وسیب کے لوگوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی ترک کی جائے‘ سرائیکستان عوامی اتحاد

وسیب کے لوگوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی ترک کی جائے‘ سرائیکستان عوامی اتحاد

ملتان (سٹی رپورٹر)جماعت اسلامی فیصلہ کرے کہ وہ بہاول پور صوبے کی حامی ہے یا سرائیکی صوبے کی ، وسیب کے لوگوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی ترک کی جائے۔ان خیالات کااظہار(بقیہ نمبر40صفحہ7پر )

سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماخواجہ غلام فرید کوریجہ ، پروفیسر شوکت مغل ، عاشق بزدار ، مسیح اللہ خان جامپوری ،رانا محمد فراز نون ،ظہور دھریجہ ، ملک اللہ نواز وینس ، عابدہ بخاری ، مظہرعباس کات ،مخدوم اکبر شاہ اور علامہ اقبال وسیم نے بہاول پور میں جماعت اسلامی کی ریلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے بہاول پور صوبے کے نام پر نکالی گئی ریلی میں قلیل لوگ شریک ہوئے اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو اس لئے بلایا گیا تھا کہ کسان بورڈ کی طرف سے کپاس کے نرخ میں اضافے کیلئے احتجاجی ریلی ہے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے ملتان میں واضح طور پر سرائیکی صوبے کی حمایت کی تھی اور وہ خود پشتون قومی شناخت کے سب سے بڑے داعی ہیں اس لئے وہ سرائیکی شناخت کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر وسیم اختر ان کے برعکس ہمیشہ سرائیکی صوبے کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت سرائیکی صوبے کے ساتھ بہاول پور صوبہ بنانا چاہتی ہے تو اس پر اعتراض نہیں لیکن حکمرانوں نے اپنے گماشتوں کے ذریعے سرائیکی قوم کو آپس میں لڑانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس میں ہم مذمت کرتے ہیں۔ سرائیکی رہنماؤں نے جمشید دستی کے دوغلے پن کے بارے میں کہا کہ ایک طرف اس نے اسمبلی میں سرائیکی صوبے کا بل پیش کر رکھا ہے دوسری طرف وہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی بات کرتے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سرائیکی قوم اور سرائیکی وسیب کے ساتھ اس طرح کے مذاق ختم ہونے چاہئیں۔

سرائیکستان عوامی اتحاد

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...