی فراہمی میں میرٹ کی خلاف ورزی کی بنیاد کیا تھی کس سے کہاں کمزوری یا غلطی سرزد ہوئی ۔واضح تعین ہونا چاہیئے۔ یہ کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ شفاف انکوائری مکمل کرکے عدالت کو بھیجیں تاکہ ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جاسکے اور ناانصافی کا تدار ک ممکن ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اتھارٹی کے تحت جاری کاموں کو نہ روکیں ۔ کام رک جائے تو عوام کو نقصان ہوتا ہے البتہ غلطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کریں ۔شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے نگرانی ضروری ہے۔انکوائری اپنی جگہ ہونی چاہیئے لیکن اُس کے ساتھ لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی ضروری ہے۔وزیراعلیٰ نے سکولوں ، کالجوں ، ہسپتالوں ، اری گیشن اور مساجد میں شمسی توانائی کے نظام کو دیر پا اور معیاری بنانے کی بھی ہدایت کی ۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سیکرٹریز کو نوٹ لکھیں کہ متعلقہ سائٹس کا دورہ کریں کہیں اگر کمزوری ہوتو اُس کا تدارک کریں۔شمسی سسٹم کا معیار چیک کریں کیونکہ اس کی عمر 30 سال ہو تی ہے۔اگر 10 سال پرانا سسٹم لیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ اُس کی عمر 20 سال باقی ہے۔اسلئے نئے سولر پینل کی تنصیب یقینی بنائی جائے تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔

مزید : کراچی صفحہ اول